Daily Mashriq

پرویز رشید بمقابلہ چوہدری نثار

پرویز رشید بمقابلہ چوہدری نثار

پرویز رشید نے درست کہا کہ مشرف کو روکنے میں دیگر اداروں نے ساتھ نہیں دیا کیونکہ سابق جنرل پاکستان سے نکلتے ہی مدد فراہم کرنے پر اپنے ادارے کا شکریہ ادا کر چکے ہیں۔اور یہ بھی بڑے فخر سے بار بار کہہ چکے ہیں کہ یہ ادارہ اپنے سابق سربراہ کی مدد کیوں نہ کرتا؟اس ضمن میں یہ بات بھی کی جاتی ہے کہ جب مشرف کے خلاف مقدموں کی سماعت ہو رہی تھی تو چوہدری نثار خاصے بے چین تھے اور چاہتے تھے کہ انہیں ملک سے باہر بھیج دیا جائے اور اسی وجہ سے ان کے اور نواز شریف کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا تھا۔اس کے علاوہ جے آئی ٹی کے ساتھ وزارت داخلہ کے تعاون کے حوالے سے جو کچھ پرویز رشید نے کہا وہ بھی معروضی حالات میں ایک تلخ سچ ہی لگتا ہے ۔چوہدری نثار مسلم لیگ ن کے بہت پرانے راہنما ہیں لیکن اگر پارٹی کے لئے قربانی کی بات کی جائے تو اس حوالے سے پرویز رشید ان سے بہت آگے دکھائی دیتے ہیں۔ مشرف دور میں جو ظلم پرویز رشید کے ساتھ ہوا اسے بیان کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی۔ایک دروغ گو ڈکٹیٹر جو زبان سے کہتا رہا کہ وہ منتقم مزاج نہیں ہے کس درجے کا منتقم مزاج تھا اس کا ثبوت پرویز رشید ہے جس کے ساتھ اس قدر بدترین ظلم ہوا کہ جس کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اس کے مقابلے میں بارہ اکتوبر کے بعد اگرچوہدری نثار کی پوزیشن کو دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ جب پرویز رشید جیسے نواز شریف کے وفادار تشدد سہہ رہے تھے چوہدری نثار دکھاوے کی نظربندی کے مزے لوٹ رہے تھے۔گویا بارہ اکتوبر کے جبر میں صرف ان لوگوں کو ہی ظلم سہنا پڑا جن کے بارے میں ڈکٹیٹر اور اس کے حواریوں کو علم تھا کہ وہ نواز شریف کے پرزور حامی ہیں۔واضح طور پر چوہدری نثار اس اعزاز سے محروم رہے کیونکہ قبضہ کرنے والوں کہ پتہ تھا وہ نواز شریف سے زیادہ ان کے وفادار ہیں۔دو ہزار چودہ کا دھرنا ہو، ڈان لیکس کا معاملہ ہو ،نوازشریف کی نا اہلی سے ایک روز پہلے کی پریس کانفرنس ہو یا نا اہلی کے بعد چوہدری نثار کا عمومی رویہ، یہ بات پائیہ ثبت کو پہنچتی ہے کہ چوہدری نثار مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے وزارت کے مزے بھی لوٹ رہے تھے اور نواز شریف کے راستے میں کانٹے بھی بچھا رہے تھے۔آج پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان جو خلیج نظر آرہی ہے اس کے تانے بانے بھی چوہدری نثار سے ملتے ہیں۔ڈاکٹر عاصم کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا اس کی وجہ سے زرداری صاحب بہت تکلیف میں مبتلا رہے۔پیپلز پارٹی بار بار مطالبہ کرتی رہی کہ چوہدری نثار کو وزیر داخلہ کے منصب سے الگ کیا جائے لیکن مسلم لیگی حکمرانوں نے ایک نہ سنی جس کی وجہ سے دونوں جماعتوں میں دوریاں ہوئیں۔جب دونوں جماعتوں میں فاصلہ پیدا ہونے کا ہدف حاصل ہو گیا تو چوہدری نثار کھل کر سامنے آ گئے اور شہباز شریف ،شاہد خاقان عباسی،خواجہ سعد رفیق اور کئی دوسرے مسلم لیگی رہنمائوں کی بار بار کی منت سماجت کے باوجود ایک ایسی پریس کانفرنس پر مصر رہے جو نواز شریف کے لئے سخت تکلیف کا باعث بننے والی تھی۔پریس کانفرنس عین اس روز کی گئی جس سے اگلے دن نواز شریف کو نااہل کیا جانا تھا۔اس پریس کانفرنس کے ذریعے چوہدری نثار نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ پارٹی کی سب سے زیادہ منفرد شخصیت ہیں کیونکہ کڑوی سے کڑوی بات نواز شریف کے منہ پر کہہ دیتے ہیں۔وہ بھول گئے کہ جس موقعے پر وہ نواز شریف کو تکلیف سے دوچار کر رہے تھے ایسے وقت میں تو ایک مہذب دشمن بھی اپنے مخالف پر وار نہیں کرتا۔ان کے مقابلے میں اگر پرویز رشید کے کردار کو دیکھا جائے تونواز شریف کے ساتھ ان کی وفاداری کا یہ عالم ہے کہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی انہوں نے ڈان لیکس کا ناکردہ گناہ اپنے سر لیا اورخاموشی کے ساتھ منظر سے ہٹ گئے۔ان کا ٹریک ریکارڈ بتاتا ہے کہ اگر ان کی کھال بھی کھینچ لی جائے تب بھی وہ نواز شریف کے خلاف ایک لفظ نہیں بولیں گے۔ پرویز رشید کے خون میںو فاداری ہے اور یقینی طور پر بڑا آدمی وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں دوست کا ساتھ دے نہ کہ اس کے لئے مشکلات کھڑی کرے۔عمران خان کا دھرنا ایک سو چھبیس دنوں پر محیط تھا۔اس دھرنے کے دوران بھی چوہدری نثار کا رویہ خاصا پر اسرار تھا۔پولیس کو تحریک انصاف کے لوگ مار رہے تھے لیکن وزارت داخلہ خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔ پی ٹی وی پر حملہ ہو رہا تھا اور وزارت داخلہ کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔پورا اسلام آباد یرغمال بنا ہوا تھا اور چوہدری نثار قوم کو بتا رہے تھے کہ عمران خان کے ساتھ ان کے ذاتی اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ڈان لیکس معاملہ آیا تو تب بھی چوہدری نثار اپنے ساتھیوں کا دفاع کرنے کی بجائے حکومت سے دور دور نظر آ رہے تھے۔دھرنا ہو، ڈان لیکس یا نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائی اس سب کے دوران حکومت اور شریف فیملی کو سب سے زیادہ وزارت داخلہ کی مدد کی ضرورت تھی لیکن یوں لگا کہ جیسے اس وزارت نے ان کی مدد کرنے کی بجائے ان کے مخالفین کی مدد کی۔خورشید شاہ جیسا شریف النفس اوردھیما شخص نواز شریف کو بار بار متوجہ کر رہا تھا کہ چوہدری نثار سے جان چھڑا لو یہ آپ کا نہیں ''اُن'' کا بندہ ہے لیکن نواز شریف کچھ نہ کر سکے اور جب شاہ جی کے مشورے کی سنجیدگی کا احساس ہوا تو ناقابل تلافی نقصان ہو چکا تھا۔وقت نے ثابت کیا کہ خورشید شاہ چوہدری نثار سے زیادہ نواز شریف کے خیر خواہ تھے۔

متعلقہ خبریں