Daily Mashriq


ووٹ کس کو دیں ؟

ووٹ کس کو دیں ؟

میں آج کل جب بھی گھر ، گلی محلہ ، دفتر دکان ، کھیت کھلیان ، حجرہ ،چوپال ، ٹیکسی بس الغرض جہاں کہیں دو آدمیوں سے ملتا ہوں تو علیک سلیک اور حال احوال پوچھنے کے بعد ہلکے پھلکے انداز میں ایک آسان سا سوال کر لیتا ہوں ''ووٹ کس کو دینگے '' اس کے جواب میں جو کچھ سننے کو ملتا ہے وہ دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ تعجب خیز ، حیرت انگیز اور عبرت خیز بھی ہے ۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جو تھوڑا بہت سیاسی شعور اور دوچار جماعت یادسویں جماعت کی تعلیم کے حامل ہوتے ہیں اور باپ دادااور خاندانی تعلقات کی بنیاد پر کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں ۔ وہ تو فوراً اپنی جماعت یا رہنماکا نام لے کر کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا ووٹ تو جدی پُشتی فلاں کے لئے ہے ۔ اس فہرست میں اے این پی ، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کا یہ نظریاتی ووٹ بہت کھرا اور پکا ہوتا ہے ۔ دنیا ادھر سے اُدھر ہو جائے مجال ہے کہ اُس کے عزم و فکر میں کوئی جنبش آئے ۔۔ اگرچہ بعض اوقات اس قسم کی خبریں بھی سننے کو مل جاتی ہیں کہ فلاں نے اپنی سیاسی جماعت کو خیر باد کہہ کر فلاں جماعت میں شمولیت اختیار کر لی ، لیکن اس قسم کے لوگ درحقیقت نظریاتی نہیں ہوتے اور وہ کسی مقصد مفاد ، مجبوری یا وقتی ہیجان و ردعمل میں آئے ہوتے ہیں ۔ دوسری قسم میں وہ لوگ ہوتے ہیں اور ان کی اچھی خاصی اکثریت ہے جوان پڑھ ، سیاسی شعور سے عاری عام دیہاتی ، مزدور اور غریب لوگ ہوتے ہیں ۔ اُن کا ووٹ بدلتا رہتا ہے ۔ اس قسم کا ووٹ عام طور پر انتخابی امیدواروں یااُن کے فرنٹ مینوں اور ایجنٹس وغیرہ کے ذریعے کبھی کچھ نقدی ، قرض ، بیٹے بھائی کی کلاس فور وغیرہ کی نوکری ، آٹے کی تھیلی ہینڈ پمپ ، سائیکل او رٹیوب ویل وغیرہ کے بدلے ڈال دیا جاتا ہے ۔

تیسری قسم میں وہ مجبورو لاچار لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگی اور شب وروز کا دارومدار اور انحصار خان وڈیرہ ، سائیں ، چودھری سردار اور گائوں علاقے کے کٹر پنچ پر ہوتا ہے ، انتخابات کے دن ان بے چاروں کو ٹریکٹر کی ٹرالیوں ، پک اپس اور لاریوں میں ڈور ڈنگر وں کی طرح بھر بھر کر پولنگ سٹیشن پہنچا یا جاتا ہے ۔ ووٹ ڈلوانے سے پہلے ان بڑے لوگوں کے حجروں اور ڈیروں پر چاول کی پکی دیگیں قطار درقطار تیارر کھی ہوتی ہیں اور ان کو اُس دن خوب پیٹ بھر کر چاول کھلانے کے بعد انتخابی نشان یاد کرا کرا کر باقاعدہ ریہرسل کرائی جاتی ہے کہ ٹھپہ کیسے اور کہا ں لگانا ہے اس قسم کے بے چارے لوگ میرے سوال کے جواب میں اپنی ٹھیٹ مادری دیہاتی زبان میں گویا ہوتے ہیں کہ ''اب میں اپنے آقا ومرشد و مالک وخان و ڈیرے سے کہاں جا سکتا ہوں '' اگران بے چاروں میں سے کوئی وڈیرے کے حکم سے انحراف کا مرتکب پایا جاتا ہے تو اُس پر زمین تنگ ہو جاتی ہے ۔ ہمارے وطن عزیز میں کوئی ان وڈیروں اور جاگیرداروں کے زور بازو کا اندازہ کر سکتا ہے ۔

مجبوروں، لاچاروں اور مظلوموں کی ایک اور قسم مریدوں اور معتقدوں کی ہے ۔ یہ ووٹ بھی ہمارے ملک میں کافی تعداد میں موجود ہونے کے علاوہ اس حد تک پابند ہے کہ اپنے پیر و مرشد کو ووٹ نہ دینے کو گناہ اوردینے کو عبادت سمجھتے ہیں ، اگرچہ ان کے پیر قومی یا صوبائی اسمبلی میں پانچ برس کی مدت میں ایک دفعہ بھی پوائنٹ آف آرڈر پر کھڑے ہو کر اپنے ہی حلقے اور عوام کی بھلائی کی کوئی بات بھی نہ کرسکیں ۔۔ ایک اور قسم کا ووٹ عموماً مخالفت اور ردعمل میں پڑتا ہے ۔ کسی ایک ایم پی اے اور وزیر سے کسی کام کے لئے کہا جاتا ہے ۔ اُس کے نہ ہونے پر پختون ووٹر بر ملا کہتا ہے ''بچیہ گورو بہ ''(بچو ! دیکھیں گے ) انتخابات پھر آرہے ہیں اور اسی غصے میں وہ ایک ایسے امیدوار کوووٹ دے دیتا ہے جسے وہ پسند نہیں کرتا ، لیکن ہمارے ہاں بغض معاویہ توچلا آرہا ہے نا ۔ ووٹر ز کی آخری قسم وہ ہے جو تقریباً ساری سیاسی جماعتوں اوراُن کے رہنمائوں سے سخت بے زارہے اور زبان زدعام یہ بات کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد دوبارہ امیدوار کی شکل وصورت تب نظر آتی ہے جب دوبارہ انتخابات کے دن قریب آتے ہیں ۔ بعض ستم ظریف تو یہاں تک بھی کہتے سننے پائے گئے کہ ا یم پی ایز اور منسٹر ز ہمیں اپنیشکل بے شک نہ دکھائیں لیکن اپنے حلقے میں کم از کم اُ ن کا موں کا پچاس فیصد تو کروالیں جن کا انتخابی جلسوں میں جم غفیر کے سامنے وعدہ کیا تھا ۔ لیکن منتخب نمائندے ہیں کہ اُن کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ ان لوگوں سے بات کرتے ہوئے راقم سطور عرض کئے دیتا ہے کہ جب تک پاکستان میں تعلیمی شرح نوے فیصد تک نہیں پہنچتی اور جاگیرداری نظام کا خاتمہ نہیں ہوپاتا ۔ تب تک یہی سلسلہ چلتا رہے گا کہ زرو زمین اور پیرو مرشد اسمبلیوں میں بیٹھیں رہیں گے اور عوام اپنی قسمت اور زندگی پر ماتم کرتے رہیں گے ۔افسوس ایسی جمہوریت پر جس میں گھوڑوں کی طرح نہیں کہ گھوڑا بہت مبارک جانور ہے ، گدھوں کی طرح بکتے ہیں اس لئے عوام پوچھتی ہے کہ آخرکوئی بقراط بتائیں نا کہ ووٹ کس کو دیں ؟ ۔

متعلقہ خبریں