Daily Mashriq

سینیٹ انتخابات پر اٹھتے سوال اور ان کا حل

سینیٹ انتخابات پر اٹھتے سوال اور ان کا حل

سینیٹ انتخابات کے حوالے سے صداقت اور امانت کے اصولوں کی جو دھجیاں اڑائی گئی ہیں ان کے ساتھ ساتھ الراشی والمرتشی '' والے اصول وضوابط پر بھی نظر ڈالی جائے تو خرید و فروخت میں ملوث دونوں طبقے اپنے اپنے کردار کا جائزہ لیں اور پھر بتائیں کہ انہوں نے کیا ظلم کیا ہے نہ صرف اپنے اوپر بلکہ اس بدنصیب قوم پر بھی جن کو گزشتہ 70سال سے سیاست کے نام پر لوٹا جارہا ہے ، تحریک انصاف کے چیئر مین کا یہ اعتراف کہ انہیں بھی ایک سینیٹر بنانے کیلئے 45کروڑ روپے کی پیشکش ہوئی ۔ ان کی اس بات میں بھی وزن ہو سکتا ہے کہ دوسری جماعتوں کے قائدین کو بھی اسی طرح کی آفر ہوتی رہی ہوںگی ۔ انہوں نے بقول انکے اپنی جماعت کے 20ارکان کے خلاف تو ایکشن لیتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کر دیئے ہیں ، حالانکہ متعلقہ اراکین اسمبلی میں سے اکثر نے نہ صرف الزامات کی تردید کی ہے بلکہ بعض نے تو ان کی جماعت سے تعلق ہی سے انکار کردیا ہے اور ان میں سے کچھ نے ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کا اعلان بھی کردیا ہے تاہم اس سارے ہنگامے نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے سینیٹ چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین کے انتخا ب کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات پر کیا مہر تصدیق ثبت نہیں کردی ہے اورکیا اب چیف الیکشن کمشنر کو اس صورتحال کا نوٹس لیکر سینیٹ انتخابات کو کالعدم قرار نہیں دینا چاہیئے ؟ کیونکہ ویسے بھی عمران خان نے ہارس ٹریڈنگ میںملوث ارکان اسمبلی کے خلاف نیب کو کیس بھجوانے کا عندیہ دیدیا ہے ، اور اگر چیف الیکشن کمشنر آنکھیں بند کرتے ہیں تو محترم چیف جسٹس کو اس صورتحال کا از خود نوٹس لیکر اس مسئلے کو فطری انجام تک پہنچانے کی درخواست بھی کی جاسکتی ہے ، جو مختلف صوبوں میں ان دنوں صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھا اٹھا کر عوام کے مفاد کا تحفظ کر رہے ہیں ، جبکہ یہ معاملہ تو قوم کے آنے والے چھ سال کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور جو لوگ ووٹ خرید کر ایوان بالا میں ''نقب لگانے میں '' کامیاب ہوگئے ہیں انہوں نے اگلے چھ سال تک عوام کے حقوق کا کیا تحفظ کرنا ہے اس پر کوئی دورائے نہیں ہو سکتیں ۔ محترم چیف جسٹس نے گزشتہ روز چارسدہ میں جوڈیشل کمپلیکس میں منعقد ہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ عوام کی خاطر سوموٹو ایکشن لینا ضروری ہے ۔ اب اس سے زیادہ اہم بات جو عوام کے مفاد میں ہواور کیا ہو سکتی ہے ، کیونکہ جو لوگ 45کروڑ خرچ کر کے ایوان بالا میں پہنچے انہوں نے اگلے چھ برس میں کروڑوں تو کیا اربوں کھربوں کمانے ہیں ،سوال صرف بکنے والوں کا نہیں بلکہ خریداروں کا بھی ہے جو کروڑوں خرچ کر کے آنے والے سالوں میں اس قوم کے لوٹنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے ۔ اس صورتحال پر پاکستان کے تین اہم صحافیوں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، حامد میر نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ عمران خان نے ان ایم پی ایز کے خلاف ایکشن لیا جنہوں نے پی پی پی کو ووٹ بیچا لیکن عمران خان نے خود بھی سینیٹ میں پی پی پی کے ساتھ مک مکا کیا اور سینیٹ الیکشن کو صاف شفاف قرار دیا ، اس اقدام پر ان کی تعریفوں کی بجائے ایسی منافقت پر سخت سوالات ہونے چاہئیں ۔ اسی طرح مرتضیٰ سولنگی نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کے ارکان ووٹ بیچیں تو غلط لیکن اگر چودھری سرور ووٹ خریدے تو صحیح ۔ اگر پی ٹی آئی ارکان اپنے ووٹ بیچیں تو غلط اگر عمران خان اپنے سارے ووٹ سرکار اور پی پی کے حوالے کر دے تو حلال ، یوتھیائی منطق !! ایک اور اہم صحافی اور اینکر نصرت جاوید نے جو تجزیہ تحریر کیا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ اگر عمران خان کے پاس اپنے ممبران اسمبلی کے خلاف ثبوت ہیں تو احتساب کی بجائے سپریم کورٹ کیوں نہیں جاتے سیدھا ان کو نااہل کروانے ، پھران لوگوں کے ووٹ سے جو سینیٹر ز ہیں ان کی بھی باری آنی چاہیئے ۔ ان کو F/62کی شق کے تحت عمر بھر کیلئے نااہل کروادیں ۔ ان تجزیوں پر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ

محل کے سامنے اک شور تھا قیامت کا

امیر شہر کو اونچا سنائی دیتا ہے

سینیٹ کے حالیہ انتخابات دراصل ایک ایسا ''حمام '' بن چکے ہیں جس میںلگ بھگ ہر جماعت (ایک آدھ کوچھوڑ کر ) بے لباس دکھائی دے رہی ہے ، اور صورتحال کاتقاضا یہی ہے کہ جتنی بھی جماعتیں کسی نہ کسی طور ہار س ٹریڈنگ میں ملوث ہیں ، وہ اپنے اپنے گھوڑوں کو سامنے لا کر ان کے چہروں سے نقاب سرکا دیں بلکہ ان لوگوں کو بھی سامنے لائیں جنہوں نے کروڑوں کے عوض ارکان کے ضمیروں کے سودے کرکے ان سے ووٹ خریدے ، اور نہ صرف ان کے کیس نیب کے حوالے کردیں بلکہ الیکشن کمیشن سے رجوع کر کے انتخابات کو کالعدم قرار دلوائیں ۔ کیونکہ جو لوگ دولت کے بل بوتے پر سینیٹ پہنچ گئے ہیں وہ نہ صرف یہ رقم پوری کرنے کیلئے خود اگلے چھ بر س تک ''قابل فروخت '' کی تختیاں اپنے سینوں پر سجا کر بکائو رہیں گے بلکہ انہوں نے عوام کو لوٹنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا ۔ اور عوام اسی طرح ظلم وجور کی چکی میں پستے رہیں گے ۔ حیرت ہے کہ ایک جانب عمران خان ملک بھر میں ایمانداری اور دیانتداری کے دعوے کرتے ہوئے کرپشن کے خلاف بلند آہنگ دعوے کر رہے ہیں ،مگر دوسری جانب خود اپنے اراکین کی خرید و فروخت میں بھی ملوث ہیں ۔

قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ

رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

متعلقہ خبریں