Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

امام ابو حنیفہؒ کپڑے کے بہت بڑے تاجر تھے اور یہ نہیں کہ ایک آدھ دکان تھی کہ کپڑا بکوا دیا‘ جگہ جگہ کپڑے بننے اور سپلائی کرنے کے کارخانے اور تجارتی مراکز تھے اور اتنی بڑی دولت تھی کہ جب امام ابو حنیفہؒ کی وفات ہوئی تو کچھ امانتیں بھی تھیں۔ مگر چھپن کروڑ در ہم خزانے کے اندر موجود تھے جو انہوں نے چھوڑے مگر ان چھپن کروڑ سے کیا ہوتا تھا؟ یہ سب غریبوں پر خرچ ہوتا تھا۔

ان کی تاریخ میں لکھا ہے کہ کوفے میں جتنے غریب ‘ بیوائیں اور یتیم تھے امام ابو حنیفہؒ کے ہاں سب کی فہرستیں بنی ہوئی تھیں اور ان کے قد و قامت نپے ہوئے تھے کہ فلاں اتنی عمر کاہے‘ فلاں جوان ہے‘ فلاں بچہ ہے‘ غریبوں کے ہر گھر کے لئے رمضان شریف میں کپڑے تیار ہوتے تھے۔بڑے آدمی کے بڑے کپڑے چھوٹے کے چھوٹے کپڑے‘ عورتوں کے لئے ان کے مناسب اور جہاں عید کا دن آیا صبح صبح سب غریبوں کے گھر کپڑے پہنچ جاتے تھے تو غریب کہتے تھے کہ ابو حنیفہؒ کو خدا سلامت رکھے جیسی عید امیروں کی ویسی عید ہمارے بچوں کی بھی ہے‘ بہتر سے بہتر کپڑا ملا۔

تجارت میں تقویٰ کا یہ حال تھا کہ آخر مسلمانوں کے امام ہیں‘ انہوںنے کپڑا بنوا کر سپلائی کیا‘ کئی لاکھ روپے کاکپڑا ایک تاجر کو فروخت کرنے کے لئے بھیجا۔ انہوں نے دیکھا کہ اس وقت کپڑے کے دام ذرا سستے ہیں اور دو مہینے کے بعد دام چڑھ جائیںگے۔ کپڑا روک لیا تاکہ ایک لاکھ کے دو لاکھ وصول ہوں۔ چنانچہ یہی ہوا جب یہ میعاد گزر گئی‘ اب لوگوں کی ضرورت بڑھی تو انہوں نے دام بڑھا دئیے تو ایک لاکھ کے دو لاکھ وصول کئے اور جا کر بڑی خوشی سے امام ابو حنیفہؒ کے پاس رکھے۔ امام صاحبؒ نے فرمایا کہ حساب سے تو ایک لاکھ ہونا چاہئے ‘ یہ دو لاکھ کیسے ہوگئے۔

اس نے کہا کہ میںنے دو مہینے کے لئے کپڑا روک لیا تھا کہ جب ضرورت بڑھ جائے گی تب فروخت کروںگا۔ فرمایا: خدا کی پناہ۔ اس کا نام احتکار ہے کہ لوگوں کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے۔ یہ کہہ کر خفا ہوئے اور فرمایا یہ دو لاکھ غریبوں کے اوپر صدقہ کرو۔ یہ مال میرے کام کا نہیں ہے۔ اس میںتم نے غریبوں کی مجبوری سے نا جائز فائدہ اٹھایا۔ جب ضرورت کاوقت تھا تمہیں مقررہ قیمت پر بیچنا چاہئے تھا تو کمانے میں یہ تقویٰ تھا اور خرچ کرنے میںیہ سخاوت تھی۔ تو ایسے سخی کے سامنے غرباء کا دل کیسے ٹوٹ سکتا تھا۔ غریب کہتا تھا کہ ابو حنیفہؒ کی سلامتی چاہئے۔ میں غریب نہیں ہوں‘ نہ میری بیوی‘ بچے اور گھر غریب ہے‘ کھانے پینے کو آرہا ہے۔ ادھر امام ابو حنیفہؒ یوں شکر گزار کہ خدا نے مجھے تو فیق دی ‘ میں نے غریبوں کی خدمت کی۔ مجھے اجر ملا‘آخرت بنی اور غریب یوں خوش کہ ہماری سرپرستی ہوئی۔ اس لئے وہ غریب اتنے عاشق تھے کہ ابو حنیفہؒ کے پسینے پر خون بہانے کے لئے تیار تھے۔ (وعظ حقوق مالیہ جلد سوم)

متعلقہ خبریں