Daily Mashriq

سیاست دان بمقابلہ سائنس دان

سیاست دان بمقابلہ سائنس دان

پاکستان اس وقت دنیا میں میزائل ٹیکنالوجی کی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر ہے ،دو سپر پاور امریکہ اور روس کے بعد تیسرے نمبر پر پاکستان ہے ۔دنیا حیران ہے کیونکہ قیام پاکستان کے وقت ہمارے وسائل بہت کم تھے لیکن پاکستان کے پاس جو جذبہ تھا اس نے ہمیں اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت اور عالمی سطح پر جدید میزائل ٹیکنالوجی میں تیسری بڑی قوت بنادیاہے۔ مسائل کے انبار ہونے کے باوجودپاکستان کی ذہانت اور باصلاحیت افرادی قوت نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔وطن عزیز نے کروز میزائل حتف کے یکے بعد دیگرے کئی کامیاب تجربات کر لئے ہیں 1990ء میں حتف۔ I فوج کے حوالے کیا گیا، 1998ء میں حتف Vجسے غوری میزائل کا نام دیا گیا ، 2013ء میں حتف IXجسے نصر کا نام دیا گیا فوج کے حوالے کیا گیا۔حتف ixیا نصر صرف پانچ سیکنڈز میں بھارت کے 380,000(تین لاکھ اسی ہزار) فوجی جہنم واصل کرنے کی صلاحیت رکھتاہے اس طرح بھارت کی پوری کی پوری فوج چند منٹوں کی مار ہے، نصر میزائل بھارت کے شارٹ رینج کولڈسٹارٹ ڈاکٹرائن کا منہ توڑجواب بھی ہے۔ زمین سے زمین پرتھوڑے فاصلے سے اور ہزاروں کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل ہیں۔ یہ تمام حتف ہر طرح کا وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ہمیں جنگی جنون نہیں لیکن دوسری طرف ہمارا پڑوسی ہمارا ازلی دشمن روز بروز ایک نئے میزائل کا تجربہ کررہا ہے وہ ہم سے ہر ٹیکنالوجی میں آگے نکلنے کی کوشش میں تھا اور سب سے بڑھ کر وہ ہم سے دفاعی لحاظ سے طاقتور ہونا چاہتاہے یوں اس کا توڑ کرنا ہماری بھی مجبوری ٹھہری، اس دوران الخالد ٹینک ، الزرار ٹینک بھی بنائے ، ان میزائلوں کے تجربوں کے بیچوں بیچ ہمارے چالاک دشمن نے ایٹمی دھماکہ بھی کرلیا، جس کے جواب میں پاکستان کا ایٹمی تجربہ کرنا لازمی تھاسو ہم نے زمانے کے خدائوں کی مخالفت اپنے سرلے کر ملک خداداد کو ناقابل تسخیر کرلیا۔

یہاں تک توپاکستان اور بھارت کا مقابلہ خوب رہا اور اس سارے کھیل میں پاک دھرتی کے ہر فرد نے بھر پور ساتھ دیا سائنس دانوں نے بم بنایا سیاست دانوں نے اسکا تجربہ کیا مگر اس کے بعدبھارت نے اپنے عظیم سائنس دان کو اپنے ملک کا صدر بنادیا (مسلمان ہونے کے باوجود) لیکن ہمارے پنڈتوں نے محسن پاکستان کے ساتھ اچھوت کاکام کیا اسے اٹھاکر جیل کی کال کوٹھڑی میں ڈال دیا، اس کے بعد کوئی نہیں بولا سیاست دان کی رہائی کے لئے لوگ خون بہانے کو تیار ہیں ایک چیف جسٹس کے لئے لوگ رات دن پیدل چلتے رہے مگر اس عظیم مسلمان سائنس دان کے لئے کوئی ایک منٹ کے لئے بھی پریشان نہیں ہوا، کچھ سیاسی جماعتوں کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں ججوں کی بحالی کا ذکر تو رہا مگر محسن ِپاکستان ڈاکٹر قدیر خان کی رہائی کے بارے میں کوئی نہیں بولا ۔دینی جماعتیں بھی خاموش ہیں، نواز شریف کے بھی لب سیے ہوئے ہیں، عمران خان کی توجہ بھی اس طرف نہیں،اسفندیار ولی بھی انہیں بھول گئے ہیں، ججوں کی محب الوطنی بھی قابل ستائش ہے پر کوئی تو ہو جو اس کی بھی بات کرے کہ جس نے اس وطن کو مضبوط بنایا ۔

سائنس دان تو اب بھی دفاع وطن کے لئے کام کررہے ہیں مگر سیاست کے یہاں تو کچھ الٹ ہی چل رہا ہے ، ایک آمر کے دورمیں پاکستان کے ایٹمی سائنس دان کوٹی وی پر آکر اپنے جرم کا اعتراف کروایاگیا ، اس وقت کی سیاسی لیڈرشپ نے مل کر کہا کہ فخرپاکستان کو اس جرم پر سزا ضرور ملنی چاہئے۔ اقتدار کے لئے ڈیل کرنے والے کیونکر پاکستان کے عظیم سپوت کو تختہ دار پر چڑھانے کے در پے ہیں کہ جس نے قوموں کی تاریخ میں پاکستانی قوم کا نام رقم کروایا کہ جس نے ہمارے پڑوسی دشمن کی اکڑ ختم کرکے ہمیں بھی ایٹمی طاقت بنا کر ناقابل شکست بنا دیا، آج تک سیاست دانوں نے اس ملک کو استحکام بخشنے کی بجائے اس کی جڑوں کو کھوکھلا کیا ہے، یہ سیاست دان امریکہ کی دوستی میں مرے جاتے ہیں لیکن اس سے آج تک اپنے خریدے ہوئے F-16جہاز تک تو لے نہیں سکے یہ کیا ملک کا دفاع مضبوط کریں گے۔

ہمارے جیسے غریب ملک کا ایٹم بم بنانا اپنی جگہ ایک منفرد اور انوکھا کام ہے ان سیاست دانوں کے ہوتے ہوئے جو ملک ابھی پوری طرح ترقی پزیر ملک بھی نہیں ہے ، جس ملک نے ابھی تک چینی، آٹااوربجلی جیسی عام سی ضرورت زندگی کے بحران پرپوری طرح بھی قابو نہیں پایا ۔ جس کے پاس اپنی انڈسٹری پوری طرح کام نہیں کررہی، تعلیم جیسی نعمت سے آدھے سے زیادہ لوگ محروم ہیںغرض جس ملک کی بنیادی ضروریات ابھی پوری نہیں ہوئیں وہ کیونکر اپنے دفاع کو پورا کرسکتا ہے لیکن ایک سائنس دان اور مرد مجاہد یہ ٹیکنالوجی لے کر پاکستان آیاتھا۔یہ وہ زمانہ تھا کہ ہم دشمن کے شیطانی حربوں کی وجہ سے آدھا ملک گنوا چکے تھے ۔اس سائنس دان نے سیاست دانوں کے بالکل الٹ یورپ کی چکا چوند کردینے والی دنیا کوخیر بادکہہ دیا، ان ملکوں کی بڑی بڑی تنخواہوں اور مراعات کو چھوڑ چھاڑ کر ملک عزیز کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں لگ گیا۔ ہمارے دشمن نے اپنے ایٹمی سائنسدان کو ملک کا سب سے بڑا عہدہ یعنی اپنا صدر بنا دیا تاہم ہمارے سیاست دانوں میں ابھی اتنی جرأت ہی نہیں لیکن یہ بات تو ایک کھلا سچ ہے کہ ہمارے عوام اب بھی اپنے ہیرو سے پیار کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، ہم یہ بات بتاتے چلیں کہ انقلاب آنے والا ہے اور وہ وقت اب دور نہیں کہ ہم اپنے حقیقی ہیرو کو ہیرو کا درجہ دے کر سر آنکھوں پر بٹھائیں گے۔

متعلقہ خبریں