Daily Mashriq


پہ نرمئی لکہ اوبہ د اور سزا شہ

پہ نرمئی لکہ اوبہ د اور سزا شہ

ایک دوست نے کہا' علامہ صاحب فرماچکے ہیں' کون سے علامہ ہم نے ان سے پوچھا' یہاں تو ہر کوئی علامہ بنا پھرتاہے۔ بھئی ہمارے علامہ اقبال شاعر مشرق وہی جن کی راتیں کبھی سوز و ساز رومی تو کبھی پیچ و تاب رازی کی کشمکش میںبسر ہوتی تھیں۔ جی جی فرمائیے' سمجھ گیا' انہوں نے ایک طنزیہ جملہ ہماری طرف لڑھکاتے ہوئے کہا۔ خاک سمجھے اگر سمجھتے تو اپنی تحریروں میں لٹھ نہ برساتے۔ پھر نہیں سمجھا' انہوں نے ایک بار پھر طنز فرمایا موٹاگوشت کھانے والوں کی عقل بھی موٹی ہوتی ہے۔ اب کیاکریں یار' چھوٹا گوشت کھانے کی جو سکت نہیں رکھتے۔ اب ہم پوری طرح نڈھال ہوچکے تھے' ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا' جی فرمائیے' بولے میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ علامہ مرحوم نے پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کاٹنے کا نسخہ تجویز کیاہے تو پھر تم قدرے نرم زبان میں بات کیوں نہیں کرتے۔ اب ہماری باری تھی' انہیں جواب میں کہا' آ پ اس شعر کے دوسرے مصرعے پر بھی نظر ڈالئے جس میں موصوف نے فرمایا ہے کہ مرد ناداں پر کلام نرم و نازک کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ ہر بات ان کے سر پر سے گزر جاتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ عام گفتگو میں ہم بالعموم پٹڑی سے اتر جاتے ہیں بعض منطع حضرات کو بھی' برہنہ لطیفوں میں بات سمجھانا پڑتی ہے۔ البتہ خوف فساد خلق سے ہم اپنی تحریروں میں حد درجہ احتیاط سے کام لیتے ہیں۔ تو پھر یہ تمہارا فشار خون ہمیشہ عروج پر کیوں ہوتا ہے؟ ایک وجہ تو اس کی یہ ہے ہم نے انہیں بتایا کہ میٹھا کھانے سے ڈاکٹروں نے ہمیں منع کر رکھا ہے اس کا اثر ہمارے مزاج پر یہ پڑا کہ ہمارے لہجے میں تلخی در آئی ہے۔ فشار خون میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہم میٹھے کی کمی کو تلخ و ترش چیزیں کھانے سے پوری کرتے ہیں۔ یہ تو خیر کوئی وجہ نہیں کہ آپ اس کی آڑ میں اپنی زبان پر قابو میں نہ رکھ سکیں۔ دوست بولے

گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر

کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی

جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ ہمیں تو خود ایسے لوگ اچھے نہیں لگتے جن کے ماتھے پر ہمیشہ تیوریاں چڑھی رہتی ہیں۔ سلام کاجواب بھی اس رعونت سے دیتے ہیں جیسے وہ آپ پر کوئی احسان کر رہے ہوں۔ ٹیلی فون پر اس تکبر سے ہیلو کہتے ہیں کہ لاسلکی کے موجد گراہم بل نے بھی اپنے ملازم واٹسن کو پہلی فون کال پر اس قدر تلخ لہجے میں بلایا نہیں ہوگا۔ ہم تو سچ پوچھئے جلد موج میں آنے والے آدمی ہیں۔ مسکراہٹ کاجواب قہقہے سے دیتے ہیں۔ گھر میں بچوں تک کو بھی لطیفے سنانے سے باز نہیں آتے۔ ہم لاکھ نادان سہی مگر ایسے لوگ جو آپ کے لطیفے کے جواب میں بڑی سنجیدگی کے ساتھ آپ سے پوچھتے ہیں اچھا تو پھر کیا ہوا۔ بالکل پسند نہیں ایسے لوگوں کو یہ بات بھی سمجھانا پڑتی ہے کہ لطیفے کے بعد کچھ نہیں ہوتا صرف قہقہہ ہوتا ہے جس کی اللہ نے آپ کو توفیق نہیں دی۔ اگر وہ اس بات پر سیخ پا ہو کر ہمیں اور ہمارے لطیفے پر لعنت بھیجنے لگیں تو ا یسے ذہنی مریضوں کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں۔ لطیفہ سنانے کے بعد جب اس کا جواب ایک پھیکی مسکراہٹ کی صورت میں بھی نہ ملے تو پھر ہم اپنے فشار خون پر کیسے قابو پاسکتے ہیں۔ چلئے اب بتائیے دوست بولے۔ آپ اپنی اس تمام تر شگفتہ مزاجی کے باوجود اپنے فشار خون کو قابو میں کیوں نہیں رکھتے۔ ہم نے انہیں بتایا یہ جسمانی عارضہ ہے۔ ایک بار کسی کو لاحق ہو جائے تو اس سے نجات حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ کہ ہم بھینس تو ہیں نہیں کہ آپ اسے ڈنڈہ ماریں تو وہ متاثرہ حصے کی کھال کو قدرے جنبش دے کر آپ کو پھر دودھ دینے لگے۔ ہمیں البتہ اس بات کا قطعاً علم نہیں کہ فشار خون بات بے بات پر غصہ کرنے سے بڑھتا ہے یا پھر غصے پر قابو پانا اس کی وجہ ہے۔ البتہ مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ غصہ کرنا اچھی عادت نہیں' ہمارا دین جو دین فطرت کہلاتا ہے یعنی انسانی فطرت سے پوری طرح ہم آہنگ دین ہے اس نے بھی جاہلوں کے جواب میں خاموشی اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس سے انسان بہت حد تک اس مرض سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے غصہ ایک فزیکل پرابلم تو ضرور ہے مگر نان سنس لوگوں کے رویے بھی اس کی ایک بڑی وجہ بن جاتے ہیں۔ آپ پورے دلائل کے ساتھ اس کے بھیجے میں ایک عام سی بات ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ آپ کی ایک نہیں سنتے یا ارادتاً سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ تو پھر ایسی صورت میں غصہ ایک فطری امر ہے۔ کبوتر سے بھی چھوٹے دماغ کے کسی آدمی کے روئیے کا آپ کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ آپ ایسے لوگوں کو جانوروں سے زیادہ درجہ نہیں دے سکتے۔ اب ہمارے دوست کا پارہ چڑھ گیا۔ چہرہ سرخ ہوگیا' دیکھئے یہ آپ زیاتی پر اتر آئے ہیں۔ آپ خود کو بقراط کاہم پلہ نہ سمجھیں ہر شخص کو اپنے خود ساختہ ذہانت کے ترازوں میں تولنے کی کوشش نہ کریں آپ کو اس ضمن میں حضرت رحمان بابا کا شعر ذہن میں رکھنا چاہئے' فرماتے ہیں

خوش خوہیں فکر مند نہیں افتراء پہ ہم

ہیں مثل آب آتش شعلہ فزاء و پہ ہم

آپ بھی پہ نرمئی لکہ اوبہ د اور سزا بننے کی خو اپنائیے۔ غصے اور فشار خون دونوں سے نجات کا یہ آسان ترین نسخہ ہے۔ بات انہوں نے پتے کی کہی۔ اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔

متعلقہ خبریں