Daily Mashriq


یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے

سیاست میں ذاتیات کا عنصر کب شامل ہوا یہ تحقیق طلب مسئلہ ہے کیونکہ جب ہم برصغیر کی سیاسی روایات کو دیکھتے ہیں تو سیاسی نظریات کے حوالے بدترین مخالف بھی سماجی زندگی میں ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے مگر پھر پلوں کے نیچے سے بہنے والے پانی میں زہرناکی کب گھل مل گئی اور ذاتی رنجشوں کو سیاسی روایات میں درآنے کا موقع ملا، اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ سیاست کے بنیادی اصول جمہوری اقدار میں خاندانی اور وراثتی عنصر شامل ہوتا چلا گیا، اس کے بعد اہم رہنماؤں کی سوچ پر ذاتی مفادات کے کھوپے چڑھتے چلے گئے اور ان مفادات کو چیلنج کرنے والوں کو ذاتیات کے پیمانے سے ناپا جانے لگا اور آج ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہیں کہ ہماری آنکھوں پر تعصب کی چربی اس قدر چڑھ چکی ہے کہ سیاست سے باہمی احترام نہ صرف عنقا ہو چکا ہے بلکہ سیاسی مخالفین کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی ہر ممکن کوشش ہمارا طرہ امتیاز بن چکا ہے۔ شکیل جاذب نے کہا تھا

تم سے کیا شہر کے حالات کی تفصیل کہوں

مختصر تم کو بتاتا ہوں میاں خیر نہیں

معروف صحافی سلیم صافی نے گزشتہ روز ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا، جسے بعد میں کئی دوسرے صحافیوں نے بھی ری ٹویٹ کیا کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز وزیراعظم ہاؤس کے متعلقہ لوگوں سے نواز شریف دور کے اخراجات کے بارے میں دریافت کیا اور انہیں بتایا گیا کہ نوازشریف مہمانداری پر اُٹھنے والے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے تھے تو انہیں یقین نہیں آیا، مگر جب انہیں میاں نواز شریف کے جاری کئے ہوئے چیکس دکھائے گئے تو وہ خاموش ہوگئے۔ اس پر دونوں جانب سے ٹویٹس کرتے ہوئے جس طرح ایک بار پھر گالم گلوچ اور ذاتی رکیک حملے شروع کئے گئے جو تادم تحریر جاری ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سلیم صافی نے حالیہ ہفتوں میں جس طرح اسلام آباد کے خیبر پختونخوا ہاؤس میں پرویز خٹک حکومت کی جانب سے چند صحافیوں پر چائے کی مد میں لاکھوں کا خرچہ کیا تھا اور جسے سلیم صافی ہی نے اسلئے طشت ازبام کیا تھا کہ اتنا بڑا خرچہ ان کی ٹیم کو انٹرٹین کرنے کے نام پر وصول کیا گیا تھا تو اس سے ان کی ٹیم کے بارے میں کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو جائے (اس واقعے کی انکوائری تاحال باقی ہے) اسی کا غصہ ابھی تک تحریک انصاف کے کارکنوں میں موجود ہے، اسلئے جب گزشتہ روز عمران خان کے بارے میں تازہ خبر انہوں نے پوسٹ کی تو پہلے سے غصے میں بھرے ہوئے تحریک کے کارکنوں کوگویا موقع مل گیا اور جہاں انہوں نے سلیم صافی کو آڑے ہاتھوں لیا وہاں میاں نوازشریف پر بھی طنز وتشنیع کے تیر برسانے شروع کر دیئے۔ اس صورتحال پر یاس یگانہ چنگیزی کا شعر ملاخط کیجئے

نشہ خودی کا چڑھا آپ میں رہا نہ گیا

خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا

کیا ایک منتخب وزیراعظم کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے (بزعم خویش) مخالف سابق وزیراعظم کے بطور وزیراعظم اخراجات کے بارے میں تفتیش فرمائیں؟ سوال وزیراعظم ہاؤس میں مہمانداری پر اٹھنے والے اخراجات بارے معلومات کا نہیں بلکہ اس رویئے کا ہے جس کی اتنے بڑے منصب پر پہنچنے والے کسی بھی شخص سے توقع نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ ایک خالصاً تکنیکی مسئلہ ہے یعنی اگر میاں نواز شریف (دستیاب خبروں کے مطابق) اپنی جیب سے خرچ نہ کرتے اور یہ رقم قومی خزانے ہی سے خرچ ہوتی، تو بھی اس کا جواز موجود ہے کہ ہر سال نئے بجٹ میں ایوان صدر، وزیرعظم ہاؤس اور اسی قبیل کی دوسری سرکاری وزارتوں، محکموں، اداروں کیلئے رقوم مخصوص بھی کی جاتی ہیں اور ان کی منظوری خود پارلیمنٹ دیتی ہے تو پھر اعتراض کا کیا جواز ہے؟ ہاں یہ غلط ہے یا درست، اخراجات ضرورت سے زیادہ ہیں یا ضرورت کے مطابق اس پر بحث بھی ہو سکتی ہے اور آئندہ کیلئے اس کا راستہ بھی روکا جا سکتا ہے، مگر گزرے دنوں کے اخراجات پر صرف متعلقہ اداروں کے ذمہ دارآڈٹ ہی کے ذریعے گرفت کر سکتے ہیں اسلئے بہتر یہی ہے کہ اس معاملے میں سی بی آر کے ماتحت متعلقہ آڈیٹرز ہی جائزہ لینے پر مامور کئے جائیں جو طے کریں کہ کہیں خوردبرد تو نہیں کی گئی اور اگر کسی کرپشن کا سراغ ملتا ہے تو اس میں ملوث ذمہ داروں پر ہاتھ ڈالنے میں کوئی امر مانع نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ اس بات پر معترض ہیں کہ اگر میاں نوازشریف نے اپنی جیب سے مہمانداری کے اخراجات برداشت کئے ہیں تو ان کا انکم ٹیکس گوشواروں میں تذکرہ کیوں نہیں ہے، تو ان کو یہ اعتراض کرنے کی ضرورت اسلئے نہیں ہے کہ یہ تو خود میاں نوازشریف کی مرضی تھی کہ وہ ان اخراجات کا تذکرہ انکم ٹیکس گوشواروں میں کرنا چاہتے تھے یا نہیں۔ البتہ یہاں قوم ان لوگوں سے یہ سوال کرنے کا حق ضرور رکھتی ہے جنہوں نے 126دن دھرنے کے دوران پارلیمنٹ کا نہ صرف بائیکاٹ کئے رکھا، اس پر لعنت بھیجتے رہے، قومی اسمبلی، سپریم کورٹ، پی ٹی وی پر مبینہ حملے کروائے، شاہراہ دستور کا حشر نشر کئے رکھا، استعفے دیکر بعد میں غیرآئینی، غیرقانونی اور غیراخلاقی طور پر واپس لئے بلکہ اس تمام مدت کی تنخواہیں بھی وصول کرکے قومی خزانے کو ٹیکا لگا دیا۔ کیا وہ اپنے ان اقدامات کا جواز دینے پر تیار ہیں یا صرف ذاتی بغض وعناد کے جذبات سے مغلوب ہوکر گئے دنوں کا سراغ ڈھونڈنے کی کوششیں کرکے آدمیت کے درجے سے نیچے اُترنے پر تلے بیٹھے ہیں۔

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

متعلقہ خبریں