Daily Mashriq


منشیات ،حیات آباد کی چاردیواری اور پولیس

منشیات ،حیات آباد کی چاردیواری اور پولیس

سب سے پہلے تمام قارئین کرام کو دلی عید مبارک۔ عیدالفطر اور یوم آزادی کے موقع پر جن لاتعداد قارئین نے مبارک بادکے برقی پیغامات بھجوائے تھے ان کو خاص طور پر مبارک اور شکریہ۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر خصوصی دعاؤں کی درخواست میں سوچ رہی تھی کہ عید کی خوشیوں میں ایسا کچھ قارئین سے شیئرکروں کہ باعث مسرت ہو۔ خوش قسمتی سے ایک ایسا پیغام ملا جس پر مجھے ذاتی طور پر بھی خوشی اسلئے ہوئی کہ قبل ازیں اس کالم میں پولیس کے حوالے سے ناخوشگوار امور کی نشاندہی ہی ہوتی رہی، مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی جی خیبر پختونخوا سے تین سلسلہ وار کالموں میں جو شکایات درشکایات ہوئیں تب جا کر کچھ معاملہ سدھرا۔ اس تھانہ کی پولیس کے حوالے سے حیات آباد فیز6 کے ایک مکین نے مژدہ سنایا ہے کہ ان کے علاقے کیساتھ لگنے والے سابق قبائلی علاقہ اور موجودہ ضلع خیبر کے علاقہ بیسئی سے حیات آباد کی شکستہ باؤنڈری وال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے منشیات لانے والوں کی تاتارا پولیس کچھ عرصہ سے پوری طرح نگرانی کرنے لگی ہے اور آئے روز منشیات فروشوں کی گرفتاری علاقہ مکینوں کیلئے خوشگوار حیرت کا باعث ہے۔ میرے قاری نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ حیات آباد فیز6 کی حفاظتی دیوار جگہ جگہ سے توڑ کر ضلع خیبر سے آمدورفت کیلئے جگہیں بنا دی گئیں ہیں۔ جائز ضرورت کیلئے آمد ورفت اگر غیر قانونی راستے سے بھی ہو تو قابل اعتراض نہیں صرف نظر کی گنجائش ہے مگر جہاں منشیات فروشی کی لعنت میں ملوث لوگ دیوار پھاند کر آنے لگیں ان کا تدارک ضروری ہے۔ اس قسم کی شکایات پر صفوت غیور شہید نے بطور کمانڈنٹ ایف سی سخت ایکشن لیا تھا اور فرنٹیر کانسٹیبلری کے چیک پوسٹوں پر آرام کرنے کے عادی عملے کی دیوار کی حفاظت اور آمد ورفت کی روک تھام کرنے کی ڈیوٹی لگائی تھی۔ اس وقت دیوار کو نقصان پہنچانا یا غیرقانونی آمد ورفت ناممکن تھا۔ دھیرے دھیرے ایف سی کے اہلکار ڈیوٹی چھوڑ کر چیک پوسٹوں تک محدود ہوگئے اور منشیات فروشوں نے دیواریں گراکر آمد ورفت شروع کر دی۔ اب بھی ایف سی اہلکاروں کی ڈیوٹی کاغذوں میں لگتی ہے، تنخواہیں ملتی ہیں مگر اپنے چیک پوسٹوں سے دو گز آگے کے فاصلے سے بھی وہ بے خبر بیٹھے ہوتے ہیں۔ کمانڈنٹ ایف سی لیاقت علی خان کو ایف سی کے نفری کی اس غفلت کا نوٹس لینا چاہئے، ایسا کرنے سے منشیات فروشوں کی غیرقانونی آمد ورفت رک جائے گی اور تاتارا پولیس کی مدد کیساتھ ساتھ علاقے کے مکینوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی پوری ہوگی۔ نگران حکومت کی آمد کے بعد اور الیکشن کی گہما گہمی میں مطالبات میں کمی آگئی تھی، نئی حکومت سے لوگوں کی توقعات وابستہ ہونا اور خاص طور پر موجودہ صوبائی حکومت سے خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کی بھرپور توقعات کی وابستگی فطری امر ہے۔ میرے ایک نوجوان قاری جو میکینکل انجینئر ہے ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ صوبائی حکومت نے صوبے میں ڈاکٹروں کو کافی مراعات دیں اور ان کے مسائل حل کئے، ہم انجینئرنگ کے شعبے وابستہ لوگوں کی موجودہ صوبائی حکومت سے توقعات ہیں کہ ہمارے مسائل بھی حل کئے جائیں گے۔ مجھے یاد پڑتا ہے گزشتہ حکومت کے آخری چند ماہ میں انجینئر برادری نے ایک دو مرتبہ کافی بڑے اشتہار شائع کر کے اپنے مطالبات سامنے لائے تھے علاوہ ازیں بھی میڈیا پر وہ مطالبات دہراتے رہے، بہرحال انجینئر برادری کے جائز مطالبات پر ترجیحی بنیادوں پر توجہ نہ دینے کی کوئی وجہ نہیں۔ وزیراعلیٰ محمود خان سے خصوصی گزارش ہے کہ وہ خصوصاً میکینکل انجینئروں کے مسائل ومطالبات پر توجہ دیں۔

مردان سے گل محمد کا برقی پیغام ہے کہ خواتین ٹیچرز کمیونٹی بے یار ومددگار ہے۔ ان کے مسائل ومشکلات پر کافی عرصہ قبل دوچار مرتبہ لکھا جا چکا۔ واقعی ملازمت بھی کی جائے اور تنخواہیں بھی نہ ملے۔ میری پوری ہمدردی ہے ان بہنوں سے اور مجھے امید ہے کہ آنیوالی حکومت کمیونٹی ٹیچرز کے معاملات کا ہمدردانہ جائزہ لیکر ان کا مستقل حل تلاش کرے گی، نااُمیدی اور مایوسی گناہ ہے اور مشکلات میں اضافے کا سبب بھی۔ ہمت وحوصلہ اور صبر مشکلات کو سہل اور ہلکا بنا دیتے ہیں۔

میرے ایک اور قاری نے شکایت کی ہے کہ گورنمنٹ ہائی سکول آدمزئی لکی مروت میں ستمبر 2017ء سے ایس ایس ٹی جنرل کی دو، ایس ایس ٹی بیالوجی کی دو، ایس ایس ٹی میتھس، سی ٹی اور پی ای ٹی کی ایک ایک آسامی خالی پڑی ہے۔ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی موجودگی میں پڑھائی کا معیار اور پڑھائی پر توجہ اساتذہ کی غیر حاضریوں اور حاضری کے باوجود کلاسیں نہ لینے یا پھر پوری دلچسپی سے طالب علموں کی تدریس پر توجہ نہ دینے کی شکایات عام ہیں اگر اساتذہ میرٹ سے تعینات ہی نہ ہوں اور اسامیاں خالی پڑی ہوں تو یہ تو مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق معاملہ ہے۔ لکی مروت کے لوگ محنت کے بل بوتے پر مقام پیدا کرنے کی شہرت کے حامل لوگ ہیں۔ اس علاقے میں تعلیم کی ترویج خصوصی توجہ کا متقاضی ہونا چاہئے کجا کہ سکولوں میں مہینوں کئی کئی اسامیاں سرے سے خالی پڑی رہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ایک ہی سکول میں اتنے اساتذہ کی کمی کی وجہ کیا ہے اور متعلقہ حکام ان آسامیوں کو پر کرنے پر توجہ کیوں نہیں دیتے۔ سبجیکٹ سپیشلسٹ سینئر کلاسوں کو پڑھاتے ہیں۔ طلبہ کو اگر پڑھانے کیلئے اساتذہ ہی میسر نہ آئیں تو بیچارے طالب علم سیکھیں گے کیا اور میرٹ پر کیسے آئیں۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور جس بھی وزیر کو تعلیم کا قلمدان ملے ان کو چاہئے کہ لکی مروت کے اس سکول میں اساتذہ کی خالی آسامیاں فوری پر کی جائیں۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر قارئین سے صفائی کا خاص خیال رکھنے کی خصوصی گزارش کیساتھ اجازت۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں