Daily Mashriq

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا

زمین جسے ہم زمین ماں بھی کہتے ہیں یقینا کرۂ ارض پر بسنے والے انسانوں کے علاوہ چرند پرند، حیوانوں بلکہ پودوں، درختوں، جنگلوں غرض ہر جاندار کی ماں کا درجہ رکھتی ہے کیونکہ ہم سب نہ صرف اس کی گود میں آنکھیں کھولتے ہیں بلکہ یہ ہمیں ہر وہ چیز مہیا کرتی ہے جس کی ہمیں زندہ رہنے اور پلنے بڑھنے کیلئے ضرورت رہتی ہے۔ زمین کے بے حد وحساب احسانات ہیں اگر ہم ان احسانات کی گنتی کرنے بیٹھ جائیں تو آپ کو یہ بات بتانا بھول جائیں گے کہ آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں ورلڈ مدر ارتھ ڈے یا عالمی زمین ماں کا دن منایا جارہا ہے۔ 1969میں، سان فرانسسکو میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی کانفرنس میں یوم الارض منانے کی قرارداد منظور کی گئی تھی، پہلے پہل اس دن کو منانے کیلئے 21مارچ کا دن مقرر ہوا لیکن بعد ازاں یہ دن ہر سال22اپریل کو منایا جانے لگا۔ یہ دن پہلی بار22اپریل 1970کو منایا گیا۔ یوم زمیں ماں منانے کا مقصد دنیا والوں پر زمیں کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے علاوہ گلوبل وارمنگ، ماحولیاتی آلودگی، بڑھتی آبادی کے طوفان بلاخیز کے نتیجے میں زمین ماں کو پہنچنے والے نقصانات سے زمین والوں کو آگاہ کرنا اور ان نقصانات کے تدارک کیلئے کوئی حل تلاش کرنا ہے۔

اے ماں پیاری ماں

اپنے قدموں میں دے دے جگہ

یہاں اس بات کو دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ہم مشرق والے ماں کے رشتے کو عظیم ترین جانتے ہیں۔ اس کے پیروں کے نیچے جنت تلاش کرتے ہیں، اس کے پیروں کی دھول کو اپنی آنکھوں کا سرمہ اور ٹھنڈک جانتے ہیں۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ ہم زمین یا کرۂ ارض کو ماں کا درجہ دیں یا نہیں، لیکن ہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ اگر زمین نہ ہوتی تو اس پر بسنے والی مخلوق بھی نہ ہوتی۔ حضرت آدم اور اماں حوا نے جنت قربان کر دی اس زمین پر اور آباد کرنے لگے اس کرۂ ارض کو، سائنسدان زمین کو ہمارے تصور میں نہ آنے والی رب کن فیکون کی وسیع وعریض کائنات کا ایک چھوٹا سا سیارہ کہتے ہیں جو نظام شمسی کی اطاعت کرتے ہوئے سورج کے گرد قائم اپنے مدار پر گھومتا رہتا ہے، یہ سورج سے روشنی اور حرارت حاصل کرتا ہے اور یوں اس کے دریاؤں میں پانی بہنے لگتا ہے، اس کے کھیتوں میں ہریالی کا راج ہو جاتا ہے، ہم اس سے اناج حاصل کرتے ہیں اس کی آکسیجن اپنے پھیپھڑوں میں بھر کر دل کی دھڑکن جاری رکھتے ہیں، چہار سو پھیلے رنگ ونور کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں قریہ قریہ مکان تعمیر کرکے کالونیوں اور آبادیوں کے جنگل اُگاتے ہیں، بلڈنگیں اور پلازے تعمیر کرتے ہیں اور پھر یوں ہوتا ہے کہ ہم زندہ رہنے کیلئے یا زندگی کی مختلف سہولتیں حاصل کرنے کیلئے دھویں کے بادل چھوڑ کر اس کی فضا کو پراگندہ کرنے لگتے ہیں، آبی آلودگی کو اس قدر پھیلا دیتے ہیں کہ ہم اپنی پیاس بجھانے کیلئے مضرصحت پانی پینے پر مجبور ہوجاتے ہیں، فضائی آلودگی، ماحولیاتی آلودگی، آبی آلودگی اور جانے آلودگیوں کی کتنی قسمیں ہیں جو ہم اپنی ماں کے دامن پر اُگاتے رہتے ہیں اور آج کے دن یہ ساری آلودگیاں یوم الارض کی چیخ بن کر زمین ماں کے سینے پر سوار سات ارب سے زائد بچوں سے پوچھنے لگتی ہے کہ یہ کیا کر رہے ہو نگوڑو، تمہیں اتنا بھی خیال نہیں کہ تمہاری ماں ہوں، اگر میں ٹوٹ گئی نا تمہاری ان حرکتوں کے باعث تو سچ کہتی ہوں کہیں کے نہ رہو گے، آج کا یہ دن ہمارے ضمیر اور شعور کو جھنجھوڑ کر ہمیں بتا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ زمین ماں ہم سے ناراض ہوجائے۔ چند دن پہلے کی بات ہے کتنا شدید طوفان آیا تھا پشاور اور گرد ونواح کے علاقوں میں، اپریل کے وسط تک چیتر اپنا بوریا بستر سمیٹ کر رخصت ہوجایا کرتا تھا، ہمارے زمیندار اور کسان بھائی گندم کے سنہری خوشوں سے سونا حاصل کرتے وقت خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے، لیکن یہ بے موسمی طوفانی بارشیں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے اُتر رہی ہیں، آسمان سے اللہ بچائے اک عذاب بن کر، یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے، اس ہی لئے نا کہ زمین ماں کی گود میں سات ارب چالیس کروڑ سے بھی زیادہ بچے اس کی مامتا کو بیزار کئے جا رہے ہیں، دنیا بھر میں پیدا ہونے والی اس نسل درنسل آبادی کے طوفان بلاخیز نے زمین ماں کو بیزار اور ناراض کرنا شروع کردیا ہے، آج کا دن ہمیں اس بات کا احسا س دلا رہا ہے کہ ہم لوگ جو اس گلوبل ویلیج کے پینڈو ہیں، جینے کا حق تو مانگتے ہیں لیکن زندہ رہنے کے امکانات کو بڑی بیدردی سے ختم کررہے ہیں، ہماری آپ کی حفاظت کیلئے کرۂ ارض کو غلاف کئے ہوئے تھی اوزون کی تہہ، کہتے ہیں ہم نے اپنے اجتماعی کرتوتوں کے سبب چھید ڈالا ہے اپنے گرد قائم حفاظتی حصار کو، ایک شاخ نازک کی صورت اختیار کرنے لگی ہے زمین ماں، بڑے مہذب بنے پھرتے ہیں، تہذیب کا نام دیتے ہیں گاڑیوں، بنگلوں، کارخانوں، دھن دولت کی کبھی نہ ختم ہونے والی لالچ بھری رال ٹپکتی روش کو، یہ زمین شاخ نازک نہ تھی لیکن ہمارے کرتوتوں کی وجہ سے ضعیف وناتواں ہورہی ہے۔ ہماری زمین، بیمار اور لاغر بن چکی ہے اور ہمیں شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کی ہاں میں ہاں ملا کر کہنا پڑ رہا ہے کہ

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کریگی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا

زمین جسے ہم زمین ماں بھی کہتے ہیں یقینا کرۂ ارض پر بسنے والے انسانوں کے علاوہ چرند پرند، حیوانوں بلکہ پودوں، درختوں، جنگلوں غرض ہر جاندار کی ماں کا درجہ رکھتی ہے کیونکہ ہم سب نہ صرف اس کی گود میں آنکھیں کھولتے ہیں بلکہ یہ ہمیں ہر وہ چیز مہیا کرتی ہے جس کی ہمیں زندہ رہنے اور پلنے بڑھنے کیلئے ضرورت رہتی ہے۔ زمین کے بے حد وحساب احسانات ہیں اگر ہم ان احسانات کی گنتی کرنے بیٹھ جائیں تو آپ کو یہ بات بتانا بھول جائیں گے کہ آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں ورلڈ مدر ارتھ ڈے یا عالمی زمین ماں کا دن منایا جارہا ہے۔ 1969میں، سان فرانسسکو میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی کانفرنس میں یوم الارض منانے کی قرارداد منظور کی گئی تھی، پہلے پہل اس دن کو منانے کیلئے 21مارچ کا دن مقرر ہوا لیکن بعد ازاں یہ دن ہر سال22اپریل کو منایا جانے لگا۔ یہ دن پہلی بار22اپریل 1970کو منایا گیا۔ یوم زمیں ماں منانے کا مقصد دنیا والوں پر زمیں کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے علاوہ گلوبل وارمنگ، ماحولیاتی آلودگی، بڑھتی آبادی کے طوفان بلاخیز کے نتیجے میں زمین ماں کو پہنچنے والے نقصانات سے زمین والوں کو آگاہ کرنا اور ان نقصانات کے تدارک کیلئے کوئی حل تلاش کرنا ہے۔

اے ماں پیاری ماں

اپنے قدموں میں دے دے جگہ

یہاں اس بات کو دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ہم مشرق والے ماں کے رشتے کو عظیم ترین جانتے ہیں۔ اس کے پیروں کے نیچے جنت تلاش کرتے ہیں، اس کے پیروں کی دھول کو اپنی آنکھوں کا سرمہ اور ٹھنڈک جانتے ہیں۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ ہم زمین یا کرۂ ارض کو ماں کا درجہ دیں یا نہیں، لیکن ہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ اگر زمین نہ ہوتی تو اس پر بسنے والی مخلوق بھی نہ ہوتی۔ حضرت آدم اور اماں حوا نے جنت قربان کر دی اس زمین پر اور آباد کرنے لگے اس کرۂ ارض کو، سائنسدان زمین کو ہمارے تصور میں نہ آنے والی رب کن فیکون کی وسیع وعریض کائنات کا ایک چھوٹا سا سیارہ کہتے ہیں جو نظام شمسی کی اطاعت کرتے ہوئے سورج کے گرد قائم اپنے مدار پر گھومتا رہتا ہے، یہ سورج سے روشنی اور حرارت حاصل کرتا ہے اور یوں اس کے دریاؤں میں پانی بہنے لگتا ہے، اس کے کھیتوں میں ہریالی کا راج ہو جاتا ہے، ہم اس سے اناج حاصل کرتے ہیں اس کی آکسیجن اپنے پھیپھڑوں میں بھر کر دل کی دھڑکن جاری رکھتے ہیں، چہار سو پھیلے رنگ ونور کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں قریہ قریہ مکان تعمیر کرکے کالونیوں اور آبادیوں کے جنگل اُگاتے ہیں، بلڈنگیں اور پلازے تعمیر کرتے ہیں اور پھر یوں ہوتا ہے کہ ہم زندہ رہنے کیلئے یا زندگی کی مختلف سہولتیں حاصل کرنے کیلئے دھویں کے بادل چھوڑ کر اس کی فضا کو پراگندہ کرنے لگتے ہیں، آبی آلودگی کو اس قدر پھیلا دیتے ہیں کہ ہم اپنی پیاس بجھانے کیلئے مضرصحت پانی پینے پر مجبور ہوجاتے ہیں، فضائی آلودگی، ماحولیاتی آلودگی، آبی آلودگی اور جانے آلودگیوں کی کتنی قسمیں ہیں جو ہم اپنی ماں کے دامن پر اُگاتے رہتے ہیں اور آج کے دن یہ ساری آلودگیاں یوم الارض کی چیخ بن کر زمین ماں کے سینے پر سوار سات ارب سے زائد بچوں سے پوچھنے لگتی ہے کہ یہ کیا کر رہے ہو نگوڑو، تمہیں اتنا بھی خیال نہیں کہ تمہاری ماں ہوں، اگر میں ٹوٹ گئی نا تمہاری ان حرکتوں کے باعث تو سچ کہتی ہوں کہیں کے نہ رہو گے، آج کا یہ دن ہمارے ضمیر اور شعور کو جھنجھوڑ کر ہمیں بتا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ زمین ماں ہم سے ناراض ہوجائے۔ چند دن پہلے کی بات ہے کتنا شدید طوفان آیا تھا پشاور اور گرد ونواح کے علاقوں میں، اپریل کے وسط تک چیتر اپنا بوریا بستر سمیٹ کر رخصت ہوجایا کرتا تھا، ہمارے زمیندار اور کسان بھائی گندم کے سنہری خوشوں سے سونا حاصل کرتے وقت خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے، لیکن یہ بے موسمی طوفانی بارشیں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے اُتر رہی ہیں، آسمان سے اللہ بچائے اک عذاب بن کر، یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے، اس ہی لئے نا کہ زمین ماں کی گود میں سات ارب چالیس کروڑ سے بھی زیادہ بچے اس کی مامتا کو بیزار کئے جا رہے ہیں، دنیا بھر میں پیدا ہونے والی اس نسل درنسل آبادی کے طوفان بلاخیز نے زمین ماں کو بیزار اور ناراض کرنا شروع کردیا ہے، آج کا دن ہمیں اس بات کا احسا س دلا رہا ہے کہ ہم لوگ جو اس گلوبل ویلیج کے پینڈو ہیں، جینے کا حق تو مانگتے ہیں لیکن زندہ رہنے کے امکانات کو بڑی بیدردی سے ختم کررہے ہیں، ہماری آپ کی حفاظت کیلئے کرۂ ارض کو غلاف کئے ہوئے تھی اوزون کی تہہ، کہتے ہیں ہم نے اپنے اجتماعی کرتوتوں کے سبب چھید ڈالا ہے اپنے گرد قائم حفاظتی حصار کو، ایک شاخ نازک کی صورت اختیار کرنے لگی ہے زمین ماں، بڑے مہذب بنے پھرتے ہیں، تہذیب کا نام دیتے ہیں گاڑیوں، بنگلوں، کارخانوں، دھن دولت کی کبھی نہ ختم ہونے والی لالچ بھری رال ٹپکتی روش کو، یہ زمین شاخ نازک نہ تھی لیکن ہمارے کرتوتوں کی وجہ سے ضعیف وناتواں ہورہی ہے۔ ہماری زمین، بیمار اور لاغر بن چکی ہے اور ہمیں شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کی ہاں میں ہاں ملا کر کہنا پڑ رہا ہے کہ

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کریگی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

متعلقہ خبریں