Daily Mashriq

تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کرنا اتنا مشکل بھی نہیں

تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کرنا اتنا مشکل بھی نہیں

دوسرے صوبوں کی بہ نسبت خیبر پختونخوا میں بھتہ خوروں کے خلاف پولیس اور پاک آرمی کی مشترکہ ٹیموں کی تشکیل کے بعد تعلیمی اداروں میں انسداد منشیات کیلئے پولیس اور آرمی کی ٹیمیں بنا کر تعلیمی اداروں میں کارروائی پر اتفاق میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن اس سے سول اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری امر ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسداد منشیات ادارہ پہلے ہی فوج کے تعاون بلکہ نگرانی میں کام کر رہا ہے جو اس امر کیلئے کافی ہے کہ منشیات کی بڑے پیمانے پر سمگلنگ اور نقل و حرکت نہ ہونے پائے ۔ہمارے تئیں بہتر صورت یہی ہے کہ سرحدوں پر اور شہر کے داخلی مقامات پر اور جہا ں جہاں منشیات فروشی کے اڈے ہیں وہاں پر نگرانی کا کام اتنا سخت اور مشکل کر دیا جائے کہ تعلیمی اداروں تک منشیات پہنچا نا ناممکن ہو جانا تاکہ تعلیمی اداروں میں منشیات لیجانے اور اس کے استعمال کا امکان ہی نہ رہے ۔ جہاں تک تعلیمی اداروں اور ہاسٹلوں میں منشیات کے استعمال کا تعلق ہے اگر کیمپس پولیس صرف نظر کی پالیسی اختیار نہ کرے تو وہاں پر منشیات کے استعمال کا سوال ہی نہیں پیدا ہو تا اسی طرح اگر ہاسٹل وارڈن اور یونیورسٹی انتظامیہ اس ضمن میں اپنی ذمہ داریوں سے احتراز نہ برتے تو بھی ہاسٹلوں میں کھلے عام منشیات کا استعمال ممکن نہ رہے۔ اس ضمن میں ضرور ی امر یہ ہے کہ ہاسٹلوں میں غیر طالب علموں اور بیرونی افرادکی رہائش کو ناممکن بنا دیا جائے تو موزوں امر ہوگا علاوہ ازیں طلبہ تنظیموں کی ہاسٹلوں کے معاملات میں مداخلت کی گنجائش ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہاسٹلوں میںعملے اور طالب علموں کو رضا کارانہ طور پر معلومات دینے کو صیغہ راز میں رکھنے کی ضمانت دی جائے تو طالب علم نشہ آور اشیاء لانے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف انتظامیہ سے بخوشی تعاون پر تیار ہو جائیں گے ۔ ہاسٹلوں اور تعلیمی اداروں میں اسلحہ رکھنے اور لانے پر مکمل پابندی لگانے سے بھی ماحول بہتر ہو گا ۔ غیر محسوس طور پر کسی بہانے کبھی کبھار طالب علموں کے خون کے نمونے حاصل کر کے ٹیسٹ کیا جائے تو نشہ آور اشیاء استعمال کرنے والے طالب علموں کی نشاندہی ہو سکے گی اساتذہ کرام جماعت میںطالب علموں کی کارکردگی اورد رس میں دلچسپی کو بغور نوٹ کر کے مشکوک طالب علموں کی نشاندہی کرسکیں گے ۔ یونیورسٹی انتظامیہ کبھی مشکوک طالب علموں پر نظر رکھ کر حقیقت حال معلوم کر سکتی ہے اگر اس طرح کے اور دیگر موزوں اقدامات کئے جائیں تو تعلیمی اداروں میں فوج اور پولیس کی مشترکہ ٹیموں کے چھاپے مارنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی ۔

مخلص کارکنوں کو نظر انداز نہ کیا جائے

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آئندہ عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹو ں کی تقسیم کے حوالے سے جو فارمولہ ذرائع ابلاغ میں بتایا گیا ہے ممکن ہے یہ مکمل نہ ہو پارٹی ٹکٹ ترجیحات کا تعین ہر سیاسی جماعت کی قیادت کی صوابدید ہے پاکستان تحریک انصاف کی پالیسی بھی کامیابی کی زیادہ سے زیادہ امکانات رکھنے والوں کو ٹکٹو ں کی فراہمی ہی ہوگی ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی پالیسی دوسری سیاسی جماعتوں سے تھوڑی سی مختلف اس لئے ہونی چاہیئے کہ پی ٹی آئی انصاف اور میرٹ کا دوسروں کے مقابلے میں کافی زیادہ دعویدار ہے جس کے خود جماعتی قیادت اور ان کی پالیسیوں میں مظاہر کے طورپر پی ٹی آئی کے انتخابی ٹکٹوں میں ان کا رکنوں اور قائدین کو سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہیئے جو پارٹی سے دیرینہ رفاقت رکھتے ہوں ۔ اگر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کے دورجدید کے لوگ اب آہستہ آہستہ کنارے لگ گئے ہیں اور چڑھتے سورج کے پجاریوں کو اہمیت زیادہ ملنے لگی ہے وہ فیصلہ سازی کی نہ صرف پوزیشن میں آگئے ہیں بلکہ جماعتی فیصلوں اور قیادت پر اثر انداز ہونے لگے ہیں اس طرح کے معاملات میں مصلحت اپنی جگہ لیکن دیرینہ اور مخلص کارکن ہی کسی جماعت کا سرمایہ ہونا چاہیئے بنا بریں قائد تحریک انصاف عمران خان کو چاہیئے کہ وہ ایسے جانثار کارکنوں کو کسی صورت نظر انداز نہ کریں اور ان کیلئے گنجائش ضرور رکھیں مخلص ورکر ہی کسی سیاسی جماعت کا سر مایہ ہوتے ہیں اور ہر قیمت پر پارٹی قیادت کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں فصلی بٹیر ے جس طرح جماعتی وفادار یاں تبدیل کرنے والے وقت آنے پر گر گٹ ثابت ہوتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں