Daily Mashriq

سیف سٹی کے چیلنجز

سیف سٹی کے چیلنجز

پشاور کو سیف سٹی بنانے میں مزید تاخیر کی بجائے جدید نظام متعارف کرانا موجودہ حکومت کی احسن کارکردگی میں شمار ہوگا۔ امر واقع یہ ہے کہ گزشتہ دو تین دور حکومتوں میں اس حوالے سے مژدہ تو سنایا جاتا رہا لیکن صحیح معنوں میں پیشرفت سامنے نہ آئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس نہایت جدید اور بین الاقوامی طرز کے منصوبے میں ان غلطیوں اور کوتاہیوں کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے جو ہماری حکومتوں کا خاصہ رہی ہیں۔ سیف حیات آباد کے نام پر اس طرز کا جو نظام قائم کرنے کی کوشش کی گئی اولاً وہ ادھورا ہے اور اس کے لوازمات پورے نہ کئے گئے دوم یہ کہ بوقت ضرورت اکثر و بیشتر اس جگہ کے کیمرے کام نہ کرنے کی شکایت سامنے آئی ہے جو حوصلہ شکن امر ہے۔ ایک محدود اور مناسب علاقے میں اس نظام کو کامیابی سے چلانے میں ناکامی کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو صوبائی دارالحکومت میں ایک مربوط نظام کا قیام اور اسے رائج کرنا کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ اس کے لئے آلات کی خریداری میں شفافیت اور احتیاط کے تقاضوں کو مد نظر رکھنا آلات کی تنصیب اوراس کے بعد ان کو پوری طرح فعال رکھنا کوئی آسان کام نہ ہوگا۔ حیات آباد میں ایک ضمنی اور ثانوی طرز کے قائم نظام میں جو خامیاں اورکوتاہیاں سامنے آئی ہیں ان کا تجزیہ اور ان کو دور کرنے کاتجربہ نئے نظام کو کامیاب بنانے میں مدد گار ہوگا جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔توقع کی جانی چاہئے کہ اس ضمن میں جلد ہی پیشرفت سامنے آئے گی اور پشاور کو محفوظ صوبائی دارالحکومت بنانے کے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔

سیاحوں کی رہائش کا محدود انتظام

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سیاحتی مقامات کے مکینوں کو گھر کا ایک کمرہ سیاحوں کو کرایہ پر دینے کی تجویز اور اس کے لئے لوگوں کو قرضہ دینے کی پیشکش شمالی علاقہ جات‘ چترال اور خیبر پختونخوا کے سماجی و معاشرتی حقائق کے تناظر میں موزوں تجویز نہیں۔ ان علاقوں کے لوگ بطور مہمان اور مہمان نوازی سیاحوں کو رہائش و خوراک ‘ پھل اور تحائف کی پیشکش تو کرسکتے ہیں ان کو گھر کا ایک کمرہ کرایہ پر نہیں دے سکتے۔ بیشتر علاقوں میں گھروں سے علیحدہ دو تین کمروں کا مہمان خانہ بنا ہوتا ہے اس سیاحوں کو کرایہ پر دینے پر لوگوں کو اعتراض نہ ہوگا ایسا کرنے سے سیاحوں کو جگہ جگہ رہائش کی سہولت اور لوگوں کو اضافی آمدن کاذریعہ میسر آئے گا۔ سیاحتی مقامات پر لوگوں کو اضافی عمارت یا کمرے تعمیر کرنے کے لئے حکومت قرض فراہم کرے تو یہ مناسب اور لوگوں کے لئے قابل قبول ہوگا۔ سیاحتی مقامات پر چھوٹے چھوٹے مکانات تعمیر کرنے کے لئے لوگوں کی ملکیتی زمین کی کمی نہیں حکومت لوگوں کے ساتھ مشترکہ منصوبہ بھی شروع کرکے سیاحوں کو سہولت اور مقامی لوگوں کو آمدنی کا ذریعہ مہیا کرسکتی ہے۔ ایسا تب ہوگا جب اس طریقے کو رواج دیا جائے اور سیاحوں کو یہ سہولت مہیا کرتے ہوئے ان کو وہاں تک رسائی کی سہولت فراہم ہو۔ سیاحوں کو ان مقامات پر مقامی طور پر تیار کردہ کھانوں کی سہولت بھی مقامی آبادی کے تعاون سے مل سکتی ہے جو الگ سے دلچسپی اور آمدنی کا باعث ہوگا۔

وزیر صحت ذمہ داروں کی سزاء یقینی بنائیں

یکہ غنڈ میں سانپ کے ڈسے کی ویکسین نہ ملنے پر بچی کے جاں بحق ہونے کا واقعہ صوبے میں صحت کی سہولیات اور ہسپتالوں کی کارکردگی بارے سوالیہ نشان ہے۔ متاثرہ بچی کو بروقت ویکسین نہ ملنا ہی مسئلہ نہیں ڈاکٹروں کی غیر حاضری کا بھی اس واقعے میں پول کھل گیا جو صحت کی سہولیات عوام کو ان کی دہلیز پر فراہمی کے دعوئوں کی عملی نفی ہے۔ یکہ غنڈ ہسپتال میں سہولیات نہ ملنے پر وزیر صحت کی جانب سے رپورٹ طلبی روایتی طریقے کی پوچھ گچھ اور خانہ پری سے زیادہ کچھ نہیں۔ قبل ازیں اس قسم کے درجنوں واقعات کی انکوائری کے احکامات دئیے جاچکے ہیں جس کے نتیجے میں ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کم ہی سامنے آئی۔ ضرورت ناگہانی کے وقت ویکسین نہ ملنے اور علاج میں ارتکاب غفلت پر متعلقہ عملہ ہسپتال کی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے متعلقہ ضلعی حکام کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے جب تک اس حوالے سے سخت اقدامات سامنے نہیں آتے اور سرکاری عملہ کو اس امر کا یقین نہیں ہوتا کہ غفلت کے مرتکب ہونے پر ان کے پاس سوائے سزا پانے کے اور کوئی راستہ باقی نہ ہوگا اس وقت تک اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن نہ ہوگی۔ وزیر صحت اگر اس واقعے میں مثال قائم کریں تو یہ ایک اچھی ابتداء ہوگی۔اگر اپنی نوعیت کی یہ پہلی مثال ہوتی تو اسے نظر انداز کرنے کی گنجائش تھی لیکن اب یہ معمول بن چکا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں نہ تو ضروری ادویات کی دستیابی ہوتی ہے اور نہ ہی ڈاکٹر اور متعلقہ عملہ دستیاب ہوتا ہے اپنی موجودگی کے باوجود وہ مریضوں کے علاج معالجے سے جو غفلت برتتے ہیں وہ بھی کوئی راز کی بات نہیں حال ہی میں صوبے کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال میں مریضوں کی جھرمٹ میں ڈاکٹر کا مریضوں پر توجہ کی بجائے برقی پیغامات پرتوجہ کی تصویر قابل تردید امر نہیں جب تک اس طرح کے حالات سامنے آتے رہیں گے حکومت کا صحت کی سہولتوں پر کروڑوں اربوں روپے خرچ کرنا اور عوام کو صحت کی سہولت ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کا دعویٰ باطل ہی سمجھا جائے گا۔

کڑے احتساب کی مثال

اختیارات کے غلط استعمال پر حاضر سروس میجر کو سخت سزاء کی آرمی چیف کی طرف سے توثیق فوج میں سخت اور بلا امتیاز احتساب کی تازہ مثال ہے۔ اگرچہ جرم جو بھی کرے وہ قابل مذمت سنگین اور قبیح فعل ہوتا ہے لیکن اس عہدے کے شخص کا یہ فعل زیادہ سنگین اس لئے بھی تھا کہ ایک باوقار ادارے کے افسر سے اس قسم کے جرم کی توقع ہی ممکن نہیں کجا کہ ان پر الزام ثابت ہوجائے اور ان کو سزا بھی ملے۔ قانون کی حکمرانی اور بلا امتیاز انصاف کی اس طرح کی مثالیں قائم کرکے ہی اس قسم کے واقعات کی روک تھام ہوسکتی ہے اور اداروں کا وقار برقرار رکھنا ممکن ہوگا۔ پاک فوج میں احتساب کاجو نظام اور عمل ہے اس سے آگاہی کم ہی ہوتی ہے وگرنہ آئے روز اس قسم کی محکمہ جاتی تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی معمول کاعمل ہے چونکہ یہ مقدمہ زیادہ سنگین اور عوامی نوعیت کاتھا اس لئے اس حوالے سے حساسیت بھی زیادہ ہونا فطری امر تھا جس کا سزا پر عمل درآمد سے ازالہ ضروری تھا۔

متعلقہ خبریں