Daily Mashriq

آخر کس سے فریاد کی جائے

آخر کس سے فریاد کی جائے

پشاور میں دوروز سے جاری تیز بارش کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب کے ناقص انتظام کے باعث پانی کھڑا ہو گیا۔جب بھی تیز بارش ہوتی ہے یہ علاقے تالاب کامنظر پیش کرنے لگتے ہیں لیکن سال ہاسال گزر جانے کے باوجود نکاسی آب کا نظام بہتر بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے لوگوں کو اذیت نا ک صورت حال سے دوچار ہونا پڑتاہے۔ لوگوں نے یہ بھی شکایت کی ہے جب بھی تیز بارش یاآندھی آتی ہے اس کے ساتھ ہی بجلی بھی غائب ہوجاتی ہے۔لہٰذا نکاسی آب کا نظام بہتر بنانے کیساتھ ساتھ بجلی کا نظام بھی بہتر بنایاجائے۔پشاور شہر میں نکاسی آب کا نظام پہلے سے ہی متاثر تھا لیکن بی آر ٹی کے ادھورے منصوبے کے باعث صورتحال مزید خرابی کا شکار ہے۔ گلبہار اور ریڈیو پاکستان پشاور کے سامنے سیلابی بہائو کاجو رخ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے اس کو دیکھ کر یہ خدشہ پیداہوگیا ہے کہ کسی دن کوئی اس پانی میں ڈوب نہ مرے یا یہ پانی کسی کو بہا کر نہ لے جائے۔ جوں جوں اس صورتحال کی نشاندہی ہوتی رہی اورحکومت پر منصوبہ بندی کے ساتھ تعمیراتی و ترقیاتی کام اور خاص طور پر سڑکوں کی تعمیر میں برسات کے پانی کی نکاسی کے لئے خصوصی اقدامات پرزور دیاگیا۔ اسی تناسب سے غفلت اور غلطیوں کا ارتکاب سامنے آیا۔ سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت میں ہر آنے اور جانے والی کسی حکومت کو اس مسئلے کی شدت کا احساس کیوں نہیں ہوتا اور اس سنگین سے سنگین تر ہوتے مسئلے سے عوام کو نجات دلانے کے لئے کیوں اقدامات نہیں کئے جاتے۔ اس طرح کی صورتحال کے اثرات بھی عوام کے لئے وبال جان بن جاتے ہیں۔ بارشوں کا سیلابی پانی جب بہہ جاتا ہے تو پیچھے گٹروں سے نکلا بدبو دار کیچڑ سڑکوں پر آجاتا ہے جسے بروقت ہٹانے کی زحمت نہیں کی جاتی۔ کیچڑ پر گاڑیاں گزرنے سے یہ مزید پھیل جاتا ہے اور جلد خشک ہو کر دھول بن کر اڑنے لگتا ہے۔ آخر کس کس مسئلے کو رویا جائے اور کس سے فریاد کی جائے۔ چیف جسٹس اگر اپنے دورہ پشاور میں یہ منظر دیکھتے تو حکومت کی کارکردگی بارے ان کے خیالات مزید سخت ہوتے۔

متعلقہ خبریں