Daily Mashriq

انسانی جلد کی تیاری کیلیے یوایچ ایس، ادویہ ساز اداروں میں معاہدہ

انسانی جلد کی تیاری کیلیے یوایچ ایس، ادویہ ساز اداروں میں معاہدہ

لاہور: پاکستان میں ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کی محنت سے تیارکی جانے والی حیاتیاتی جلد اب بڑے پیمانے پر نجی لیبارٹری میں بھی تیار کی جا سکے گی۔

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور پاکستان فارما سوٹیکل مینوفیکچرز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے ) کے درمیان معاہدہ طے پا گیا، 900 ڈالر فی انچ میں درآمدکی جانیوالی مصنوعی انسانی جلد پاکستانی ایک ہزار روپے میں مل سکے گی جس سے 70 فیصد سے زیادہ جلے ہوئے افراد کی جان بھی بچائی جا سکے گی، پاکستان میں ڈاکٹرز اور سائنسدانوں کے اشتراک سے 2015 میں مقامی سطح پر انسانی جلد کا حیاتیاتی نعم البدل تیار کیا گیا تھا۔

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید اکرم کے مطابق جھلس جانے والے زیادہ تر افراد کی اموات انفیکشن اور جسم سے پانی اور نمکیات کے تیزی سے اخراج وغیرہ کی وجہ سے ہوتی ہیں، 70 فیصد سے زیادہ جلے ہوئے افراد کی شرح اموات 90 فیصد ہے لیکن اب جب بیالوجیکل انسانی جلد دستیاب ہوگی تو اس سے یہ شرح اموات 20 فیصدتک رہ جائے گی اور بڑ ے پیمانے پر انسانی جانوں کوبچایا جا سکے گا، ڈاکٹر جاویداکرم نے کہاکہ پاکستان میں اب تک انسانی جلد کا بائیولوجیکل نعم البدل تیار نہیں کیا جا رہا تھا اور اسے درآمد کرنا پڑتا تھاجوعام لوگوں کی پہنچ سے دور تھا، انھوں نے بتایا کہ جب احمدپورشرقیہ کے قریب آئل ٹینکرالٹنے اورپٹرول کو آگ لگنے سے بڑے پیمانے پرلوگ جل گئے تھے اور متبادل انسانی جلدنہ ہونے کی وجہ سے چل بسے تھے۔

کئی زخمیوں کی جان بچانے کیلیے بیرون ملک سے مصنوعی جلد منگوانا پڑی تھی جس پر اربوں روپے خرچ ہوئے۔ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہاکہ تقریباً ایک مربع انچ درآمد شدہ بیالوجیکل مصنوعی جلد کے پیوند کی قیمت 900 امریکی ڈالر یعنی تقریباً ایک لاکھ پاکستانی روپے سے زیادہ پڑتی ہے لیکن اب چند پاکستانی ڈاکٹروں نے مقامی سطح پر بیالوجیکل مصنوعی جلد تیارکی ہے جس کی پیوند کی قیمت ایک ہزار پاکستانی روپے سے کم ہے۔مصنوعی انسانی جلد تیارکرنے میں سب سے اہم کردار ڈاکٹر رؤف احمد کا ہے۔

انھوں نے ایکسپریس کو بتایا مصنوعی جلد سرجری کے دوران بچ جانے والی اضافی انسانی جلد یا پھر گائے یا بھینس کی جلد سے بھی تیار کی جاسکتی ہے۔ پہلے مرحلے میں مختلف کیمیکلز کی مدد سے جلد کے اوپری حصے سے تہہ ہٹائی جاتی ہے یعنی تکنیکی اصطلاح میں اسے ڈی ایپی ڈرملائز کیا جاتا ہے۔ اگلے مرحلے میں اسے ڈی سیلولیرائز کیا جاتا ہے، پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچرزایسوسی ایشن کے نمائندے حسیب خان نے ایکسپریس کوبتایا کہ انھوں نے ایم او یو سائن کیا ہے۔

متعلقہ خبریں