Daily Mashriq

مسلم اُمہ کی تنزلی اور عربی زبان

مسلم اُمہ کی تنزلی اور عربی زبان

قوموں کی ترقی وتنزلی میں ہمیشہ زبان کا کلیدی کردار رہا ہے، قرون وسطیٰ میںپوری دنیامیں عربی زبان کاچرچا تھا،درسگاہیں عربی زبان میں تعلیم دیتی تھیںمگرموجودہ دور میں مسلمانوں کی تنزلی اور پستی کا یورپ کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے‘ ایجادات ‘ ثقافت و روایات حتیٰ کہ آج پوری دنیا میں انگریزی زبان کی برتری کے چرچے زبان زدِ عام ہیں ۔ اس تناظر میں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم مسلمانوں کے شاندار ماضی کا ایک خاکہ پیش کریں جس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ موجودہ پستی و تنزلی ہمارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے ، ماضی میں ہمارے آباء نے اس وقت کامیابی کے جھنڈے گاڑے جب یورپ جہالت کی چادر تان کر محو خواب تھا۔ 

غرناطہ اسلامی اندلس کا آخری شہر تھا جسے عیسائی افواج نے تاراج کیا‘ غرناطہ صرف شہر نہیں بلکہ ایک تہذیب کا استعارہ ہے، مسلمانوں نے کم و بیش سات آٹھ سو سال اس خطے (سپین) پر حکومت کی۔ مسلمان جب اس خطے میں پہنچے تو پورا یورپ جہالت کا مرکز تھا‘ کوئی پڑھا لکھا شخص نہیں ملتا تھا بلکہ لوگ اپنی کم علمی اور جہالت پر فخر کیا کرتے تھے۔ مسلمانوں نے سپین کو اندلس کا نام دیا اور اس ملک میں شاندار حکومت قائم کی۔ بہت مضبوط بنیادوں پر وہاں کا تعلیمی نظام قائم کیا ‘ جس کا شہرہ پوری دنیا میں پہنچا اور ان تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والوں کی گونج آج تک کے ترقی یافتہ دور کے بین الاقوامی اداروں میں سنی جا سکتی ہے۔ جامعہ قرطبہ اس وقت دنیا کی سب سے اعلیٰ یونیورسٹی تھی ۔ دنیائے عیسائیت کے دوبڑے پوپ جو اُس مذہب کا سب سے بڑا پروہت ہوتا ہے انہوں نے جامعہ قرطبہ سے تعلیم حاصل کی تھی۔ ابن عربی عبدالرحمان ‘ ابن خلدون اور ابن حزم جیسے نابغہ روزگار اندلس کے ہی سپوت تھے ‘ جنہوں نے فلسفہ و سائنس اور حرفت میں رہتی دنیا کے لیے نام چھوڑا ہے۔ اندلس کی لائبریریوں کے تذکرے آج کی علمی دنیا میں زندہ ہیں۔ اندلس میں مسلمانوں کے زوال کے بعد 300سال تک جرمنی‘ اٹلی اور فرانس کے شاہی درباروں میں مسلمانوں کی تدوین کردہ کتب کے یورپی زبانوں میں ترجمے ہوتے رہے۔ یورپی بادشاہوں نے بھاری تنخواہوں پر عربی زبان کے ماہرین بھی رکھے‘ جنہوں نے لاکھوں کتب کا ترجمہ کیا۔ ان تراجم کے بعد یورپ اس قابل ہو سکا کہ سائنس میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکے۔ مسلم دنیا کا علمی ذخیرہ عربی زبان میں تھا‘ اس لیے اغیار نے یہ کوشش کی کہ دنیا بھر میں عربی زبان کی اہمیت کم کر دی جائے ‘ آج صورت حال یہ ہے کہ عجم تو عجم بعض عرب ممالک کی سرکاری زبان بھی انگریزی ہے‘ روزگار کے سارے مواقع انگریزی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، جیسا کہ قرون وسطیٰ میںمسلم سپہ سالاراپنی افواج کے ساتھ جس خطہ میں بھی گئے ‘ اپنی ثقافت اور زبان کو وہاں چھوڑ آئے ‘ لوگ اسلامی طرز عمل اور عربی زبان سیکھنے پر مجبور ہوئے‘ آج انگریزی سیکھنے پر مجبور ہیں تو اس کی بنیادی وجوہ دو ہیں۔

ایک یہ کہ دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیاں مغرب میں ہیںجن کا اندازتدریس انگریزی زبان میں ہے۔ انگریزی کی فوقیت کی دوسری بڑی وجہ روزگار کے مواقع ہیں۔ جس دور میں ہم جی رہے ہیں سائنسی ایجادات کی غالب اکثریت پر اہل مغرب کا قبضہ ہے۔ جو مسلمان طالب علم محنت کرکے پڑھ لکھ جاتا ہے وہ اپنے ملک میں آ کر مسلم کمیونٹی کے لیے کچھ کرنے کی بجائے یورپ کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتا ہے ۔ اہل مغرب بھی ایسے مسلم نوجوانوں کی خوب قیمت لگاتے ہیں تاکہ یہ اپنے ملک میں جا کر اپنی قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن نہ کر سکیں۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں اس طرف واضح اشارہ کیاہے۔ عربی زبان کی اہمیت کی کمی کی ایک اہم وجہ ہمارے ہاں پاکستان‘ بھارت‘ بنگلہ دیش ‘ افغانستان اور دیگر ایشیائی ممالک میں مدارس عربیہ میں انداز تدریس کا قدیم عربی زبان میں ہونا ہے، ہمارے مدارس میں بظاہر تو نصاب عربی میں ہے لیکن وہ اس قدر قدیم ہے کہ مدارس کے فارغ التحصیل میں سے تقریباً98فیصد طلباء کو عربی زبان نہیں آتی‘ اور جو لوگ محنت کرکے عربی زبان سیکھ لیتے ہیں ‘ ہمارے سسٹم میں ایسے طلباء کے لیے روزگار کے مواقع انتہائی کم ہوتے ہیں۔ مدارس عربیہ کے طلباء جو عربی گرائمر پڑھتے ہیں وہ انتہائی مشکل اور محنت طلب ہوتی ہے لیکن عربی بول چال اور جدید عربی کے لیے یونیورسٹیز میں ان طلباء کے لیے سپیس نہ ہونے کی بنا پر ایسے طلباء کی صلاحیتیں ختم ہو کر رہ جاتی ہیں۔

مدارس عربیہ کے غریب طلباء یونیورسٹیوں کی بھاری فیسیںادانہ کرنے کی بنا پر اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں اگر حکومتی سطح پر مدارس کے طلباء کے تعلیمی اخراجات برداشت کیے جائیں تو یہ طلباء عربی زبان کے بہترین محافظ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی زبان کو ریاست کی سرپرستی کی ضرورت ہوتی ہے، نصابِ تعلیم سے لے کر روزگار کے مواقع تک کا خیال رکھا جاتا ہے، سعودی عرب کی اُم القری یونیورسٹی اور مدینہ یونیورسٹی میں دیگر ممالک کے طلباء کو آسان شرائط پر اسکالر شپ پر داخلہ دے کر بھی عربی کی ترویج کا خواب پورا کیا جا سکتا ہے۔ مسلم اُمہ جن کی قیادت عرب ممالک کر رہے ہیں نے اگراب بھی بیداری کا ثبوت نہ دیا تو ہماری آنیوالی نسلیں بھی محکومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوںگی۔

متعلقہ خبریں