Daily Mashriq


اصولی سیاست کی قدر ہونی چاہئے

اصولی سیاست کی قدر ہونی چاہئے

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ انہوں نے کچھ معاملات کی وجہ سے وزارت چھوڑی تاہم وہ اس پر اظہار خیال نہیں کر سکتے کیونکہ ایسا کرنا پارٹی کے لیے نقصان دہ ہوگا۔خیال رہے کہ چوہدری نثار نے 27 جولائی پاناما کیس کے فیصلے کے حوالے سے کہا تھا کہ جس دن سپریم کورٹ کا فیصلہ آتا ہے چاہے وہ حق میں ہو یا مخالفت میں، میں وزارت سے بھی استعفیٰ دوں گا اور اسمبلی کی رکنیت سے بھی اور آئندہ الیکشن میں بھی حصہ نہیں لوں گا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی اور اس کے بعد ان کی جانب سے اسلام آباد سے لاہور کے سفر کے دوران یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ مسلم لیگ ن کے اندر احتلافات ہیں ۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ جو بھی ایشوز ہیں وہ پارٹی کے اندر ہیں انہیں لیک کرنا بددیانتی ہے۔چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی سیاسی جماعت میں قائم دائم رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ کوئی آسانی سے کونسلر شپ سے بھی مستعفی نہیں ہوتا میں نے وزارتِ داخلہ سے استعفی دیا ہے۔ میں مشکور ہوں میاں نواز شریف کا اور وزیراعظم خاقان عباسی کا بھی جو آخر وقت تک مجھے قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ انہوں نے اختلاف رائے کی وجہ سے استعفی دیا اور اختلاف رائے آج بھی برقرار ہے۔چوہدری نثار نے بحیثیت وفاقی وزیر وزارتِ داخلہ کی جانب سے کیے جانے والے مختلف اقدامات کے بارے میں بھی بات کی۔میڈیا میں کھل کر اظہارخیال کرنے کے عادی چوہدری نثار علی خان کی وزارت سے علیحدگی کے بعد پریس کانفرنس میں لب و لہجہ محتاط اور الفاظ کے چنائو میں احتیاط کے باعث ان کی پریس کانفرنس کو حسب سابق شرح صدر کے ساتھ کی جانیوالی پریس کانفرنس میں شمار نہیںکیاجاسکتا۔ ان کی پریس کانفرنس سے اس امر کا تاثر لینا شاید غلط نہ ہوگا کہ وہ جو کچھ کہنا چاہتے تھے انہوں نے کہنے سے گریز کیا اور کوئی ایسی ذو معنی بات بھی نہ کی یا کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں کیاجسے اشارتاً و کنایتاً کے زمرے میں ہی شمار کیاجاتا۔ چوہدری نثار علی خان نے پارٹی میں اختلاف کاکھل کر اعادہ ضرور کیا ان کاموقف پہلے ہی سے واضح اور ڈھکا چھپا نہیں تھا۔ چوہدری نثار علی خان نے کمال ضبط کا مظاہرہ کیا اور مشکل حالات میں اپنی جماعت اور اس کی قیادت کے لئے کوئی ایسا فقرہ ادا نہ کیا جس سے ان کی مسلم لیگ(ن) سے ناطہ کمزور ہونے کا تاثر تک ملے۔ ایک آزاد سوچ رکھنے والے سیاستدان ہونے کی حیثیت سے اختلافات پر راہیں جدا کرلینے کا ہر کسی کو حق حاصل ہے خاص طور پر پاکستان میں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ یہاں تو وفاداریاں تک تبدیل کرلی جاتی ہیں اورکسی جماعت سے علیحدگی کے بعد ہی اس جماعت کی ساری خرابیوں کے بیان کرنے کا رواج ہے۔ پارٹی کے اندر رہ کر اور اپنی وفاداری اور جماعتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے اظہار خیال میں چوہدری نثار علی خان کے علاوہ دوسرا شخص چیئر مین سینٹ رضا ربانی ہیں جن کے بارے میں خود ان کے قائد کا بیان ہے کہ وہ آزاد دانشور ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صاف گوئی اور اپنی رائے کامناسب فورم پر اظہار اور اپنی قیادت کو اپنی دانست کے مطابق صحیح مشورے دینا ہر مخلص سیاسی ورکر کا حق ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں حق گو افراد کی تکریم تو درکنار ان کو برداشت ہی کم کیا جاتا ہے جبکہ خوشامدیوں کی قدر و قیمت بڑھی ہی ہوتی ہے۔ چوہدری نثار علی خان کے پانامہ کیس کے حوالے سے موقف کو وقت اور حالات نے حرف بحرف درست ثابت کردیا۔ اگر سابق وزیر اعظم نواز شریف ان کے مشورے پر عمل کرتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ اس طرح کے افراد کا خلوص اور ان کی نیک نیتی شکوک و شبہات سے بالا تر ہوتی ہے۔ چوہدری نثار اس پر پورے اترے۔ دوسری جانب تمام تر معاملات کے باوجود ان کی جماعت کے سابق قائد نواز شریف اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا آخری وقت تک ان کو عہدہ لینے پر قائل کرنے کی سعی بھی ایک خوش آئند روایت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اس طرح کا کلچر ہماری پوری سیاست اور سیاسی جماعتوں میں فروغ پذیر کیوں نہیں پاتا۔ پارٹی قیادت سے اختلاف اور اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کرنیوالوں پر شک و شبہ کیوں کیاجاتاہے جو لوگ پارٹی بدل لیتے ہیں وہ اپنی سابقہ جماعت کے حوالے سے ایسا طرز عمل کیوں اختیار کرتے ہیں کہ خود ان کا کردار و عمل بھی لوگوں کے لئے قابل قبول نہیں رہتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صرف دو اہم شخصیتوں ہی تک حق گوئی اور اپنی سوچ کا آزادانہ اظہار محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس جمہوری کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ سیاسی قائدین اور حکمرانان وقت اگر برداشت' تحمل اور برد باری کا رویہ اختیار کریں اور اختلاف رائے کو قیادت کی مخالفت کی بجائے ایک صحت مند تنقید اور مشاورت کاحصہ سمجھا جانے لگے تو سیاسی قائدین اور حکمرانوں کے سامنے اچھی تجاویز اور تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آئے گا اور وہ زیادہ بہتر انداز میں فیصلے کرسکیں گے۔ وطن عزیز میں دیانتداری اور مبنی بر خلوص سیاست کے فروغ سے ہی جمہوری اقدار مضبوط ہوں گی اور سیاسی اداروں کو استحکام حاصل ہوگا۔ چوہدری نثار علی خان کی قیادت سے ناراضگی اور اختلافات اپنی جگہ اگر بالفرض محال آگے چل کر وہ کوئی فیصلہ کر بھی لیتے ہیں تو ان کو یہ الزام نہیں دیا جا سکے گا کہ انہوں نے غداری کی یا قیادت کی پیٹھ پر چھرا گھونپا۔ سخت حالات میں متحد رہنا اور ارکان کی اپنی جماعت سے شک و شبہ سے بالاتر وفاداری اور قیادت کے فیصلوں سے اختلاف کے باوجود تسلیم کرلینا ہی وہ راز ہے جس کی بناء پر یہ ایک منظم جماعت متصور ہوتا ہے۔ وطن عزیز میں اقدار کی سیاست اور اصولوں پر مبنی سیاست اور فیصلوں کی اشد ضرورت ہے۔ اس ضمن میں چوہدری نثار علی خان نے جو راستہ چنا اس کی تقلید کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں