Daily Mashriq

مقبوضہ کشمیر پر عالمی ادارہ انصاف سے رجوع

مقبوضہ کشمیر پر عالمی ادارہ انصاف سے رجوع

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو عالمی عدالت انصاف میں اٹھانے کا ٹھوس جواز ضرور ہے لیکن اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد ہی میں ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دنیا بھر سے تشویش کااظہار کیا جارہا ہے جن کو بھارت اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کی حیثیت اور نفاذ اخلاقی سا ہوتا ہے اصل سوال یہ ہے کہ جب تک عالمی عدالت انصاف سے فیصلہ نہیں آتا اس وقت تک تو معاملہ تریاق از عراق آمدہ شود مارگزیدہ مردہ شود کے مصداق ہوگا۔ بہر حال اس کے باوجود یہ ایک اہم فیصلہ اس لئے ہے کہ اس پلیٹ فارم پر باقاعدہ طور پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا موقع ملے گا ۔ جہاں تک مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی موقف کا تعلق ہے یہ عالمی عدالت انصاف کی سطح پر ہو یا پھر سلامتی کونسل کی سطح پر بھارت کے پاس اپنے اقدام کا کوئی معقول جواز ہے ہی نہیں اگر ہم خود بھارتی اکابرین کے بیانات اور اقوام متحدہ میں ان کے وعدوں کے تناظر ہی میں دیکھیں تو بھارتی لیڈر از خود یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر پر ان کا تسلط برحق نہیں 1934ء میں گاندھی نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ’’ چونکہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اس لئے میں جانتا ہوں کہ ایک دن یہ مسلمان ریاست ہی بنے گا‘‘۔ بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے یکم اگست 1952ء کو بھارتی پارلیمان سے خطاب میں کہا تھا کہ ’’ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی اور خوشی کے مطابق ہوگا۔ اس پارلیمنٹ (بھارتی پارلیمان) کے پاس اختیار نہیں کہ وہ کشمیر پر اپنی مرضی مسلط کرسکے‘‘۔ بھارت کے ان د و رہنمائوں کے بیانات ہی عالمی عدالت انصاف میں کشمیر کا مقدمہ جیتنے کے لئے کافی ہیں۔ انسانی حقوق کی جو سنگین خلاف ورزیاں بلکہ مسلمانوں پر جو بدترین مظالم ڈھائے جا رہے ہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو آبادی کی تعداد کے تناسب سے ہر دس افراد پر ایک فوجی تعینات کرکے ہر قسم کے رسل و رسائل اور مواصلاتی رابطے معطل کرکے مظاہرین کو پیلٹ گنوں کا نشانہ بنا کر ان کے چہروں اور آنکھوں میں چھرے اتار کر انسانیت کے خلاف جس قسم کے جرائم کا ارتکاب کیاجارہا ہے وہ سب دنیا کی نظروں سے زیادہ پوشیدہ نہیں ان حقائق کے ساتھ عالمی عدالت انصاف میں پوری تیاری کے ساتھ کیس لڑا جائے تو کامیابی کے امکانات سو فیصد ہیں۔ جہاں تک تنازعہ کشمیر کا سوال ہے اس حوالے سے بھی پاکستان کا موقف مدلل اور واضح ہے شملہ معاہدہ کے تحت دونوں ممالک اس امر پر اتفاق کرچکے ہیں کہ دیرینہ حل طلب معاملات کے حل تک کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر کوئی تبدیلی نہ لانے کا پابند ہے اور متنازعہ معاملات کا حل باہمی مذاکرات کے ذریعے نکالنے پر اتفاق ہوا تھا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جو یکطرفہ قدم اٹھایا ہے اس کے بعد تو عالمی قانون کے تحت کشمیر میں مسلح مزاحمت کی مدد بھی جائز قرار پاتی ہے۔ پاکستان کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک سے زیادہ امکانات ہیں جن پر غور کرنے اور پوری قوم اور سیاسی قیادت کو اعتماد میں لے کر اقدامات کی ضرورت ہے۔ باہم مشاورت اور اتحاد و اتفاق سے جو بھی قدم اٹھایا جائے اس میں کامیابی کا امکان زیادہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں