Daily Mashriq


نئی حکومت کو درپیش چیلنجز

نئی حکومت کو درپیش چیلنجز

25جولائی کے انتخابات کے نتیجے کی صورت میں وفاق اور دو صوبوں میں تحریک انصاف کی حکومت وجود میں آچکی ہے جبکہ سندھ میں پیپلزپارٹی اور بلوچستان میں اتحادی جماعتیں حکومت بنا چکی ہیں۔ جمہوری نظام حکومت میں ریاستی ڈھانچے کا استحکام جمہوری روایات کی پاسداری اور باہمی احترام وبرداشت سے مشروط ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں کا المیہ یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن عموماً کوئی صحتمند روایات کا مظاہرہ کرنے میں ہمیشہ ناکام رہی ہیں جس کا نتیجہ آمریت کی صورت میں سامنے آتا رہا ہے۔نئے منتخب وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ حلف اُٹھا چکی ہے اور اب حکومتی اُمور کی انجام دہی ابتدائی مراحل میں ہیں، انتخابات کے بعد تحریک انصاف نے پوری توجہ سے وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کیلئے مطلوبہ اکثریت کے حصول کیلئے سرتوڑ کوشش کی جس میں وہ کامیاب بھی ہوگئی جبکہ دوسری جانب حزب اختلاف کا غیرسنجیدہ رویہ بھی ان کے راستے کی مشکلات آسان کرتا رہا لیکن اس پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو حکومت سازی میں کامیاب ہونے کے باوجود نئی حکوسمت کو بیشمار چیلنجز درپیش ہیں۔ ستمبر کے اوائل میں صدارتی انتخاب کی آمد آمد ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نامور قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن کو بطور صدارتی امیدوار میدان میںاتار چکی ہے جبکہ فی الوقت عارف علوی تحریک انصاف کی طرف سے سامنے آچکے ہیں چونکہ صدارتی انتخاب کا حلقہ قومی اسمبلی سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ان میں موجود ممبران ووٹ کے ذریعے صدر مملکت کا انتخاب کرتے ہیں لہٰذا ہماری ملکی سیاسی تاریخ کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو کبھی کبھی غیر متوقع نتائج بھی سامنے آسکتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے قیام سے پہلے ملک سفارتی محاذ پر تنہائی کا شکار ہو چکا تھا اگرچہ نواز شریف نے آخری ایام میں خواجہ آصف کو وزیرخارجہ مقرر کیا تھا لیکن یہ بات بھی عیاں ہے کہ کہاں اُمور خارجہ اور کہاں خواجہ آصف۔ اب عمران خان کی حکومت کے تدبر کی آزمائش ہے کہ سفارتی محاذ پر معاملات کو کس قدر سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اگرچہ شاہ محمود قریشی نے نئے وزیرخارجہ کے طور پر کچھ ابتدائی اشارے ضرور دیئے ہیں لیکن وقت سب کچھ اشکار کریگا۔پاکستانی عوام کیلئے لوڈشیڈنگ کا عذاب ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے جس سے چھٹکارا پانا اب ایک خواب سا محسوس ہونے لگا ہے۔ نواز حکومت نے تو وعدوں سے قوم کو بہلانے کی کوشش کی لیکن تحریک انصاف کی حکومت کو اب ہر حال میں اس مسئلے کا حل ڈھونڈنا ہوگا۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا براہ راست دارومدار اس ملک میں صنعت وحرفت کی ترقی سے مشروط ہوتا ہے۔ برطانیہ کی ترقی ماضی میں اس کے صنعتی انقلاب کا نتیجہ ہے۔ ہمارے یہاں کی صنعتیں حالت نزع میں ہیں۔ خیبر پختونخوا میں کئی سال پہلے گدون امازئی انڈسٹریل سٹیٹ موجود تھا جو اب صنعتوں کا قبرستان کہلایا جاتا ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر پورے ملک میں سروے کرے۔ بیمار صنعتوں کی بحالی کو یقینی بنائے اور نئی صنعتی یونٹس کے قیام کیلئے منظم منصوبہ بندی کرے۔ کراچی سٹیل ملز اور کراچی شپ یارڈ جیسے قومی منصوبوں میں مالی بے ضابطگیوں کا نوٹس لے اور چوروں کو قرار واقعی سزا دے تاکہ ایسے لوگ جو قومی خزانے کو شیر مادر سمجھتے ہیں وہ دوسروں کیلئے نشان عبرت ہوں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے بدقسمتی سے حکومتوں نے عوام کے مسائل کو اُس طرح سے نہیں لیا کہ ان کی مشکلات کم ہو سکیں اب چند ہزار روپوں میں ایک عام آدمی کیلئے گھریلو امور چلانا ایک معجزے سے کم نہیں۔ تحریک انصاف نے تو نعرہ انصاف کا لگایا تھا اب اس کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے کہ پاکستانی عوام کو ایک ایسے اقتصادی نظام کا تحفہ دے جس میں ایک عام آدمی اپنی روزمرہ جائز ضروریات آسانی سے پورا کر سکے بہتر نظام کا خواب پاکستانی عوام کا ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے۔ ہمارا دفتری نظام اصلاحات کا متقاضی ہے۔ عوام کیساتھ غیرمہذبانہ رویئے اور بدسلوکی کا برتاؤ سالہا سال سے چلا آرہا ہے۔ دفتروں میں بیٹھے سرکاری افسران اور ملازمین عوام کے خادم ہونے کا تصور نہیں رکھتے۔ موجودہ حکومت کو چاہئے کہ ایسی قانون سازی کرے کہ عوام کو درپیش مشکلات کے فوری حل کا ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔ ہر شہری کی تفصیل نادرا کے پاس موجود ہے اور ہر بار ایک ہی طرح کی معلومات دفاتر میں مہیا کرنے کا عمل عوام میں بیزاری کو جنم دیتا ہے۔ ایک مرکزی ڈیٹا نظام کے تحت پورے ملک کے شہریوں کی تفصیلات منظم طریقے سے حکومت کے پاس موجود ہونی چاہئے۔پولیس کے نظام میں بہتری معاشرے کی تشکیل کیلئے ضروری ہے۔ اگرچہ صوبائی سطح پر کچھ اُمید افزاء تبدیلیاں آچکی ہیں لیکن پورے ملک میں یکساں پولیس نظام کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملائیشیا اور سنگاپور سے اس ضمن میں رہنمائی لی جا سکتی ہے۔ ایک منظم اور جدید تصور سے آراستہ پولیس فورس ہی ایک پرامن معاشرے کی ضمانت ہو سکتی ہے۔وسائل کی کمی اور تیز رفتارآبادی نے بیروزگاری کو جنم دیا ہے۔ ہمارے یہاں یہ روایت ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کے حصول کی تگ ودو شروع ہوتی ہے لیکن جب مواقع کم ہوں تو پھر نوجوان پود پر مایوسی کے بادل چھا جاتے ہیں اور یوں قوم پرعزم نوجوانوں کے جوش وجذبے اور کام کے ولولے سے محروم ہو جاتی ہے۔ موجودہ حکومت کو چاہئے کہ بیروزگاری کے خاتمے کیلئے ایک ٹاسک فورس تشکیل دے جس کی نگرانی وزیراعظم خود کرے۔ نئے روزگار کے مواقع مہیا کئے جائیں جن سیکٹرز میں پاکستانی افرادی قوت کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے اُن کی نشاندہی کی جائے۔ اگر ملک کی ترقی کا مقصد تحریک انصاف کا خواب ہے جس میں کوئی شک بھی نہیں تو تیزترین ہنگامی بنیادوں پر ان چیلنجز سے عہد ہ برآ ہونے کا عزم کرے اور سالوں کا کام مہینوں میں کرنے کیلئے کمربستہ ہو جائے تاکہ پھر یہ نہ کہنا پڑے کہ ہمیں خبر نہ ہوئی۔ کار جہاں دراز ہے لیکن عزم کے سامنے پہاڑ بھی نہیں ٹھہر سکتے۔

متعلقہ خبریں