Daily Mashriq

آدمی بلبلہ ہے پانی کا

آدمی بلبلہ ہے پانی کا

کتابوں کی دکانیں بند ہوتی چلی جارہی ہیں اور فوڈ سٹریٹ کھل رہی ہیں پشاور میں کھانے پینے کا کاروبار روز بروز بڑھ رہا ہے ہم نے ایک چسکہ ہوٹل کے مالک سے بڑے طنزیہ انداز میں کہا کہ جناب آپ کا منافع تو پچاس فیصد ہے تو وہ ایک بڑا سا قہقہہ لگاتے ہوئے کہنے لگا جناب آپ کی معلومات انتہائی ناقص ہیں کھانے پینے کی اشیاء میں منافع 200فی صد ہوتا ہے ہم ہونق بن کر اس کا منہ دیکھنے لگے منافع زیادہ ہے اسی لیے تو فوڈ سٹریٹ کا بزنس عروج پر ہے دراصل کھانے پینے میں برکت ہے کھانا پلانا ویسے بھی کار ثواب ہے کسی بھوکے کا پیٹ بھرنا بہت بڑی سعادت ہے اگر کھانے پینے کے کاروبار میں زیادہ منافع ذہن سے نکال دیا جائے تو پھر برکت ہی برکت ہوتی ہے ویسے برکت کا لفظ استعمال تو بہت ہوتا ہے لیکن ہم میں سے اکثر اس کے صحیح مفہوم سے ناآشنا ہیں برکت بڑھوتی ہے تھوڑے پیسے سے ضروریات پوری ہوتی رہتی ہیں جو کچھ آپ کماتے ہیں وہ اچھی جگہ پر خرچ ہوتا ہے اسی لیے بزرگ اپنی دعائوں میں برکت کی دعا ضرور دیا کرتے ہیں اگر آپ کی نیند پرسکون ہے اللہ پاک نے اچھی صحت عطا کر رکھی ہے اور اس کی نعمتوں سے خوب مستفید ہورہے ہیں تو پھر اور کیا چاہیے!اسی کو برکت کہتے ہیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ برکت کا تعلق شکر کے ساتھ ہے اگر اللہ پاک کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے تو پھر نعمت قید ہوجاتی ہے نعمتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے زندگی کی کتاب کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے اپنے اردگرد دیکھتے رہیئے۔ ایک امیر آدمی نے اپنی گھر کی کھڑکی سے باہر دیکھا تو ایک غریب آدمی کوڑے کے ڈرم میں سے اپنے لیے کھانے پینے کی چیزیں تلاش کررہا تھا اس نے جلدی سے اللہ پاک کا شکر ادا کیا اسی طرح ایک غریب آدمی نے ایک پاگل کو گلی میں عجیب و غریب حرکتیں کرتے دیکھا تو اس نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ وہ پاگل نہیں ہے شیخ سعدی کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ ان کے پاس پہننے کے لیے جوتے نہیں تھے وہ بڑے رنجیدہ تھے لیکن جب ان کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جس کے پائوں ہی نہیں تھے تو انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا ۔ رات دن طرح طرح کی نعمتیں کھانے والے خوش نصیب لوگوں کو چاہیے کہ ذرا اپنے ارد گرد بھی دیکھ لیا کریں انہیں ایسے بہت سے لوگ مل جائیں گے جنہیں پیٹ بھر کر کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا فوڈ سٹریٹ میںبیٹھ کر مزے مزے کی ڈشیں اڑانے والوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ ان کے پاس نہ صرف اللہ پاک کا دیاہوا بہت کچھ ہے بلکہ انہیں اس رب کریم نے صحت جیسی عظیم نعمت بھی عطا کررکھی ہے۔ ایسے بہت سے لوگ اسی دنیا میں موجود ہیں جو کروڑوں روپوں کے اثاثوں کے مالک ہیں لیکن پرہیزی کھانے کھاتے ہیں وہ اپنی کمائی ہوئی دولت استعمال نہیں کرسکتے ان کی مثال ایک چوکیدار جیسی ہے جو ایک ایسی دولت کی حفاظت میں رات دن سرگرداں رہتا ہے جو اس کے استعمال میں نہیں ہے۔ حضرت علی کا قول مبارک ہے کہ صحیح معنوں میں وہی پیسہ آپ کا ہے جو آپ نے اللہ کے خزانے میں جمع کروادیا ہے یعنی آپ کا دیا ہوا صدقہ وخیرات ہی درحقیقت وہ دولت ہے جس کا فائدہ آپ کو دنیا و آخرت میں ضرورحاصل ہوتا ہے صحت مند آدمی کو کبھی کبھی ہسپتال کا دورہ بھی کرتے رہنا چاہیے ہسپتال جاکر انسان کو اللہ پاک کی عطا کردہ عظیم نعمت صحت کا احساس ہوتا ہے کیسے کیسے خوبصورت جوان ہسپتال کی مختلف وارڈز میں بستروں پر پڑے ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اس وقت ان کی ایک ہی دعا ہوتی ہے کہ یا اللہ ہمیں صحت کاملہ نصیب فرما تاکہ ہم بھی دوسرے لوگوں کی طرح آزادی سے گھوم پھر سکیں' کھا پی سکیں جو تندرست ہے اسے اس نعمت کا احساس ہونا چاہیے قدر ہونی چاہیے بیمار کی عیادت کرنی چاہیے جو مالدار ہیں انہیں بانٹ کر کھانا چاہیے جن کے پاس علم کی دولت ہے انہیں کچھ طالب علموں کو بغیر معاوضے کے بھی پڑھانا چاہیے یہ شکر ہی ہے جو آپ کی زندگی میں برکات لے کر آتا ہے تھوڑی سی آمدنی میں آپ کے سارے کام پورے ہوتے رہتے ہیںآپ کا کمایاہوا پیسہ بیماریوں پر نہیں لگتا آپ کے جان و مال محفوظ ہوتے ہیں آپ تھانے کچہری اور ہسپتال سے بچے رہتے ہیں ایک لمحے کے لیے سوچئیے کہ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو تھانے کچہری اور ہسپتال سے بچے ہوئے ہیں۔ کامیاب زندگی حقیقی خوشیوں والی زندگی یہی ہے کہ جو نعمت میسر ہے اسے اللہ کے بندوں میں تقسیم کردیا جائے' صحت بیماری اور جوانی بڑھاپے سے پہلے غنیمت ہے اسی طرح دولت مندی غربت سے پہلے غنیمت ہے وقت بدلتے دیر نہیں لگتی اور پھر کیا بھروسہ ہے زندگانی کا آدمی بلبلہ ہے پانی کااگر زندگی کو سمجھنا ہے اس کی حقیقت تک رسائی حاصل کرنی ہے تو پھر ہسپتال، جیل اور قبرستان کا دورہ بھی کرتے رہنا چاہیے۔ ہسپتال میں مریضوں کو دیکھ کر یہ شعور حاصل ہوتا ہے کہ صحت سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہے' جیل میں قیدیوں کو دیکھ کر آزادی جیسی نعمت کا احساس ہوتا ہے' اسی طرح قبرستان میں زندگی کی بے ثباتی کی حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے آپ یہ جان لیتے ہیں کہ آج جس زمین پر ہم چل رہے ہیں کل اس نے ہماری چھت بننا ہے اس سے پہلے کہ یہ زمین ہماری چھت بن جائے ہمیں آگے بڑھ کر عمل خیر میں حصہ لینا چاہیے ! کالم کے آخر میں وٹس ایپ پر موصول ہونے والا ایک حقیقت افروز پیغام بھی پڑھتے جائیے! ہم خوش رہ سکتے ہیںاگر ہمارے رشتہ دار ہماری زندگی میں اتنی ہی مداخلت کریں جتنی صدر ممنون حسین پاکستان کے معاملات میں کرتے ہیں!۔

متعلقہ خبریں