Daily Mashriq


منصف' تعریف و تنقید سے بالاتر

منصف' تعریف و تنقید سے بالاتر

آنجہانی مسٹر جسٹس کارنیلئس' سابق چیف جسٹس آف پاکستان' کی اس رولنگ کا ذکر شاید اس سے پہلے بھی انہی کالموں میں کیا جا چکا ہے کہ ''ججوں کی تعریف بھی توہین عدالت ہے۔'' حکمت اس میں یہ ہے کہ منصف کے فیصلے اس کے اپنے فیصلے نہیں ہوتے۔ وہ آئین اور قانون کے فیصلے ہوتے ہیں اس لیے ان منصفوں کے حوالے سے نہ ان پر تنقید جائز ہے اور نہ ان کی تعریف بجا ہے۔ ان پر تنقید دراصل قانون اور آئین پر حرف زنی ہوتی ہے اور ان کی تعریف بھی دراصل قانون کی سربلندی ہوتی ہے ان کی اپنی نہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے منصف تعریف اور تنقید سے بالاتر ہوتے ہیں۔ وہ کسی کی پسند یا ناپسند سے بالا تر محض آئین اور قانون کی روشنی میں فیصلے دیتے ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے گزشتہ روز پشاور اور چارسدہ میں ایسے ہی خیالات کا اظہار کیاجب انہوں نے اس بات پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ بعض اشتہارات میں ججوں کی تصویریں شائع کی گئیں۔ چیف جسٹس نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ آجکل سپریم کورٹ کے ساتھ یک جہتی کا رجحان سامنے آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''بہت رومانس دکھایا جا رہا ہے'' ۔ انہوںنے یہ واضح کر دیا کہ سپریم کورٹ کو کسی حمایت کی ضرورت نہیں۔ عدالتوں کے فیصلے کسی کی خواہش کے خلاف جاتے ہیں اور کسی کے حق میں۔ لیکن عدالتیں یہ فیصلے اس لیے نہیں دیتیں کہ کسی کو پسند آئیں گے یا کسی کو ناپسند ہوں گے۔ عدالتیں قانون کے مطابق فیصلے دیتی ہیں اور یہی عدالتوں کا منصب ہے۔ عدالتوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار عدالتوں کے ساتھ فریق ہونے کا اظہار ہے جب کہ عدالتیں فریق نہیں ہوتیں ، کسی کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتیں بلکہ محض قانون کے مطابق فیصلے دیتی ہیں اور اس طرح آئین اور قانون کی بالادستی کو تسلیم کرنے والا سارا معاشرہ عدالتوں کے ساتھ فریق ہوتا ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شمار کیے جانے چاہئیں جنہیں عدالتوں کے فیصلے پسند نہیں آتے کیونکہ بالآخر انہیں یہ فیصلے اس لیے تسلیم کرنے ہوتے ہیں کہ یہ فیصلے آئین اور قانون کے فیصلے ہوتے ہیں ججوں کی پسند اور ناپسند کے فیصلے نہیں ہوتے۔ اعلیٰ عدالتوں کے منصف کسی پسند ناپسند سے بالاتر ہو کر محض آئین اور قانون کے پابند ہوتے ہیں۔ انہیں کسی کے اظہارِ یک جہتی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے چارسدہ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سالہا سال تک مقدمات کے فیصلے نہیں ہو پاتے۔ انہوں نے کہا ہے کہ قوانین فرسودہ ہو جاتے ہیں اور انہیں وقت کے تقاضوں کے مطابق نہیں ڈھالا جاتا اس لیے قانون میں موجود گنجائشوں کے سہارے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے جہاں ایک طرف وکلاء برادری کو مخاطب کیا ہے کہ وہ مقدمات کے جلد فیصل ہونے میں اپنا کردار اداکریں وہاں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ قوانین کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ کام پارلیمنٹ کا ہے۔ پارلیمنٹ ایسی ترامیم کرے جن کے باعث مقدمات میں تاخیر نہ ہو تو عدالتیں ان قوانین کے مطابق کام کریں گی۔ چیف جسٹس چند روز پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ قوانین بنانا عدالتوں کا کام نہیں ہے ۔ عدالتیں قوانین کے مطابق ہی فیصلے دے سکتی ہیں۔ یہ مسلمہ اصول ہے اس سے سب واقف ہیں اس کے باوجود کہا جا رہا ہے کہ عدالتوں میں کئی لاکھ مقدمات زیرِ التواء ہیں ' عدالتوں کو چاہیے کہ پہلے ان مقدمات کو نمٹایا جائے۔ یہ بات ایسے کہی جا رہی ہے جیسے یہ طعنہ دیا جا رہا ہو۔ لیکن عدالتوں میں اگر مقدمات زیر ِ التواء ہیں تو وہ عدالتوںکی مرضی سے نہیں بلکہ اس وجہ سے زیرِ التواء ہیں کہ قوانین میں اس التواء کی گنجائش ہے۔ اور قوانین کو تقاضوں کے مطابق بنانا ، ان میں ترامیم کرنا یا ان کی جگہ نئے قوانین لانا پارلیمنٹ کا کام ہے ۔ دراصل پارلیمنٹ کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ نہ صرف قوانین کی خالق ہے بلکہ انتظامیہ پر نگران بھی ہے۔ لیکن انتظامیہ ہمارے ملک میں جس طرح کام کرتی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اس کا مواخذہ پارلیمنٹ کا فرض ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں 64فیصد یا بعض اندازوں کے مطابق 80فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں جو وسیلہ زندگی ہے۔ اور زندگی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ انتظامیہ یعنی حکومت نے اس طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ نہ وفاقی حکومت نے اور نہ ہی صوبائی حکومتوں نے۔اسی طرح صحت اور تعلیم پر انسان کا بنیادی حق ہے اور آئین پاکستان کی رو سے بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت سپریم کورٹ کے فرائض میں شامل ہے۔ اسی لیے چیف جسٹس پینے کے صاف پانی ' صحت اور تعلیم کی سہولیات پر توجہ دے رہے ہیں۔ ان کے پشاور کے دورے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ صوبہ میں صاف پانی کے ٹیسٹ کے لیے کوئی مناسب لیبارٹری ہی نہیں۔ چیف جسٹس نے متعلقہ ذمہ دار افسر سے جب یہ سوال کیا کہ صوبے بھر میں صاف پانی کے ٹیسٹ کے لیے جب کوئی لیبارٹری ہی نہیں تو وہ کیسے یہ اندازہ کرتے ہیں کہ پینے کے لیے صاف پانی مہیا کیا جا رہا ہے تو اس افسر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ صوبائی اسمبلی اور صوبائی حکومت اس صورت حال سے بے خبر یا بے پروا رہی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار ملک بھر میں بنیادی حقوق کی فراہمی پر جو توجہ دے رہے ہیں وہ ان کی آئینی ذمہ داری ہے اور وہ نہ اس کے لیے تعریف کے خواہاں ہیں ، نہ اس پر تنقید کا کوئی جواز ہے۔ بلکہ اس کے برعکس حکومتوں' منتخب اداروں اور عوام کو ان خامیوں پر متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ توجہ اس لیے دی جا رہی ہے کہ پارلیمنٹ اور حکومتوں نے ان امور کی طرف توجہ نہیں دی ۔ سپریم کورٹ کے ساتھ اظہار یک جہتی کا کریڈٹ لینے کی بجائے متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں