Daily Mashriq

جمہوریت کے ستونوں کی غیر ذمہ داری

جمہوریت کے ستونوں کی غیر ذمہ داری

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا سینیٹرز کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی ان کیمرہ بریفنگ کی تفصیلات سے آگاہ کرنے پر نوٹس لیتے ہوئے اس عمل کوایوان بالا کے قواعد کی خلاف ورزی قرار دے دینا کافی نہ ہوگا بلکہ اس کے مرتکب افراد کے غیر ذمہ دارانہ کردار پر مناسب تادیبی کارروائی کی بھی ضرورت ہے۔ کسی اجلاس یا بریفنگ کو اگر اس طرح سے افشا کیا جائے تو اس سے ان کیمرہ اور رازداری برتنے کا مقصد ہی فوت ہوگا۔قواعد و ضوابط کے مطابق ان کیمرہ اجلاس کی بات باہر نہیں کی جاتی، قواعد کے مطابق کوئی بھی ان کیمرہ اجلاس کی تشہیر نہیں کر سکتا۔گوکہ چیئر مین سینٹ نے اس بارے سینیٹروں کے طرز عمل تک ہی اپنی نا پسندیدگی کو محدود رکھا ہے لیکن ہمارے تئیں اس میں میڈیا کا کردار بھی غیر ذمہ دارانہ تھا کیونکہ کسی اجلاس کو ان کیمرہ قرار دینے کے بعد اس کی کوریج یا اس سے متعلق تفصیلات شائع کرنے یا نشر کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ اس اصول کی خلاف ورزی صحافتی بد دیانتی کے زمرے میں آتی ہے اور یہ صحافتی آداب اور اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ بنا بریں میڈیا بھی برابر کا ذمہ دار ہے۔ کسی معاملے کو بلا وجہ ان کیمرہ قرار نہیں دیا جاتا اور جو معاملہ ان کیمرہ ہو یا جو بات آف دی ریکارڈ کے طور پر کی جائے اس کا احترام ہونا چاہئے اور یہی اخلاقی اور صحافتی اقدار کا تقاضا بھی ہے۔ بریکنگ نیوز کی دوڑ میں ٹی وی چینلز صحافتی اقدار ہی کی خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہو رہے ہیں بلکہ اس سے صحافت کتنی بے وقعت اور نا قابل اعتماد ہوگئی ہے یہ اس جلد بازی کا ثمر ہے جو اس وقت ہماری الیکٹرانک صحافت میں مروج ہے۔ پارلیمنٹ اور صحافت جمہوریت کے ستون شمار ہوتے ہیں اگر ان ستونوں کاکردار ہی متنازعہ یا کم اعتماد پر مبنی ہوگا تو پھر ان کی وقعت کیا رہ جائے گی اس پر ان ستونوں سے وابستگان کو پوری طرح غورکرنا چاہئے اور اپنے کردار و عمل کی اصلاح پر آپ ہی توجہ دی جانی چاہئے۔

جعلی تعلیمی اداروں کے خلاف عملی اقدام کیا جائے

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے خیبر پختونخوا کی گیارہ یونیورسٹیوں ‘ انسٹیٹیوٹس اور کالجوں کو غیر تسلیم شدہ اور جعلی قرار دے کر ان کے ناموں کی فہرست کا اجراء طالب علموں اور ان کے والدین کی معلومات کے لئے مفید اقدام ہے لیکن اس کے باوجود اس امر کی گنجائش کافی سے زیادہ ہے کہ ان جعلی اداروں میں پھر بھی داخلے لئے جائیں گے۔ مشاہدے سے ثابت ہے کہ ایسا ہوتا رہا ہے اس فہرست کے اجراء کے بعد ان کے خلاف باقاعدہ کارروائی عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔ چونکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے پاس کوئی قوت نافذہ اور طریقہ کار موجود نہیں لہٰذا یہ صوبائی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس کا نوٹس لے اور ان اداروں کو پولیس کے ذ ریعے بند کروا کر سیل کیا جائے تاکہ طالب علم کسی دھوکے میں نہ آئیں۔اس طرح کے تعلیمی اداروں میں نہ صرف پڑھائی ہی غیر قانونی اور معیار تدریس مناسب نہیں ہوتا بلکہ ان اداروں سے کوئی طالب علم خواہ کتنی بھی محنت سے قابلیت پیدا کرکے اچھے نتائج دینے کی سعی کرے وہ لا حاصل اور بیکار جائے گی کیونکہ ان اداروں کے طلبہ کو نہ تو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے جاری کردہ سند یا کورس تکمیل کی سند کی کوئی قدر ہوتی ہے۔ والدین اور طلبہ دونوں کو ہر قسم کے نجی تعلیمی اداروں میں داخلے سے قبل اس کی رجسٹریشن اور تسلیم شدہ ہونے کا یقین کرلینا چاہئے اور پورے طور پر حصول اطمینان کے بعد ہی داخلہ لینا چاہئے تاکہ ان کی محنت اور سرمایہ ضائع نہ ہو۔ ہائیر ایجوکیشن کے صوبائی محکمے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اداروں کے مالکان کے خلاف جعلسازی کا مقدمہ درج کرائے اوران کی بندش کو یقینی بنائے۔

طلبہ اب تعلیم پر توجہ دیں

جامعہ پشاور کے طلبہ کے متحدہ محاذ کی جدوجہد کے بعد مختلف مدارج کے فیسوں میں پانچ سے آٹھ ہزار روپے کمی طلبہ کے جائز موقف کو تسلیم کرنا ان کی کامیابی ہے جس کے بعد اب ان طلبہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ وقت ضائع کئے بغیر یونیورسٹی میں تدریسی ماحول کی بحالی اور اپنی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں تاکہ مزید وقت کا ضیاع نہ ہو۔ جس طرح طالب علموں نے ایک جائز مطالبے پر اتحاد کا مظاہرہ کرکے اسے ممکن بنایا اس قسم کا اکٹھ ان دیگر معاملات بارے بھی ہونا چاہئے جو جامعات میں طلبہ کو درپیش ہیں جس میں اساتذہ کی غیر حاضری‘ کلاسیں نہ لینے اور امتیازی سلوک جیسے مسائل شامل ہیں۔ اساتذہ اور طلبہ کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہی بہتر تعلیم و تعلم کا ذریعہ ہے جس پر توجہ دو فریقوں کی ذمہ داری ہے۔توقع کی جانی چاہئے کہ طلبہ اپنے مطالبات کی منظوری کے بعد حصول تعلیم پر یکسوئی کے ساتھ توجہ دینے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے پر خصوصی توجہ دیں گے۔

متعلقہ خبریں