Daily Mashriq

فاٹا اصلاحات بل با ر بار ملتوی کیوں ؟

فاٹا اصلاحات بل با ر بار ملتوی کیوں ؟

فاٹا اصلاحات بارے بل کی قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل نہ کرنے پر حزب اختلاف کا نویں روزبھی واک آئوٹ سے اس ضمن میں عدم پیش رفت اور اتفاق رائے میں ناکامی کا اظہار ضرور ہوتا ہے لیکن دوسری جانب ایف سی آر کے خاتمے اور ملکی عدالتی نظام کا دائرہ قبائلی علاقہ جات تک وسعت دینے کے حوالے سے تیاریاں یقینا قبائلی عوام کے لئے کسی بڑی خوشخبری سے کم نہیں جس کا مطالبہ وہ ایک عرصے سے کرتے آئے تھے۔ گوکہ بظاہر اس میں پاک فوج کا کوئی کردار نہیں لیکن اگر گزشتہ چند دنوں پر نظر ڈالیں تو اس ضمن میں آرمی چیف نے بڑا واضح اور نظر آنے والا کردار ادا کیا ہے۔ آرمی چیف نے فاٹا کے عمائدین اور نوجوانوں کے وفود سے باقاعدہ ملاقات کی جبکہ فاٹا اصلاحات کے طریقہ کار پر معترض اور حکومتی اتحادی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے بھی اس معاملے میں باقاعدہ ملاقات کی جس کے بعد فاٹا اصلاحات کے موخر کردہ بل کی منظوری کی راہ ہموار ہوگئی۔ فاٹا میں عدالتی نظام کی توسیع کی تیاریوں کے سلسلے میں جوڈیشل اکیڈمی خیبر پختونخوا کی تیاریاں اور فعال کردار کی ضرورت سے کما حقہ آگاہ نظر آتاہے۔ دیگر تربیتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ وکلاء اور عدالتی افسران و عملے کو فاٹا اصلاحات سے متعلق بھی آگاہی اور تربیت دی گئی ہے۔ ڈی جی جوڈیشل اکیڈ می کے مطابق قبائلی علاقہ جات کے خیبر پختونخوا میں ممکنہ انضمام کے بعد عدالتی نظام کا دائرہ کار فاٹا تک وسعت دینے کے لئے تیا ریاں ہو رہی ہیں۔ اس امر کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ قبائلی علاقہ جات میں عدالتی نظام کے قیام کے لئے عملے سے لے کر دیگر انتظامات اور سہولیات کیسے مہیا کی جائیں۔ قبائلی علاقہ جات کی ساتوں ایجنسیوں میں مکمل عدالتی نظام کے قیام کے لئے ججوں سے لے کر عدالتی عملے کی تقرری اور ایک مکمل بنیادی اساس کا وجود میں لانا یقینا آسان امر نہ ہوگا جس کے لئے دن رات تیاریوں کی ضرورت ہوگی لیکن بہر حال کام کتنا بھی مشکل ہو اس کی ابتداء ہی اصل اور مشکل مرحلہ ہوا کرتا ہے۔ اس مرحلے کی ابتداء کو باقاعدہ طور پر وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر جتنا جلد ممکن بنا سکیں اتنا ہی بہتر ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے دائرہ کار کی فاٹا تک توسیع سے قبائلی عوام پر انصاف کے دروازے کھل جائیں گے اور ان کو پولیٹیکل انتظامیہ کے اہانت آمیز سلوک کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا ۔ گوکہ حکومت نے فاٹا انضمام کی حتمی تاریخ تو نہیں دی ہے لیکن اس امر کی یقین دہانی کافی ہے کہ اگلے انتخابات میں فاٹا میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پرانتخابات ہوںگے ۔ہمارے تئیں انضمام کے عمل میں عجلت اختیار کرنے کی بجائے فاٹا اصلاحات کا بتدریج نفاذ بہتر حکمت عملی ہوگی۔ اس وقت وفاقی حکومت کو اپنی اتحادی جماعتوں کا فاٹا انضمام بارے اعتما د حاصل نہیں تو دوسری جانب خود قبائلی علاقوں کے عمائدین کی بڑی تعداد بھی قبائلی علاقہ جات کی موجودہ ہئیت کے ایک ساتھ خاتمے کی مخالف ہے۔ قبائلیوں کی ایک بڑی تعداد علاقائی رسوم ورواج اور قبائلی طرز معاشرت کو برقرار رکھنے کی حامی ہے جبکہ دوسری جانب جن معاملات کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے اور جس کا سب سے زیادہ اور متفقہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے وہ کالا قانون ختم کرنا تھا اور قبائلیوں کو اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق دینا تھا یہ مطالبہ پورا ہونے جارہا ہے ۔ جبکہ فاٹا میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی حلقہ بندیوں اور ان پر انتخابات کے بعد عملی طور پر فیصلے کا اختیار منتخب قبائلی نمائندوں کے ہاتھ آجائے گا۔ ان کی شراکت و مشاورت سے اصلاحات کا دوسرا مرحلہ شروع کرنا زیادہ موزوں اور آسان ہوگا۔ فی الوقت فاٹا اصلاحات کے پہلے مرحلے میں دو بڑے اقدامات کو کافی جاننا چاہیئے اور بجائے اس کے کہ مکمل انضمام کیلئے جدوجہد میں وقت ضائع کیا جائے اگر سیاسی جماعتیں ، عوامی نمائندے اور سرکاری حکام مل کر محولہ اصلاحات کے مطلوب ترین حصے کی کامیابی کا راستہ ہموار کریں اور مخالفانہ طرز عمل کی بجائے اس کی کامیابی کیلئے کردار ادا کرنے کا فیصلہ کریں تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محولہ اقدامات کے بعد فاٹا کے انضمام کا حقیقی عمل شروع ہوگا جس کے بعد جہاں وفاقی حکومت اور گورنر خیبر پختونخوا کی ذمہ داریاں بنتی ہیں ان کی ادائیگی سے کہیں زیادہ ذمہ داریاں قبائلی عوام پر عائد ہوںگی ۔ پاک فوج کی فاٹا اصلاحات کی بار بار تائید و حمایت کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ ایک ایسی فضا میں جہاں اب فوج ، عوام اور ریاستی اداروں میں پوری طرح ہم آہنگی اور اعتماد کی فضاقائم ہے ایسی فضا ہی اصلاحات کے نفاذ کیلئے ممکن تھی۔ قبائلی عوام پر یہ دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کی صورتحال بر قرار رکھیں جو آزادی اور قوانین میسر آئیں ان کا احترام اور کامیابی کے لئے کوشاں ہونا اور ان کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کو درست ثابت کر نا قبائلی بھائیوں کی ذمہ داری ہوگی۔ تبدیلی اور اصلاحات کے عمل کی کامیابی سے ہی قبائلی علاقوں کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوگی۔

متعلقہ خبریں