Daily Mashriq

معاشرے میں بگاڑ کے بنیادی اسباب

معاشرے میں بگاڑ کے بنیادی اسباب

دنیا میں نبیؐ کی بعثت اور تشریف آوری سے قبل کم وبیش دنیا کے سارے معاشرے فسادزدہ ہو کر بگاڑ کے شکار ہو چکے تھے۔ جزیرہ نما عرب بالخصوص بطحاء (مکہ مکرمہ وحجاز) اور مدینہ طیبہ (یثرب) اگرچہ مشرک اور بعض دیگر معاشرتی برائیوں (سود اور قبائلی افتخار) کی بنیاد پر جنگوں میں بری طرح ملوث تھے۔ جنگ حجاز اور جنگ بعاث اُس زمانہ جاہلیت کی یادگار جنگیں ہیں جس نے انسانیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا۔ نبی رحمتؐ نے تئیس برس کے مختصر وقت میں جو مثالی معاشرہ قائم فرمایا اس کے طفیل آج بھی کہیں انفرادی اور کہیں اجتماعی اصلاح کی مثالیں موجود ہیں اور اس کیساتھ ہی دعوت وتبلیغ کے ذریعے دنیا کے ہر کونے میں یہ کوششیں گزشتہ ڈیڑھ دو صدیوں سے برابر جاری ہیں، لیکن یہ بات اب تقریباً طے ہوچکی ہے کہ اس وقت پوری دنیا بہرحال ایک دفعہ پھر فساد وبگاڑ سے دوچار ہے۔اگرچہ مغربی دنیا میں بگاڑ فساد کے اسباب کچھ الگ ہیں اور اسلامی دنیا کے الگ۔ لیکن کم وبیش بحیثیت مجموعی اس وقت انسانیت بری طرح پریشان اور بے چین وبے سکون ہے۔ اہل دانش وصاحبان علم وفضل کے ہاں یہ سوال مختلف جہتوں اور پرتوں کے ساتھ اُٹھتا رہا ہے کہ آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟۔مغرب نے بہرحال سائنسی علوم، ٹیکنالوجی اور ایجادات کے ذریعے ایک دنیائے جدید ضرور تخلیق کی ہے جس کے اپنے اصول وضوابط ہیں اور وہاں ظاہری طور پر انسان آسودہ حال نظر آرہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کے دو بڑے براعظموں افریقہ اور ایشیاء کے لوگ سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے وہاں آباد ہونے کی حسرت وآرزو رکھتے ہیں۔ لیکن اُن معاشروں کے باطن میں جھانکنے اور جاننے والے لوگ جانتے ہیں کہ ’’سب اچھا‘‘ وہاں قطعاً نہیں ہے۔ ورنہ جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک میں خودکشی کی شرح ساری دنیا کے مقابلے میں زیادہ کیوں ہوتی۔مغرب میں معاشرتی بگاڑ کے بنیادی اسباب تین چار ہیں۔ پہلا بڑا سبب اُن معاشروں کی خدا بیزاری ہے۔ یہ بات تو اب سائنسی بنیادوں پر ثابت ہو چکی ہے کہ جس طرح مادی جسم کی نشو ونما وبقا کیلئے خوراک اوردیگر اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح انسان کے اندر کے باطنی جسم (روح) کی بھی ضروریات ہیں۔ لیکن وہاں کے سائنسی انقلابات کی بنیاد پر انسانی کتربیونت کے شکار مسیحی مذہب کے ردعمل میں جو معاشرہ وجود میں آیا اس کی بنیاد بہت مضبوطی کیساتھ مادیات اور سائنسی علوم پر رکھی گئی جس میں روحانیات، مغربیات اور باطنی بے چینی کے مداوا کیلئے کوئی ٹھوس انتظام بہرحال موجود نہ رہ سکا۔ کارل مارکس نے وہاں کے انسان کو یہ پٹی پڑھائی کہ اس زندگی میں انسان کی بنیادی، اہم اور اٹل ضرورت پیٹ ہے جب تک اس کا علاج نہیں ہوگا باقی ساری چیزیں پیاز کے پردوں کی مانند ہیں کہ پرتیں اور پردے کھولتے چلے جائیں ہاتھ بہرحال کچھ آنے والا نہیں۔ آج بھی ایک دنیا روٹی، کپڑا اور مکان کے فلسفے کے سحرمیں مبتلا ہے اور پاکستان میں بھی پچاس برسوں سے اس کی گونج اور بازگشت وقتاً فوقتاً سنائی دیتی ہے لیکن۔۔ ڈارون نے فلسفہ ونظریہ ارتقاء کے ذریعے انسان کو خالق سے جدا کر کے دنیا میں کٹی ہوئی پتنگ کی مانند چھوڑ کر ڈولنے پر مجبور کر دیا ہے اور اس پر مستزاد فرائیڈ کے فلسفہ جنسیت کیساتھ ملکر پیٹ اور فرج کو انسانی زندگی کا مطمع نظر بنا کر یونانی فلسفہ کے مطابق واقعی حیوان ناطق بنا دیا ہے۔ ان سارے فلسفوں اور انقلابات عالم کے اثرات اسلامی دنیا پر اُس وقت سے پڑنا شروع ہوئے جب اُنہوں نے اپنے اصول وقوانین (قرآن وسنت) سے ہاتھ اُٹھا لئے، مغرب کی سائنسی ترقی دیکھ کر ہمارے ہاں کے پالیسی سازوں اور حکمرانوں نے عوام اور اپنے معاشروں پر ظلم وستم کی انتہا کرتے ہوئے وہی نظام نافذ کرنے کی بھونڈی کوششیں کیں جس کے سبب اسلامی معاشرے یعنی مسلمان ملکوں میں نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے۔مغرب کی بے ڈھنگی چال سیکھنے کی آرزو میں اپنی چال سے بھی محروم ہوگئے، آج حال یہ ہے کہ وہ اہم بنیادی ادارے جو کبھی مسلمان معاشروں کی تعمیر واصلاح کے ضامن ہوتے تھے، کھوکھلے ہوگئے۔ اسلام میں معاشرے اور سماج کا بنیادی ادارہ نکاح اور گھر ہے۔ گھر میں میاں بیوی، دادا، دادی اور نانا، نانی کی صورت میں مسلمان گھرانوں کے بچوں کو جدید وقدیم روایات کا حسین امتزاج ملتا تھا۔ گھر کے اندر بھی ایک اعتدال رہتا تھا۔ اب مغرب کی طرز پر میاں بیوی اپنے اخراجات کی کفالت کیلئے دونوں کمانے پر مجبور ہیں اور بچوں کو انگریزی میڈیم (بعض لوگ اسے انگلش میڈیم بھی کہتے ہیں اور شاید بجا ہی کہتے ہیں) کے حوالے کرکے بے غم ہو جاتے ہیں کہ ہم نے گویا اپنا فرض ادا کر لیا ہے۔ والدین کے پاس بچوں کی تربیت اور رجحانات وخیالات جانچنے اور پرکھنے کا موقع ہی نہیں ہوتا۔بھلے دنوں میں سکول ومدرسہ کا جو کردار تھا، وہ بھی اب قصہ پارینہ بنتا جا رہا ہے۔

تیسرا بڑا سبب معاشرے میں تہذیبی اقدار کی موت اور قانون کی عدم بالادستی ہے۔ پاکستان میں امیروں کیلئے الگ اور غریبوں کیلئے الگ قانون نے ہمارے معاشرے کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ عمران خان سے عوام کی امیدیں وابستہ ہوئی تھیں، اگرچہ اپوزیشن اور بعض خاص خیرخواہ صبح وشام اُس کیخلاف بہت تیز وسخت پروپیگنڈہ میں مصروف ہیں لیکن مجھے تو اب بھی اُمید ہے اور شاید نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی ہے۔

جھوٹی تہمت ہی سہی دامن یوسف پہ مگر

مصر میں اب بھی زلیخا کی سُنی جاتی ہے

متعلقہ خبریں