Daily Mashriq

مہنگائی روکنے کی خواہش

مہنگائی روکنے کی خواہش

اسلام آباد میں ہونے والے مختلف اجلاسوں میں جن کی صدارت وزیراعظم عمران خان نے کی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ رمضان میں عوام کو بھرپور ریلیف فراہم کیا جائے، اطلاعات ونشریات کیلئے وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں اہم قومی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور تمام وزارتوں کو اہداف دیئے گئے جبکہ نئی اقتصادی ٹیم کو ذمہ داریاں بھی سونپ دی گئیں، اقتصادی ٹیم کو وزیراعظم نے یہ باور کرایا کہ کس طریقے سے 22کروڑ عوام کی توقعات کو پورا کرنا ہے اور کس طرح انہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی سمیت دیگر مشکلات سے نکالنے کیلئے حکمت عملی تیار کرنی ہے۔ اپوزیشن کے حوالے سے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اپوزیشن کے بغیر پارلیمنٹ اور جمہوریت چل نہیں سکتی لیکن اگر اپوشین پارلیمنٹ کو ہائی جیک کرے گی تو کئی مسائل جنم لیں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلیں اور خواہش ہے کہ اپوزیشن عوامی مسائل کیلئے مثبت تجاویز دے۔ جہاں تک اقتصادی ٹیم کو اہداف دینے اور عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کا تعلق ہے یہ خواہش یقیناً مثبت انداز فکر کی علامت ہے تاہم نہایت افسوس کیساتھ عرض کرنا پڑتا ہے کہ زمینی حقائق اس قسم کی کسی خواہش کی تکمیل میں ممد ومعاون نہیں ہوسکتے۔ اس کا اندازہ ایک اور خبر سے لگایا جا سکتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضے کے حصول کیلئے حکومت 600ارب کے نئے ٹیکس لگانے پر آمادہ ہوچکی ہے اور دفاعی بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی، حکومت کی جانب سے آنے والا بجٹ 24مئی کو پیش کئے جانے کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں اور ظاہر ہے آئی ایم ایف کیساتھ اگر معاملات طے کرنے ہیں تو پھر 600ارب کے نئے ٹیکس ظاہر ہے پاکستانی عوام ہی سے حاصل کرنے پڑیں گے، دفاعی بجٹ میں کمی کے بارے میں کوئی بھی محب وطن پاکستانی سوچ تک نہیں سکتا کیونکہ ہمیں ازل ہی سے ایک مکار دشمن کا سامنا ہے جو ہمارے وجود اور سلامتی ہی کے درپے ہے اور اب بھی وہ قدم قدم پر ہمارے خلاف سازشیں کرتا رہتا ہے، اس لئے 600ارب کے نئے ٹیکس بالواسطہ اور بلاواسطہ ہر دو طریقوں سے عوام ہی کو برداشت کرنے ہوں گے، ایسی صورت میں عوام کو ریلیف دینے کی باتیں خواب اور سراب ہی ہوں گی، بہرحال وزیراعظم کی نئی اقتصادی ٹیم کیلئے یہ ایک کڑا امتحان ہی ہے کہ وہ کس طرح اتنے بھاری بھر کم ٹیکس لگاتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے اور انہیں مہنگائی سے محفوظ رکھنے کی حکمت عملی اختیار کرتی ہے، البتہ جہاں تک اپوزیشن کیساتھ ورکنگ ریلیشن کا تعلق ہے تو اب تک اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آسکی بلکہ وہ خاموشی سے حکومتی کارکردگی دیکھ رہی ہے جبکہ یہ حکومت ہی ہے جو اب بھی بقول اپوزیشن رہنماؤں کے کنٹینر سیاست کر رہی ہے اور اپوزیشن سے تعاون کیلئے کوئی عملی اقدام نظر نہیں آتے۔ اس لئے بہتر ہے کہ حکومت خود اپنی کارکردگی پر نظر ڈالے اور اپوزیشن پر الزامات لگانے سے ہاتھ کھینچتے ہوئے ملکی معاملات چلانے کیلئے دست تعاون بڑھائے، اُمید ہے اپوزیشن حکومت کو مایوس نہیں کرے گی کہ جمہوریت کی گاڑی کے دونوں پہئے یعنی حکومت اور اپوزیشن باہم مل کر ہی ملک کو بحران سے نکال سکتے ہیں۔

گل بہار میں پھر ٹوٹ پھوٹ

پشاور کے اہم علاقے گل بہارکالونی میں گزشتہ دوسال تک تعمیر کئے جانے والے نکاسی آب کے نالے پر لگائی گئی لوہے کی ٹاکیاں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں اور کمزور گیج کا لوہا استعمال کرنے کی وجہ سے یہ جالی دار ٹاکیاں ٹریفک کے بوجھ سے اندر دھنس کر سڑک میں کھڈے بنانے کا باعث بن گئی ہیں اور اب آنے جانے والی ٹریفک ان سے بچنے کی کوشش میں کسی بھی وقت خطرناک حادثات جنم لے سکتے ہیں۔ گل بہار کے عوام نے وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال پر توجہ دیں اور پورے معاملے کا جائزہ لیکر ناقص میٹریل استعمال کرنے والوں کیخلاف تادیبی کارروائی کریں، خصوصاً جن بلدیاتی نمائندوں یا متعلقہ سرکاری اہلکاروں نے ’’سب اچھا‘‘ کا سرٹیفکیٹ جاری کر کے ٹھیکیداروں کو صوبائی خزانے سے بل منظور کروا کر رقم جیب میں ڈالی ہے، ان تمام کیخلاف انکوائری کروا کرکمزور آہنی چادر کی جگہ مضبوط گیج والی طاقتور آہنی جالیوں کی ٹاکیاں دوبارہ نصب کر کے ٹریفک کیلئے آسانیاں فراہم کرنے پر مجبور کیا جائے تاکہ آئندہ کسی کو بھی یوں قومی خزانہ لوٹنے کی جرأت نہ ہو سکے۔ اُمید ہے صوبائی وزیربلدیات اس بارے میں جلد کوئی اقدام کریں گے۔

متعلقہ خبریں