Daily Mashriq

سری لنکا: دھماکوں کے الزام میں 13 افراد گرفتار

سری لنکا: دھماکوں کے الزام میں 13 افراد گرفتار

سری لنکا میں ایسٹر کے روز ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے الزام میں اب تک 13 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 290 افراد ہلاک جبکہ 500 افراد زخمی ہوگئے تھے، دھماکوں میں مسیحی عبادت گاہوں اور ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

سری لنکن حکام نے بم دھماکوں کے فوری بعد لگایا جانے والا مختصر کرفیو پیر کی صبح اٹھالیا تاہم اب تک کسی بھی گروہ یا تنظیم نے ان منظم دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

دھماکوں کے بعد مذہب کی بنیاد پر فسادات کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا، پولیس کے مطابق اتوار کی رات کو شمال مغربی علاقے میں ایک مسجد پر پیٹرول بم حملہ کیا گیا جبکہ مسلمان افراد کی 2 دکانوں کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔

دوسری جانب سری لنکن وزیراعظم رانیل وکراما سنگھے نے اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت کو پہلے ہی ایک غیر معروف مسلمان گروہ کی جانب سے مسیحی عبادت گاہوں پر متوقع حملے کی اطلاع مل گئی تھی لیکن ان کے وزرا نے انہیں اس بارے میں آگاہ نہیں کیا۔

پولیس ذرائع نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کولمبو میں 2 مقامات سے اب تک 13 افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہ بتاتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ گرفتار ملزمان کا تعلق ایک ہی گروہ سے ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 8 میں سے کم از کم 2 دھماکے خودکش تھے جبکہ ایک مکان پر چھاپہ مار کر دھماکا خیز مواد ناکارہ بنانے کی کوشش میں بھی 3 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

حکام نے بتایا کہ دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں 32 غیر ملکی شامل ہیں جن میں 5 بھارتی، 3 برطانوی، 2 ترکی اور ایک پرتگال کا شہری جبکہ 2 افراد کے پاس برطانیہ اور امریکا دونوں ممالک کا پاسپورٹ تھا۔

اس کے علاوہ سری لنکن دفتر خارجہ کے حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ 9 غیر ملکی افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم 25 ایسے افراد کی لاشیں بھی موجود ہیں جن کی اب تک شناخت نہیں ہوسکی اور ممکنہ طور پر وہ غیر ملکی ہیں۔

اس ضمن میں پولیس ترجمان روان گناسیکرا نے بتایا کہ پولیس اس حوالے سے تحقیقات کررہی ہے کہ آیا تمام دھماکوں کی نوعیت خود کش تھی یا نہیں۔

قبل ازیں سری لنکن حکومت کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ دھماکوں میں غیر ملکی عناصر کے ملوث ہونے کے حوالے سے بھی تفتیش کی جائے گی۔

دوسری جانب وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ عارضی طور پر معطل کی جانے والی سماجی روابط کی ویب سائٹس کو اس وقت تک بند رکھا جائے گا جب تک حکومت مسیحی عبادت گاہوں اور ہوٹلوں میں ہونے والے بم دھماکوں کی تفتیش میں کسی نتیجے تک نہیں پہنچ جاتی۔

مذکورہ دھماکوں نے سری لنکا میں 26 سال تک جاری رہنے والی پر تشدد خانہ جنگی کے بدترین دور کی یاد تازہ کردی جس میں تامل باغیوں نے بدھ اکثریت کے حامل ملک سے آزادی کے لیے بغاوت کی تھی، خیال رہے کہ تامل قوم میں ہندو، مسلمان اور مسیحی افراد شامل ہیں۔

سری لنکا میں مسیحی آبادی

ان حملوں میں سب سے بڑی یکسانیت یہ سامنے آئی ہے کہ ان میں تامل مسیحی افراد کو نشانہ بنایا گیا۔

کولمبو بندرگاہ کے نزدیک ایک اجتماع گاہ میں قائم سینٹ انتھونی کیتھولک چرچ پہلا مقام تھا جہاں دھماکا ہوا اور اس وقت بڑی تعداد میں تامل افراد وہاں کا رخ کررہے تھے۔

جس کے بعد کولمبو سے 35 کلومیٹر دور اور سیاحوں میں مقبول مقام نیگومبو میں قائم چرچ سینٹ سیبسٹین اور اس کے بعد کریسچیئن زائن کو حملے کا نشانہ بنایا گیا، اس علاقے میں بیشتر تامل اور مسلمان آباد ہیں۔

خیال رہے کہ سری لنکا میں بدھ مذہب کو ماننے والوں کی اکثریت ہے اور بہت کم تعداد میں کیتھولک آباد ہیں لیکن مذہب نسل کے اعتبار سے متحد کرنے والی قوت ہے کیوں کہ وہاں آباد مسیحیوں میں تامل اور سنہالہ دونوں اقوام کے افراد شامل ہیں۔

سری لنکا میں 200 گرجا گھروں اور مسیحی تنظیموں کی نمائندگی کرنے والی جماعت نیشنل کریسچیئن ایونجیلک الائنس آف سری لنکا (این سی ای اے ایس ایل) کے مطابق گزشتہ برس مسیحیوں کے خلاف دھمکے، تشدد اور امتیازی سلوک کے تقریباً 86 مصدقہ واقعات رونما ہوئے۔

دوسری جانب اس برس این سی ای اے ایس ایل اب تک ایسے 26 واقعات ریکارڈ کرچکی ہے جس میں سے 25 مارچ کو رونما ہونے والے واقعے میں ایک بدھ راہب نے مبینہ طور پر اتوار کو ہونے والی مذہبی تقریب کو خراب کرنے کی کوشش کی تھی۔

2012 میں کی گئی مردم شماری کے مطابق سری لنکا کی کل آبادی تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جس میں 70 فیصد بدھ مت مذہب کے پیروکار، 12 فیصد ہندو، 9.7 فیصد مسلمان اور 7.6 فیصد مسیحی افراد شامل ہیں۔

2018 میں سری لنکا میں انسانی حقوق کے حوالے سے ایک رپورٹ میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے نشاندہی کی تھی کہ کچھ مسیحی گروہوں اور ان کی عبادت گاہوں کی جانب سے یہ بات سامنے آئی کہ حکام کی جانب سے ان کے مذہبی اجتماع کو ’غیر قانونی‘ اجتماعات قرار دے کر عبادت روکنے کی کوشش بھی کی گئی۔

متعلقہ خبریں