Daily Mashriq


بکرے کی آپ بیتی

بکرے کی آپ بیتی

نادانی کے دنوں میں اُردو کے امتحانی پرچے میں ایک سوال آیا تھا کہ کسی میلے کا آنکھوں دیکھا حال تحریر کریں۔ لو جی! ہم نے اپنے محلے کے بھولے نانبائی جنہیں ہم دوست پیار سے (غائبانہ طور پر منہ پر نہیں ) میلا کہتے تھے۔ یعنی میلاکچیلا والا میلا۔ آج اعتراف کر ہی لیں کہ ہم نادانی میں میلہ کو میلا سمجھ بیٹھے تھے۔ سو ہم نے ’’میلا‘‘ کا آنکھوں دیکھا حال لکھ ڈالا۔ بھولے کے لباس، عادات بلکہ اخلاقیات تک میں جو جو میلا پن موجود تھا سب اپنے اسلوب بیان میں ڈھال دیا۔ افسوس کہ سکول کے چپڑاسی نے وہ ردی کہ جس میں ہمارا وہ شاندار مضمون ’’چھپا‘‘ تھا، بھولے پر بیچ دی تھی کہ جسے ہم پیار سے میلا اور بہت پیار آنے پر کچیلا بھی کہہ دیتے تھے۔ہم سے غلطی یہ ہوئی ہم نے مضمون میں تشبیہ واستعارے سے کام نہیں لیا تھا بلکہ حقیقت نگاری کی انتہا کرتے ہوئے بھولے کا شجرہ، اس کی دکان کا پتہ اور یہاںتک کہ اس کا شناختی کارڈ نمبر تک درج کر دیا تھا۔ میلے کچیلے لوگ عموماً تشدد پسند نہیں ہوتے لیکن اس مضمون کے بعد بھولے نے اس اصول کی قطعی طور پر لاج نہ رکھی۔وہ تو خیر ہوئی کہ ہم اپنی پھپھو کے گاؤں بطور مہمان چلے گئے تھے ورنہ ہماری نثرنگاری ہماری بیالوجی میںتبدیلیوں کا باعث بن جاتی۔ اس واقعے کے بعد ہم نے ’’سوانح نگاری‘‘ کے فن سے تائب ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر نثر نگاری جو گھٹی میں پڑی تھی اس سے بھلا کیسے جان چھڑا سکتے تھے۔ سو ہم نے سوانح نگاری کی جگہ اب آپ بیتی لکھنا شروع کر دی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سوانح میں متکلم کا صیغہ وہ، اس یا پھر زید عمر بکر کا نام ہوتا ہے جبکہ آپ بیتی میں میں میں کی گردان ہوتی ہے۔ اس میں کے اندر خودپسندی کا اپنا ایک ذائقہ موجود ہے جو دنیا کے کسی دوسرے پکوان میں میسر نہیں ہے۔ آپ کو میری نثر نگاری کی خدداد صلاحیتوں سے یقینا حیرت ہو رہی ہوگی لیکن بہرحال یہ حقیقت ہے کہ ہم نے آپ بیتی کا یہ فن سیکھ ہی لیا ہے۔ اس فن کا مؤجد بھی ہمارا امتحانی نظام ہی ہے کہ جس میں سوال آجاتا ہے ایک کرسی، پرانے کوٹ، قلم، موٹرکار یا کسی میز کی آپ بیتی لکھئے۔ اس میں بس اتنا کرنا ہوتا ہے کہ خود کو کسی دوسرے کردار میں ڈھالنا ہوتا ہے۔ یقین کریں جب آپ خود کو کرسی، کوٹ، قلم یا موٹرکار کے کردار میں ڈھالتے ہیں تو آپ کی پرسپشن ہی بدل جاتی ہے۔ اپنی سیلف سے نکل کر دوسری سیلف میں چند لمحوں کیلئے حلول کر جانا واقعی عجیب ہے۔ اگر آپ کو یقین نہیں آرہا تو آئیے ایک مشترکہ تجربہ کرتے ہیں ایک آپ بیتی لکھتے ہیں۔ قربانی کے بکرے کی آپ بیتی۔ عموماً آپ بیتی ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے کہ ’’میں ایک بکراہوں‘‘ لیجئے اس ایک جملے سے ہی ہم کنکریٹ کی اس دنیا سے لہلہاتے کھیتوں کھلیانوں اور سبزہ زاروںکی ایک نئی دنیا میں پہنچ گئے۔ جہاں چرنا چگنا ہی زندگی کا اہم اور اولین مقصد ہو۔ جہاں گھا س کی وافر مقدار ہی زندگی کا حسن ہو۔ درختوں سے پتیاں توڑنا ہی مقصد حیات ہو۔ نہ گاڑی، نہ بنگلہ، نہ ہی بینک بیلنس کا چکر، نہ ہی شہرت کی بھوک، نہ ہی دوستی نہ ہی دشمنی۔ بس بکرے ہو تو بکرے بن کر جیو۔ نہ ہی ٹی وی پر ٹاک شو دیکھنے کا عذاب، نہ ہی کسی سیاسی پارٹی سے وابستگی کی وجہ سے اس کے کمزور فیصلوں کی وضاحتیں کرنے کی تہمت۔ بس زندگی سکون اور چین ہی لکھے۔ دن کو چرنا چگنا اور رات کو سو جانا۔ نہ کوئی مشقت نہ ہی کوئی تقاضا۔ اس آپ بیتی میں بکرے کی زبان سے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ میرا مالک (انسان ) مجھ سے اور اپنے تمام بکروں سے بڑی محبت کرتا تھا۔ خاص طور پر مجھ جیسے کیوٹ بکرے سے تو مالک کے بچے بھی محبت کرتے ہیں۔ مجھے گود میں اٹھا کر پیار کرتے ہیں۔یہاں بکریوں کی بے وفائی کا مذکور نہ بھی کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ ہم نے کون سا یہاں ’’یادوں کی برات‘‘ کا پارٹ ٹو لکھنا ہے۔ چاہے کہانی ہو، چاہے آپ بیتی اس میںٹریجڈی نہ ہو تو نثرپارہ کلاسیکی درجے تک پہنچ نہیں سکتا۔ اس آپ بیتی میں ہم یوں المیہ ڈال سکتے ہیں کہ۔۔ اس سبزہ زار میں بہت خوشگوار دن گزر رہے تھے۔ ہم سب بکرے بکریاں بہت پرسکون زندگی گزار رہے تھے کہ ایک دن کچھ لوگ اس فارم ہاؤس میں آئے اور ہم سب بکروں کو ’’خریدار‘‘ کی نظروں سے تولنے لگے۔ کسی کی کمر کو پکڑتے تو کسی کو اُٹھا کر وزن کرتے۔ سارے ریوڑ میں بے چینی سی پھیل گئی اور پھر اس مالک نے کاغذوں کو گن کر جیب میں ڈالا ہمیں گاڑی میں لوڈ کرکے شہر کی ایک منڈی میں لے جایا گیا کہ جہاں دنیا جہان کے مویشی بیزار کھڑے ہیں۔ یہاں عجیب تماشہ ہے۔ جو بھی آتا ہے پہلے دانت دیکھتا ہے پھر وزن۔ شکر اللہ کا کہ ایک معزز شخص آیا اور اس کے ننھے بچے کو ہماری وجاہت اچھی لگی اور وہ ساتھ مجھے اپنے بنگلے لے گئے۔ بہت پیار کرنے والا خاندان تھا۔ اب ٹیکنیکل طور پر ہم اس آپ بیتی کو مذید آگے نہیں بڑھا سکتے کیونکہ اس کے آگے کے مناظر بیچارہ بکرا بیان نہیں کرسکتا کہ جو قربان ہوتے ہیں ان کی قربانیاں دوسرے بیان کرتے ہیں۔ اُمید ہے آپ بھی آپ بیتی لکھنے کے قابل ہو چکے ہوں گے۔

متعلقہ خبریں