Daily Mashriq


وفاقی کابینہ کے افتتاحی اجلاس سے عوام کو بڑی توقعات تھیں

وفاقی کابینہ کے افتتاحی اجلاس سے عوام کو بڑی توقعات تھیں

وزیراعظم عمران خان کی گزشتہ روز کی تقریر سے اس امر کی توقع تھی کہ وفاقی کابینہ کے پہلے اجلاس ہی میں ان تمام امور پر غور کرتے ہوئے کسی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا جس سے عوام کو فوری ریلیف ملے اس ضمن میں کابینہ کا پہلا اجلاس روایتی رسمی اور غیر معمولی نہ ہونا نیک شگون نہیں۔ بہت سارے معاملات جن کا تحریک انصاف کی جانب سے اعلان تو کیا گیا مگر ان کے قانونی عوامل کا اب جب جائزہ لینے کی باری آئے گی تو شاید وزیراعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤسز کے بارے میں فیصلے کے اختیار کا سوال اٹھے گا۔ کابینہ کے پہلے اجلاس میں نوازشریف فیملی کے حوالے سے عجلت اور آمر وقت جنرل پرویز مشرف کے غداری کیس اور اس کے جڑے معاملات احتساب کو زیر غور ہی نہ لانا معنی خیز ہے ہم سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کی قیادت نے عوام کو جو امید دلائی ہے اس کی پالیسیوں کا رخ اور فیصلوں کی مرکزیت اب اس جانب مرکوز ہونی چاہئے دیگر معاملات حکومت بشمول مقدمات پر معمول کے مطابق ہی نمٹائے جائیں تاکہ کسی سیاسی رنگ آمیزی کی گنجائش نظر نہ آئے۔ قوم نے نئی حکومت سے جو توقعات وابستہ کر رکھی ہیں اس کا تقاضا یہ ہے کہ عیدالاضحیٰ کی تعطیلات گزرنے کے بعد کابینہ کا خصوصی اجلاس بلا کر کچھ ایسے واضح اور نظر آنیوالے اقدامات کئے جائیں جس سے عوام کو ریلیف ملے اور تبدیلی کا رنگ نظر آئے۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ وطن عزیز کے عوام کی موجودہ حکومت سے اپنے مسائل اور مشکلات کے حل کے حوالے سے بڑی توقعات وابستہ ہیں جن پر پورا اترنا حکومت کیلئے کسی بڑے چینلج سے کم نہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت جلد ہی اپنے ایجنڈے پر تیز رفتاری کیساتھ عمل درآمد کا آغاز کرے گی اور عوامی توقعات پر پورا اترنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھے گی۔ موجودہ حکومت کی ترجیحات اور عزائم کے حوالے سے دو رائے نہیں لیکن عملی اقدامات کب سامنے آتے ہیں اور کس قدر مؤثر طریقے سے اقدامات کا آغاز کیا جاتا ہے اس کا بہرحال سبھی کو شدت سے انتظار ہے۔

عیدالاضحی کے موقع پر صفائی‘ شہری بھی ذمہ داری نبھائیں

عیدالاضحی کی تعطیلات کے دوران صفائی کے خصوصی انتظامات کا اعلان تو کیا جاتا ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہو پاتا۔ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ پورے شہر کی یکبارگی صفائی کیلئے وسائل اور افرادی قوت کی عدم دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس امر کی گنجائش تو نکلتی ہے کہ صفائی کے عملے کی کوتاہیوں سے صرف نظر کیا جائے لیکن اس امر کی گنجائش نہیں کہ قربانی کے جانوروں کی آلائشیں دو تین روز تک پڑی رہیں اور کوئی اٹھانے والا نہ ہو۔ عام مشاہدے کی بات یہ ہے کہ ہر قسم کی منصوبہ بندی کے باوجود حکام عیدالاضحی کے موقع پر شہر کی صفائی میں ناکام رہتے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان ناکامیوں سے سبق سیکھ کر ان کو دور کرنے کی سعی کی بجائے آئندہ سال اسی کا اعادہ ہوتا ہے۔ ہمارے تئیں عیدالاضحی کے موقع پر صفائی کا کام اتنا بڑھ جاتا ہے کہ آلائشیں اٹھانے میں مجبوراً تاخیر ہو جاتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس صورتحال کے شہری بھی برابر کے ذمہ دار ہیں جو اس امر کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے کہ اوجھڑی اور دیگر باقیات کو ایک مخصوص جگہ پر احتیاط سے اس طرح رکھیں کہ عملہ صفائی کو اس کو اُٹھانے میں آسانی ہو۔ اسلام میں جہاں قربانی کا درس دیا گیا ہے وہاں نظافت اور صفائی کو نصف ایمان کا درجہ حاصل ہے جس طرح قربانی مقدس فریضہ احسن طریقے سے ادائیگی کا متقاضی ہے اسی طرح صفائی پر توجہ بھی ہر شہری کا اخلاقی اور دینی فریضہ ہے جس کی ادائیگی میں غفلت کا ارتکاب نہیں ہونا چاہئے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ شہری خود اپنے مفاد میں اپنے گلی محلوں کو صاف ستھرا رکھنے کی ذمہ داری ازخود نبھائیں گے اور عملہ صفائی کے کام کو آسان بنائیں گے یہ ہم سب کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں۔

متعلقہ خبریں