Daily Mashriq

چھوٹے چھوٹے خداؤں کی سجدہ ریزی؟

چھوٹے چھوٹے خداؤں کی سجدہ ریزی؟

بیروزگاری کے عفریت سے لڑنے والوں پر اگر کچھ لوگ اپنے مفادات کے کوڑے برسا کر انہیں بھیک مانگنے یا پھر جرائم کی جانب راغب کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو الگ بات ہے لیکن حق حلال کی کمائی کرتے ہوئے ہزاروں شہریوں کو سہولتیں بھی ساتھ ہی فراہم کرنا چاہتے ہیں تو ان کیخلاف ہر دو چار چھ ماہ بعد بلاوجہ شور وغوغا کرنے کا کیا مقصد ہے؟ چنگ چی سروس کی ابتداء ہی گلبہار سے لاہوری (گاڑی خانے) تک آج سے چند برس پہلے ہوئی اور اس وقت رکشے والے اتنے مختصر سفر کیلئے بیس سے تیس روپے سے کم کسی طور نہیں لیتے تھے جبکہ مرحوم حاجی محمد عدیل جو اس وقت صوبائی وزیرخزانہ تھے چاہتے تھے کہ گلبہار سے لاہوری اور آگے گنج تک کیلئے سوزوکی سروس کا آغاز کیا جائے کہ اچانک کچھ لوگ چنگ چی لے کر میدان میں اُترے اور یوں گلبہار اور لاہوری (گاڑی خانہ تک) کے درمیان دو روپے سواری کے حساب سے عام غریب لوگوں کی مشکل آسان کردی۔ اس وقت رکشہ یونین والوں نے اس صورتحال کیخلاف بڑا شور وغوغا کیا اور رکشہ جام کی دھمکیاں دی جانے لگیں کیونکہ ان کے استحصال سے عام غریب لوگ آزاد ہوگئے تھے۔ اس دوران کچھ خودساختہ قسم کے عناصر بھی میدان میں اُتر آئے اور چنگ چی والوں سے گاڑی خانے سٹاپ پر کھڑے ہونے کا بھتہ طلب کرنے لگے جس میں اس وقت علاقے میں تعینات ٹریفک اہلکار بھی ’’ساجھے دار‘‘ تھے۔ اسی طرح چنگ چی والوں کیخلاف شور وغل سے ان کے رزق اور غریب لوگوں کی سستی سواری جیسی سہولت کو نشانہ بنانے کی کوششیں شروع کردی گئیں‘ تب بھی انہی کالموں میں عوام کی پریشانی کا تذکرہ کرکے حکام سے درخواست کی کہ چنگ چی والوں کیخلاف سارا شور مخصوص مقاصد کیلئے مچایا جا رہا ہے جس کے بعد سروس کو باقاعدہ بنانے پر توجہ دی گئی۔ تب ایک صاحب نے جو نہ صرف خود کئی رکشوں کے مالک بلکہ ایک رکشہ سٹینڈ کے مالک تھے راقم سے رابطہ کرکے چنگ چی والوں کے حق میں آواز اٹھانے سے روکنے کی کوشش کی مگر اصل مسئلہ چنگ چی والوں کا نہیں تھا شہر کے ان ہزاروں غریبوں کا تھا جو رکشوں کا بھاری کرایہ (جو بارش کے دنوں میں ڈبل کردیا جاتا تھا) برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے اس لئے اگر راقم اس حوالے سے آواز اُٹھا رہا تھا تو براہ راست عوام کے مفادات کے لئے تھا۔

گزشتہ کئی برس کے دوران پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا ہے‘ رکشوں کے کرائے 20 اور تیس سے اب ساٹھ ستر تک جا پہنچے ہیں جبکہ چنگ چی والے دو روپے سے دس روپے کرائے پر آچکے ہیں اور اس دوران چنگ چی والوں کو چوک گاڑی خانہ کی جگہ لاہوری دروازے سے بھی پیچھے شیخ آباد کی حدود میں دھکیل دیا گیا ہے۔ اس دوران میں مبینہ طور پر ٹریفک والوں سے ملی بھگت کرکے کچھ ’’طاقتور‘‘ لوگ خودساختہ سٹینڈ بنا کر اپنا حصہ وصول کرتے رہے ہیں‘ (اب بھی شاید یہی صورتحال ہو) جبکہ کبھی ان کا وجود مٹانے کیلئے ان کیخلاف کریک ڈاؤن بھی کیا جاتا ہے اور شنید ہے کہ ’’نافرمانی‘‘ کی سزا کے طور پر بھاری رقوم کی پرچیاں تھما کر ان پر ستم توڑا جاتا ہے۔ سیف الرحمن سلیم نے کیا خوب کہا ہے

د وڑو وڑو خدایانو دے بندہ کڑم

لویہ خدایہ زہ بہ چاچا تہ سجدہ کڑم

(اے میرے خدا‘ مجھے تو نے چھوٹے چھوٹے خداؤں کا بندہ بنا دیا ہے‘ اب میں کس کس کو سجدہ کروں گا)

کہیں سٹینڈ کے نام پر بھتہ خوریاں‘ کہیں چالان کے نام پر بھاری پرچیاں اورکہیں کچھ اور جبکہ سارے مفاد پرست دانت تیز کرکے عام غریب لوگوں کی اس سہولت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ہمیں نہ چنگ چی سے کوئی غرض ہے نہ چنگ چی والوں سے‘ ہمیں اگر مسئلہ ہے تو ان ہزاروں غریب لوگوں کے مفاد کا ہے جو صبح سے رات گئے تک گل بہار سے اندرون شہر آنے جانے کیلئے ایک سستی سواری سے استفادہ کرتے ہیں‘ مگر کچھ مفاد پرست عناصر ایک عرصے سے اس سہولت کو ختم کرنے کیلئے تلے ہوئے ہیں تاکہ اس سروس کو کسی طور بند کرکے رکشہ والوں کو کھیل کھیلنے کا موقع فراہم کر دیا جائے۔ اگرچہ حکومت کی ذمہ داری عوام کو زندگی کی آسانیاں بہم پہنچانا ہوتی ہے۔ مگر خدا جانے اس جانب توجہ کیوں نہیں دی جاتی کہ اگر چنگ چی سروس میں کہیں کوئی قانونی سقم موجود ہو تو اسے دور کرکے اس سروس کو باقاعدگی کے دائرے میں لایا جائے اور عوام کو سستی سواری کی سہولت سے استفادہ کرنے میں مدد دی جائے۔ اس ضمن میں ہر دو چار ماہ بعد اخبارات میں خودساختہ منفی پروپیگنڈے سے بلاوجہ عوام کے مفادات پر ضرب لگانے کی کوششیں قابل مذمت کے زمرے میں شمار ہوتی ہیں جو اخبار نویس بلاسوچے سمجھے ’’کسی‘‘ کے اُکسانے پر خبریں لگا کر پیالی میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ مسئلے کے دونوں پہلوؤں کے بارے میں پہلے تحقیقات کرلیں اس کے بعد ان کی خبر یقینا حقائق پر مبنی ہوگی، کیونکہ اس سروس سے محولہ علاقوں کے ہزارہا افراد اگر استفادہ کرتے ہیں تو چنگ چی ڈرائیور اپنے خاندانوں کیلئے رزق حلال بھی کماتے ہیں اور اگر انہیں بیروزگاری کے جہنم میں پھینک دیا گیا (جبکہ ملک میں پہلے ہی بیروزگاری انتہا پر ہے) تو یقینا پھر یہ جرائم کی جانب راغب ہونے پر مجبور ہوں گے اور اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوگی جو انہیں رزق حلال سے محروم کرنے کا تہیہ کر چکے ہیں۔ اُمید ہے ٹریفک حکام اس مسئلے کو عوام کے بہترین مفاد میں خوش اسلوبی سے حل کرکے عوام کو مفاد پرستوں کی سازش سے محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

لہو لہان تھا میں اور عدل کی میزان

جھکی تھی جانب قاتل کہ راج اس کا تھا

متعلقہ خبریں