Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت یوسف بن حسینؒ فرماتے ہیں: ’’میں نے حضرت سیدنا ذوالنون مصریؒ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’ ایک مرتبہ میں لبنان کی پہاڑیوں میں رات کے وقت سفر پر تھا‘ چلتے چلتے مجھے ایک درخت نظر آیا جس کے قریب ایک خیمہ نما جھونپڑی تھی۔ یکا یک اس جھونپڑی سے ایک حسین و جمیل نوجوان نے اپنا چاند جیسا نورانی چہرہ باہر نکالا اورکہنے لگا : ’’ اے میرے پروردگار! میرا دل ہر حال میں (چاہے خوشی ہو یا غمی) اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ تیری ہی ذات ایسی ہے جو تمام صفات کمالیہ سے متصف ہے (یعنی تمام فضیلتیں اور عظمتیں تیرے ہی لئے ہیں) میرا دل اس بات کی گواہی کیوں نہ دے حالانکہ میرے دل میں تیرے سوااور کسی کی محبت سمائی ہی نہیں۔ میں تو بس تجھ ہی سے محبت کرتا ہوں‘ افسوس! صد افسوس! ان لوگوں پر جنہوں نے تجھ سے محبت نہ کی اور کوتاہی کرتے رہے۔‘‘

پھر اس نوجوان نے اپنا نورانی چہرہ جھونپڑی میں داخل کرلیا۔ میں اس کی باتیں سن کر بڑا حیران ہوا اور مجھے اس کی باتیں بھول گئیں۔

میں وہیں حیران و پریشان کھڑا رہا۔ یہاں تک کہ فجر کا وقت ہوگیا‘ اس نوجوان نے پھر اپنا نورانی چہرہ جھونپڑی سے باہر نکالا اور چاند کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا: ’’اے میرے معبود حقیقی! تیرے ہی نور سے زمین و آسمان روشن ہیں‘ تیرا ہی نور اندھیروں کو ختم کرتا ہے اور اسی سے ہر جگہ اجالا ہوتا ہے۔ حضرت سید نا ذوالنون مصریؒ فرماتے ہیں: ’’ جب میں نے نوجوان کی یہ باتیں سنیں تو مجھ سے نہ رہا گیا اور میں اس کے پاس گیا‘ اسے سلام کیا‘ اس نے جواب دیا‘ میں نے کہا: ’’اے نوجوان! خدا تجھ پر رحم فرمائے۔ میں تجھ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ ‘‘ نوجوان نے کہا: نہیں‘ تو مجھ سے سوال نہ کر۔‘‘ میں نے کہا: ’’ تو مجھے سوال کرنے سے کیوں منع کررہا ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’ اس لئے کہ ابھی تک میرے دل سے تیرا رعب نہیں نکلا‘ میں ابھی تک تجھ سے خوفزدہ ہوں۔‘‘ میں نے کہا: ’’ اے نیک سیرت نوجوان! میں نے ایسی کونسی حرکت کی جس نے تجھے خوفزدہ کردیا ہے؟‘‘ وہ نوجوان کہنے لگا : ’’ تم کام (یعنی عبادت) کے دنوں میں بے کار پھر رہے ہو اور آخرت کی تیاری کے لئے کچھ بھی عمل نہیں کر رہے‘ اے ذوالنون مصری تم نے صرف اچھے گمان پر تکیہ کیا ہوا ہے۔‘‘

حضرت ذوالنون مصریؒ فرماتے ہیں: ’’ میں اس نوجوان کی یہ باتیں سن کر بے ہوش ہوگیا اور زمین پر گر پڑا۔ میں کافی دیر بے ہوش رہا‘ پھر سورج کی تیز دھوپ کی وجہ سے مجھے ہوش آیا۔ میں نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو بڑا حیران ہو کہ اب میرے سامنے نہ تو کوئی درخت ہے‘ نہ جھونپڑی اور نہ ہی وہ نوجوان۔ یہ سب چیزیں نہ جانے کہاں غائب ہوگئیں۔ میں کافی دیر اسی طرح حیران و پریشان وہاں کھڑا رہا‘ اس نوجوان کی باتیں اب تک میرے دل و دماغ میں گھوم رہی ہیں‘ پھر میں اپنے سفر پر روانہ ہوگیا۔

متعلقہ خبریں