Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

مخزن ا خلاق میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک بادشاہ نے حج کا ارادہ کیا۔ ارکان دولت سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا بادشاہ مثل جان کے ہے اور سلطنت مثل جسم کے ہے جس وقت بادشاہ کا سایہ ملک سے اٹھ جائے گا تو بہت سی خرابیاں واقع ہوں گی۔ لہٰذا بادشاہ کو حج پر نہیں جانا چاہئے۔بادشاہ نے پوچھا اچھا! تو اب حج کا ثواب کیسے حاصل کیاجاسکتا ہے؟ ارکان نے کہا اس شہر میں ایک بزرگ ہیں جو ساٹھ حج کر چکے ہیں اور گوشتہ تنہائی میں بیٹھے ہیں۔ ممکن ہے کہ ہ ایک حج کا ثواب آ پ کے ہاتھ فروخت کردیں۔ بادشاہ فقیر کی خدمت میں گیا اور اپنا مدعا پیش کیا' فقیر نے ساری بات سن کر کہا کہ میں اپنے تمام حج آپ کے ہاتھ فروخت کرتا ہوں۔بادشاہ نے پوچھا ہر حج کی کیا قیمت لو گے؟ کہا ہر حج کے لئے جو قدم میں نے اٹھایا ہے تمام دنیا کی قیمت کے برابر ہے' بادشاہ نے کہا میرے قبضے میں تو دنیا کا تھوڑا سا ملک ہے اور آپ ایک قدم کی اتنی قیمت مانگتے ہیں تو پھر کیسے معاملہ ہوسکتا ہے؟درویش نے کہا اے بادشاہ! میرے تمام حجوں کی قیمت آپ کے نزدیک بہت آسان ہے اور وہ اس طرح کہ کسی مظلوم کی تم نے داد رسی کی ہے' اس وقت کے عدل کا ثواب تم مجھ کو دے دو' میں اپنے ساٹھ حجوں کا ثواب تم کودے دوں گا' نتیجہ یہ کہ بادشاہ کاعدل عبادت سے کئی گنا بہتر ہے۔

 (مخزن صفحہ نمبر454)

نوشیرواں عادل کے زمانے میں ایک ظالم نے ایک کمزور کو طمانچہ مارا' نوشیرواں نے اس کی گردن اڑا دی۔ ایک قریبی دوست نے کہا: تھوڑی سی خطا پر ایسی سخت سزا؟ نوشیرواں نے کہا: میں نے ایک آدمی کو نہیں مارا بلکہ ایک بھیڑئیے کو قتل کیا ہے تاکہ لوگ اس سے محفوظ رہیں۔ ایک روز یزید رقاشی حضرت عمر بن عبدالعزیز  کے پاس گئے تو حضرت عمر  نے انہیں کوئی نصیحت کرنے کو کہا ۔ انہوں نے فرمایا: اے امیرالمومنین ! آپ پہلے خلیفہ نہیں ہیں جومریں گے ۔ آپ سے پہلے بھی کئی خلیفہ گزرے ہیں ، جو وفات پاچکے ہیں ۔ یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز روئے اور مزید نصیحت کرنے کو کہا ۔ انہوں نے فرمایا : اے امیرالمومنین ! آپ اور آپ کے داد ا حضرت آدم  کے درمیان جتنے باپ ہیں ، ان میں اس وقت کوئی زندہ نہیں ۔ عمر پھر روئے اور مزید نصیحت کی درخواست کی تو فرمایا : جنت اور دوزخ کے درمیان اور کوئی منزل نہیں ۔ یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز  بے ہوش ہو کر گر پڑے اور کافی دیر تک بے ہوش رہے۔ (اولیاء اللہ  کے اخلاق صفحہ 43)

حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک صحابی کو کسی شخص نے بکری کی سری ہدیہ کے طور پر دی ۔ انہوں نے خیال کیا کہ ان کے فلاں ساتھی زیادہ ضرورت مند ہیں ، اس لئے ان کے پاس سری بھیج دی ۔ ان کو ایک تیسرے ساتھی کے متعلق یہی خیال ہوا اور انہوں نے وہ سری تیسرے ساتھی کے پاس بھیج دی ۔ غرض اسی طرح سات گھروں میں پھر کر وہ سری سب سے پہلے والے اصحابی کے گھر لوٹ آئی ۔  (مخزن )

متعلقہ خبریں