Daily Mashriq

تجدید لائسنس: ٹیلی نار پاکستان کی 22 کروڑ 46 لاکھ ڈالر کی پیشکش

تجدید لائسنس: ٹیلی نار پاکستان کی 22 کروڑ 46 لاکھ ڈالر کی پیشکش

ٹیلی نار پاکستان نے لائسنس کی تجدید کے لیے حکومت کو ‘احتجاجاً’ 22 کروڑ 46 لاکھ ڈالر ادا کرنے کی پیشکش کردی۔

ٹیلی نار پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘ملک کے ساتھ اپنی وابستگی کے عزم کے طور پر اپنے قانونی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے حکومت کو 22 کروڑ 46 لاکھ ڈالر ادا کرنے کی پیش کش کی ہے، جس کا مقصد 4 کروڑ 40 لاکھ صارفین کو خدمات کی فراہمی اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے’۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘ٹیلی نار پاکستان کے جی ایس ایم لائسنس کی تجدید 25 مئی 2019کو ہونا تھی، جو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اٹھارٹی (پی ٹی اے) کے غیر منصفانہ مطالبات کی وجہ سے موخر ہوئی اور اس سے مسابقتی ماحول واضح طور پر متاثر ہو سکتا ہے’۔

ٹیلی نار کا کہنا تھا کہ ‘ٹیلی نار اپنے لائسنس کی بروقت تجدید کا خواہاں رہا ہے اور گزشتہ دو سال کے دوران بروقت اور صاف اور شفاف نتائج کے لیے ہر ممکن کوششیں کی ہیں، اس حوالے سے کمپنی کی کوششیں نہ صرف پاکستانی عوام کو ٹیلی کام اور ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے سے متعلق رہی ہیں بلکہ اس نے قومی خزانے میں بھی نمایاں حصہ ڈالا ہے’۔

پاکستان کی ٹیلی کام صنعت کی نمایاں کمپنی کا کہنا تھا کہ ‘ٹیلی نار پاکستان معاملے کا حل نکالنے اور قانون کے مطابق حقوق کے مکمل تحفظ کے لیے کارروائی جاری رکھے گا’۔

مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ‘کمپنی معاملے کے منصفانہ حل کے لیے پرامید ہے اور امید ہے کہ حکومت اور پی ٹی اے منصفانہ مسابقت، پالیسیوں اور ضوابط کو یقینی بنانے کے لیے اپنے وعدے کی تکمیل کرے گی’۔

صارفین کے حوالے سے بیان میں کہا گیا کہ 'ٹیلی نار پاکستان اپنے صارفین کے ساتھ ساتھ معاشرے کی سماجی و اقتصادی بہتری کے لیے پرعزم ہے‘۔

یاد رہے کہ ٹیلی نار اور جاز نے 2004 میں نیلامی کے ذریعے 29 کروڑ 10 لاکھ ڈالر میں لائسنس حاصل کیا تھا، جس کی میعاد 2 ماہ قبل 25 مئی کو ختم ہوگئی تھی۔

بعد ازاں حکومت نے لائسنس کی بحالی کے لیے دونوں کمپنیوں سے الگ الگ 45 کروڑ ڈالر، 21 اگست سے پہلے ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں