Daily Mashriq

مجھے کیو ں نکالا ؟

مجھے کیو ں نکالا ؟

ایک ایسا بھی دور تھا کہ عموما ً بعض افراد کا تکیہ کلا م ہو ا کرتا تھا ، اور بعض الفاظ کسی کی چڑ بن جایا کرتے تھے ، ایک بات ہے کہ تحریک انصاف نے سوشل میڈیا پر خوب قبضہ جمایا ہو ا ہے ، میا ںنو ازشریف اور ان کے خاند ان کے بارے میں وہ اودھم مچا رکھی ہے کہ اللہ پنا ہ آج کل یہ جملہ چل رہا ہے کہ مجھے کیو ں نکالا ، سینہ کا بار بار زور لگا کر میا ں نواز شریف نے جس شدت سے یہ سوال کیا اس نے حیر ان کر دیا کہ ان کا مخاطب کو ن ہے یا کس سے یہ پو چھا جا رہا ہے ۔ جب سے میا ں صاحب کے دن مصائب کے بھنور سے چکر ائے ہیں اسی روز سے اس بارے میں جہاں تحریک انصاف ، پی پی ، جماعت اسلا می وغیر ہ نے ڈگڈگی بجا نا شروع کر دی ہے تب ہی سے کوئی نا دیدہ مخالفین کی جانب سے سوشل میڈیا پر ان کے خلا ف طبلہ تھپایا جا رہا ہے ، اس سلسلے میں بار بار کہا جا رہا ہے کہ ممتاز قادری عاشق رسولۖ کی پھانسی کی ہیّا پڑی ہے ، بات تو درست ہے نو از شریف حکومت کے بہت سارے فیصلے بوڑم اور بھو نڈے رہے ہیں ، اس سے سابق دور میں ایسا ہی فیصلہ سو د کے بارے میں شریعت کو رٹ کا تھا، حالا نکہ اللہ تعالیٰ نے سود کے کا روبار کر نے والو ں سے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اللہ سے جنگ کے لیے تیا ر ہوجائیں۔اسلا می جمہو ریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 2کے تحت پاکستان کا اسلا م مملکتی مذہب اور قرارداد مقاصد مستقل احکا م کا حصہ ہو گی ، جس کا واضح مطلب ہے کہ پا کستان میں ایسی کوئی قانون سازی نہیں کی جا ئے گی جو دین اسلا م سے متصادم ہو ، شریعہ ایکٹ 1991سیکشن 3نے اسلا م کا اعادہ کیا ہے کہ اس ملک کے قوانین اور مقررہ ایکٹ کے سیکشن 8نے مزید وضاحت کردی ہے ، جس کے بعد یہ ریا ستی ذمہ داری ہوجا تی ہے کہ وہ ایسے اقداما ت کو یقینی بنائے گی جس کے تحت پاکستان کے اقتصادی نظام کو اسلا می اقتصادی مقاصد کے مطا بق بنایا جا ئے اور اسلا می اصولو ں کو ترجیح دی جا ئے ۔ چنا نچہ وفاقی شریعت کو رٹ نے اس سلسلے میں ایک مقدمے میں فیصلہ دیا کہ رباء حرام ہے بینکو ں اور دیگر اداروں سے اس کا خاتمہ کر دیا جا ئے ، میاں نوازشریف کی حکومت نے وفاقی شریعت کو رٹ کے اس فیصلے کے خلا ف سپر یم کو رٹ کے شرعی اپیلٹ بینچ اپیل دائر کر دی ،1999ء وفاقی شرعی اپیلٹ بینچ جسٹس خلیل الرّحمان، جسٹس منیر شیخ ، جسٹس وجہیہ الدین احمد اور مولا نا مفتی جسٹس محمد تقی عثما نی پر مشتمل تھا ۔ عدالت کے فیصلے کے باوجو د نو از شریف کی حکومت نے اعلیٰ عدالت سے حکم امتنا عی حاصل کیا ، اس وقت بھی عوام حیران پریشان تھے کہ ایک ایسی جما عت جو پاکستان کی بانی جما عت ہونے کی دعوے دار ہے اور پا کستان کو اس جماعت نے اسلامی نظرئیے کی بنیا د پر حاصل کیا مگر وہ شرعی قوانین کے نفاذ سے مفر ہے اور عدالتوں سے حکم امتنا عی حاصل کرنے میں مگن رہتی ہے ۔ اسی لمحے عوام نے محسو س کیا تھا کہ سود کے خاتمے کے فیصلے کے خلا ف حکومت نے جو قدم اٹھایا ہے اس پر پھٹکا ر پڑنے کے امکا ن ہیں چنا نچہ اس وقت پر ویز مشرف نے نو از شریف حکومت کا تختہ کر دیا ، حالا نکہ میا ں نو از شریف گزشتہ دور میں پا کستان کی تاریخی بھاری مینڈیٹ لے کر اسمبلی میں آئے تھے جن کے لیے آئین میں ترمیم کر نے یا قانو ن سازی میں کوئی رکا وٹ بھی حائل نہ تھی ایسا بھا ری مینڈیٹ 1946ء کے انتخابات میں بھی مسلم لیگ کو حاصل نہیں ہو اتھا جبکہ اس وقت تحریک پاکستان عروج پر تھی ، ان انتخابات کو مسلم لیگ اور کا نگر س کے لیے بھاری آزمائش و ریفرنڈم سے تعبیر کیا جا رہا تھا ۔جب میا ں نو از شریف بھاری مینڈیت لے کر بر سراقتدا رآئے تھے تو اس وقت بھی ان کا قوم سے وعدہ تھا کہ وہ پا کستان کو ایک اسلا می ریا ست بنائیں گے مگر اقتدار میں انہو ں نے الٹ ہی کیا ، عالمی شہر ت یا فتہ مسلم اسکا لر ڈاکٹر اسرار احمد نے اس زما نے میں اسلا می نظام کی مہم چلا ئی تھی اور ملک کو سود سے پاک کر نے کا مطالبہ کیا تھا اس سلسلے میں ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے میاں نو از شریف کو خطو ط لکھے تھے جس کے جواب میں ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پختہ ارادہ رکھتے ہیںکہ پاکستان کو رباء سے چھٹ دلا دیں علا وہ ازیں میاںنو از شریف ان کے والد میا ںمحمد شریف اور شہباز شریف نے اجتما عی طور پر ڈاکٹر اسر ار احمد سے ملاقات کی اور اس امر کی یقین دہانی کر ائی کہ سود پر پابندی سمیت دیگر اسلامی قوانین رائج کر دیے جا ئیں گے لیکن کا فی عرصہ اس وعد ے کا بیت گیا اور کوئی قدم نہیں بڑھا یا گیا تو اس کے بعد ڈاکٹراسرار احمد مر حوم نے اخبارات کے ذریعے بھی یاد دہانی کرائی اور ساتھ ہی خط بھی لکھا ، جس کے بعد میا ں محمد شریف اپنے صاحبزادوں ، نو از شیر یف ، شہباز شریف اور عباس شریف جو سیا ست میں عمل دخل نہیں رکھتے تھے وہ بھی ہمر اہ ڈاکٹر صاحب مر حوم سے ملاقات کے لیے دوسری مر تبہ آئے اور ایک بار پھر یقین دہانی کر ائی ، اس کے باوجو د نو از حکومت نے اس وقت بھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ۔ نو از شریف حکومت کا ممتاز قادری کی پھانسی میںعجلت دکھا نا ، سود کے بارے میں شریعت کو رٹ کے فیصلے کے خلا ف اپیل کر نا ایسے کئی پھوڑپن کے فیصلے ہیں اس کے بعد جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کو کیو ںنکالا تو یہ سوال بھی ایسا ہی لگتا ہے وہ اپنے اندر جھانک کر دیکھیں کہ عوام نے ان کو کس ازم کے لیے مینڈ یٹ دیا تھا اور انہو ں نے کس کے مینڈٹ کے لیے کا م کیا ، اقتدار کی چاہت میں اللہ سے اعراض کوئی اعز از نہیں بخشا کر تا بلکہ اس سے ذلت اور رسوائی ہی ملتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی توبہ کے دروازے بند نہیں کیے ہیں ہر وقت اس پا ک ذات سے رجو ع کیا جا سکتا ہے ۔اس طرح بلبلا نے سے کا م نہیں چلا کرتا ہے کہ مجھ کو کیو ں نکالا ، مجھ کو کیو ں نکا لا ، مجھ کو کیوں نکا لا ؟۔

متعلقہ خبریں