Daily Mashriq

ن لیگ کے جانشین کی نامزدگی

ن لیگ کے جانشین کی نامزدگی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے متعدد بار استفسار کے باوجود الیکشن کمیشن نے میاں نواز شریف کے ن لیگ کا صدر منتخب ہونے کے بارے میں جواب داخل نہیں کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست زیرِ سماعت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017ء کو غیر آئینی قرار دیا جائے جس کے میاں نواز شریف سپریم کورٹ کی طرف سے عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیے جانے کے باوجود ن لیگ کے صدر منتخب ہوئے ہیں اور عدالت نے اس پر الیکشن کمیشن کو جواب دینے کے لیے کہا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن کی طرف سے جواب نہیں آیا۔ اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ سماعت (13جنوری) تک جواب داخل کرادیا جائے ورنہ عدالت یک طرفہ فیصلہ سنا دے گی۔ اس طرح ایک طرف میاں نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں مقدمہ زیرِ سماعت ہے دوسری طرف ان کی ن لیگ کی صدارت کا مقدمہ بھی جلد فیصل ہونے کا امکان ہے۔ ممکن ہے میاں صاحب کے وکلاء نے انہیں یقین دلایا ہو کہ ان کی صدارت پکی ہے تاہم عدالت کے فیصلے کی تلوار تو ن لیگ کی صدارت کے معاملے پر لٹکی ہوئی ہے۔ سینیٹ میں انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کا بل پاس ہونے کے بعد یہ اب یقینی نظر آتا ہے کہ عام انتخابات 2018ء ہی میں ہوں گے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمے کے علاوہ ایک وجہ عام انتخابات کا یقینی ہونا بھی ہو سکتی ہے جس کی بنا پر میاں نواز شریف نے اچانک یہ اعلان کر دیا کہ آئندہ انتخابات کے بعد ان کے چھوٹے بھائی اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے لیے مسلم لیگ ن کے امیدوار ہوں گے۔ حالانکہ ابھی عام انتخابات ہونے میں ابھی کم از کم سات مہینے باقی ہیں۔ اس اعلان کے ساتھ میاں نواز شریف نے موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو عارضی وزیر اعظم قرار دے دیا ہے حالانکہ انہوں نے پچھلے دنوں کہا تھا کہ وہ تین ماہ کے لیے نہیں مستقل وزیر اعظم ہیں۔ لیکن موجودہ وزیر اعظم اس قدر فرماں بردار ہیں کہ انہیں اس فیصلے پر اعتراض نہیں ہو گا۔ شہباز شریف کے انتخاب کا اعلان کرتے ہوئے نواز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ اختلافِ رائے شہباز شریف کا حق ہے لیکن انہوں نے کبھی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کی۔ یعنی وہ ہمیشہ بڑے بھائی کے فرمانبردار رہے ہیں اور رہیں گے۔ یہ فیصلہ میاں صاحب نے از خود کیا ہے ۔ اس کے لیے پارٹی کی رائے نہیں لی گئی۔ نہ کوئی مشاورتی اجلاس بلایا گیا ، نہ کوئی انتخاب کرایا گیاجس میں کوئی مستقبل کی ممکنہ وزارت عظمیٰ کے لیے ان کا مدِمقابل بھی ہوتا۔ بس پارٹی کا اجلاس بلایا اور اس میں جانشینی کا اعلان کر دیا۔ ہر لمحہ جمہوریت کی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کی فوقیت پر اصرار کرنے والے میاں نواز شریف ہی ایسا اعلانِ وراثت کر سکتے ہیں کیونکہ حکمران مسلم لیگ کے ن وہ خود ہی ہیں جس کے ساتھ ان کی پارٹی منسوب ہے۔ شہبا ز شریف کی نامزدگی کے لیے انہوں نے پارٹی سے کوئی ووٹ نہیں لیااور انہیں اس اسمبلی پارٹی کا سربراہ نامزد کر دیا جس کا وجود عوام کے مینڈیٹ کی بنا پر ابھی آٹھ ماہ بعد ظاہر ہونا ہے۔ عوامی عہدوں سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد میاں نواز شریف کی اولین ترجیح یہ رہی ہے کہ وہ پارٹی کے ’ن‘ کے ساتھ پارٹی کا اتحاد برقرار رکھیں جو بکھرنے لگا تھا۔ اس کے لیے ایک طرف انہوں نے مظلومیت کا راستہ اپنایا اور کیوں نکالا کا نعرہ بلند کیا ، دوسری طرف انہوں نے پارٹی کو شریف فیملی کے ساتھ منسلک رکھنے کی کوشش کی۔ ایسی خبریں بھی آئیں کہ ان کی پارٹی کے کچھ لوگ علیحدہ ہونے پر آمادہ ہیں لیکن یہ اتنے منظم نہیں ہوئے کہ ایک دوسرے سے تقویت پا کر کوئی نیا راستہ اختیار کرنے کا اعلان کر دیتے۔ یوں بھی اسمبلی کی مدت پوری ہونے تک رکن اسمبلی ہونے کا اعزاز اور مراعات ترک کرنا کچھ فائدے کا سودا نہیں تھا۔ اور پھر ان کے پاس متبادل بھی کوئی نہیں تھا۔ ن لیگ کے ایک وزیر ریاض پیرزادہ نے کھل کر تنقید کی لیکن میاں صاحب نے ان کے خلاف کوئی انضباطی کارروائی نہیں کی کیونکہ پیرزادہ کی طرف سے اشارات آ رہے تھے کہ ان کے ساتھ تیس سے پچاس تک ارکان ہیں۔ نواز شریف نے اس کے باوجود کہ شہباز شریف نے پارٹی کے بھرے جلسے میں انہیں مشورہ دیا کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں متنازع تبدیلی کرنے والے وزیر کو نکال دیں انہوں نے زاہد حامد کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہ کی۔ 

رانا ثناء اللہ کے استعفے کا معاملہ آیا تو انہوں نے عین وقت پر اپنے وزیر اعلیٰ سے اختلاف کیا اور کہا کہ ان (رانا ثناء اللہ) کے پیر تو میاں نواز شریف ہیں۔ یہ اور بات کہ بعد از خرابی بسیار زاہد حامد کا استعفیٰ منظور کرنا پڑا اور رانا ثناء اللہ کا معاملہ ابھی تک معلق ہے ۔ ممکن ہے اس سوال پر کسی سمجھوتے کی کوشش کی جائے۔الغرض میاں نواز شریف نے آئندہ انتخابات کا یقین ہو جانے تک پارٹی کو برقرار رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ سیاسی پارٹیوں میں ٹوٹ پھوٹ الیکشن کے نزدیک آنے پر ہوتی ہے۔ یہ امکان نظر میں رہنا چاہیے کہ مسلم لیگ ن میں اگر اب تک کوئی الگ راستہ اپنانے والے نمودار نہیں ہوئے تو انتخابات کی دوڑ میں حصہ لینے کے وقت سامنے آ سکتے ہیں۔ اگر کچھ لوگ دوسری پارٹیوں میں نہیں جائیں گے تو آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اُتریں گے تاکہ بری حکمرانی کی شہرت ان کا پیچھا نہ کرے۔ انہی وجوہ کی بنا پر انہوں نے انتخابات سے پہلے ہی اپنے بھائی شہباز شریف کو جانشین مقرر کر دیا ہے تاکہ نواز شریف کی چھتری چھوڑ کر اُڑنے والے شہباز شریف کی چھتری پر بیٹھ جائیں اور پارٹی شریف گھرانے ہی میں رہے۔ شہباز شریف سے بہتر میاں نواز شریف کا ہمدرد اور فرمانبردار کون ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں