Daily Mashriq

خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت

خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت

ہماری کامیابی کے چرچے تو بہت ہیں۔ ہمیں یقین دلانے کی بھی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر بڑی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔ سلامتی کونسل کا اجلاس کبھی پچھلی پانچ دہائیوں میں کشمیر کے نام پر نہیں بلایاگیا تھا۔ دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ نہیں۔ کشمیر پر بھارت کو اب پاکستان سے بات کرنا ہی ہوگی لیکن بھارت کی جانب سے پاکستان کو ایٹمی جنگ کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ضروری نہیں بھارت ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں احتیاط کی پالیسی ہی اپنائے۔ آرٹیکل 370کے مستقبل کے حوالے سے بھی کوئی بات نہیں کی جارہی۔ ادھر کشمیر میں لوگ مسلسل مارے جا رہے ہیں۔ ظلم کا شکار ہیں اور ان کی آواز در اصل کہیں بھی سنی نہیں جا رہی۔ مسلمان ملکوں کے اتحاد کا عالم یہ ہے کہ اس خطے میں پاکستان کے دو قریبی ہمسائے ایران اور افغانستان ہیں جن کی مکمل ہمدردیاں اور وفاداریاں بھارت کے ساتھ ہیں۔ ان کی جانب سے یوں بھی بھارت پر کسی قسم کا دبائو یوں ممکن نہیں کہ وہ تو خود بھارت کے وسائل سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں۔ بھارت کی جانب سے دونوں ہی ملکوں میں بے شمار سرمایہ کاری کی گئی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت معیشت ہے۔ تبھی دونوں ملکوں کی جانب سے بھارت پر وزن ڈالنے کی کوشش کرنا تو درکنار‘ معمولی احتجاج بھی نہیں کیاگیا۔ میں اس وقت قطعی مسلم امہ اور اس کے اتحاد کی بات نہیں کر رہی کیونکہ سچ پوچھئے تو ہمارے آباء کے اس خواب نے کبھی جڑ نہ پکڑی۔ نہ اس وقت جب بر صغیر خلافت عثمانیہ کی تحریک میں خون بہا رہے تھے اور نہ آج جب کشمیر میں بہتے خون کو مسلمانوں کا اتحاد ایک لمحے میں آزادی اور انصاف کی امید دلا سکتا ہے۔ وہی معیشت اس اتحاد کے آڑے بھی آتی ہے۔ اب وہ وقت ہے کہ کسی مسلمان بہن کی دہائی پر کوئی محمد بن قاسم نہیں جاگتا۔ کیونکہ وہ دیکھ چکا ہے کہ ہر بار دیبل کی فتح کے بعد اسے واپس حجاج بن یوسف کے پاس لوٹ کر جانا ہے اور وہاں اسے رسوائی اور موت کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔ یہ خاموشیاں ہم نے خود اپنے ہونٹوں کو سینے کے لئے استعمال کی ہیں اب ان کا علاج کیسے ممکن ہو۔ میں نے اپنے ارد گرد لوگوں کو کڑھتے دیکھا ہے کہ او آئی سی ہی کشمیر کی مدد کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا تو بھارت کی طبیعت صاف ہوجاتی۔ میں ہنس دیتی ہوں۔ اگر وہ اٹھ کھڑے ہوتے تو بات ہی کیا تھی ‘ وہ اٹھ کھڑے نہیں ہوتے کیونکہ انہیں اس کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ شام میں عراق میں‘ فلسطین میں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔ کون اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ کشمیر کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے۔ یہی تو ہمارے دشمنوں کا کمال ہے کہ ہمیں اس وقت تک تکلیف کا احساس ہی نہیں ہوتا جب تک آگ ہمارے دروازے کو جلاکر اندر داخل نہ ہوجائے اور جب ایسا ہو بھی جائے تو ہمارے ہمسائے چین کی نیند سوتے ہیں۔ اس سب میں ہمارے لئے جذباتیت کا‘ احساس کا‘ بھائی چارے کا کوئی سبق نہیں بس ایک ہی سبق ہے اور وہ یہ کہ معیشت اور معاشی تعلقات اب اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہیں۔ یہ محبتیں‘ اتحاد‘ تعلق‘ دوستی گزری صدیوں کی باتیں ہیں۔ اب کسی ملک کو اپنے ہمسائے سے اچھے تعلقات رکھنے ہیں تو اس کے لئے اسے معیشت کی جڑیں سرحد پار جوڑنا ہوں گی۔ اسے اپنے وسائل کو ہمسائیوں کے مفاد سے منسلک کرنا ہوگا۔ پاکستان کو بھی یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اپنے اپنے وسائل سے بھی آگہی کی ضرورت ہے۔ جب تک یہ آگہی مکمل نہ ہوگی اس وقت تک پاکستان کو اپنے لئے معاملات کی درستگی میں مشکلات پیش آتی رہیں گی۔ پاکستان اگر اس بات کا ادراک کر لے کہ گوادر کی صورت میں پاکستان کے پاس ایک سونے کی کان موجود ہے اور اگر اسے اسی طرح استعمال نہ کیا جائے تو اس کا پاکستان کو شدید نقصان ہوگا۔ اگر پاکستان سمجھ لے کہ راہداری کی صورت میں پاکستان کو بے شمار فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ راہداری کے معاملات اور گوادر تک رسائی صرف ایران کی ہی نہیں بلکہ وسط ایشیائی ممالک کے لئے بھی بہت اہم ہے۔ یہ اہمیت روس کے مفادات کے حوالے سے اوربھی سوا ہے۔ اگر پاکستان نے اس بات کی اہمیت کا اندازہ کرلیا ہوتا‘ ملکوں کے معاشی فوائد کو اپنے سے اس حد تک وابستہ کرلیا ہوتا کہ پھر وہ پاکستان کی کسی صورت مخالفت کا سوچ بھی نہ سکتے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھارت پر دبائو کے لئے ان ہمسایہ ممالک کو کہنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ کشمیر کے معاملات پر اقوام عالم کے روئیے کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ اگر آج یہ نظر ثانی کرلی جائے تو عین ممکن ہے ہم کل کشمیر کا حل تلاش کرنے میں یا بھارت پر دبائو ڈال کراس حوالے سے کوئی راہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ پاکستان کو اب بہت کچھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر اب بھی ہم نے نہ سیکھا تو حالات اس سے بھی زیادہ دگر گوں ہوجائیں گے۔ کامیابی کے چرچے اپنی جگہ لیکن حقیقت سے آگہی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں