Daily Mashriq

ہم بھی منہ میں زباں رکھتے ہیں صاحب!

ہم بھی منہ میں زباں رکھتے ہیں صاحب!

چند دن قبل چیف جسٹس آف پاکستان نے لاہور میں پاکستان بار کونسل کی ایک تقریب میں جو خطاب کیا وہ ابھی زیر بحث تھا کہ آرمی چیف نے سینٹ میں کہا‘ اولاً ٹی وی چینلوں پر تبصرے کرنے والے ریٹائر فوجی افسر ہمارے ترجمان نہیں۔ ثانیاً فیض آباد دھرنے میں فوج کا کردار ثابت ہوجائے تو مستعفی ہوجائوں گا ثالثاً سیاستدان فوج کو آنے کا موقع نہ دیں۔ رابعً ملک میں صدارتی نظام کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان چار باتوں پر کچھ عرض کرنے سے قبل جناب چیف جسٹس کے خطاب پر پیدا ہونے والے ابہام پر عرض کروں کہ ان کے خطاب میں صفائیاں پیش کرنے والا حصہ بلا جواز تھا۔ اس سے بہتر تھا کہ وہ جولائی سے 15نومبر کے دوران ہوئے بعض عدالتی فیصلوں کو دیکھ لیتے تو غالباً انہیں سرگوشیوں‘ تنقید اور دوسرے قصوں کی حقیقت سمجھ میں آجاتی۔ پھر یہ امر بھی مد نظر رکھنا ہوگا کہ ہمارے نظام انصاف کی تاریخ بھی کچھ اتنی شاندار ہر گز نہیں۔ جسٹس منیر کا فیصلہ ہو یا چند دیگر فیصلے ان میں بھٹو صاحب کی پھانسی کا فیصلہ بھی شامل ہے نظام انصاف کی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہر گز نہیں۔ لوگ اکثر سوال کرتے ہیں کہ 2014ء کے دھرنوں میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے جنگلوں پر لٹکے کپڑوں کا تو نوٹس لے لیا مگر 17جون 2014ء کو ماڈل ٹائون میں شقاوت قلبی کا جو مظاہرہ ہوا اس پر انصاف کی آنکھ سے ایک آنسو نہ ٹپکا؟ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب فیصلوں کی بجائے ججوں کے ریمارکس بولنے لگیں گے تو فیصلوں پر اشکالات پیدا ہوں گے۔ مکرر ان کے سامنے ایک سادہ سا سوال رکھتے ہیں جو اصول پانامہ کیس میں نواز شریف کی نا اہلی کے لئے اپنائے گئے عمران کے کیس میں انہیں مسترد کیوں کیا گیا؟ ضمنی سوال یہ ہے کہ عمران اور ترین کے خلاف آئینی درخواستیں دائر کرنے والا حنیف عباسی عمران کے کیس میں غیر متعلقہ آدمی اور ترین کے خلاف متعلقہ شخص کیسے قرار پایا؟ ان دو سوالات کا تسلی بخش جواب مل جائے تو ممکن ہے کہ سوال کرنے اور اعتراض جڑنے والوں کے منہ بند ہو سکیں۔ دوسری صورت یہی ہے کہ لوگوں کے منہ بند کرنا بہت مشکل ہے۔اب آتے ہیں آرمی چیف کے سینٹ میں کئے گئے اظہار خیال کی چار اہم باتوں کی طرف۔ عرض یہ ہے کہ کیا کبھی آئی ایس پی آر نے عسکری اداروں کے ان سابقین سے کہا کہ وہ چینلوں پر اظہار خیال کرتے وقت بات بات پر یہ تاثر نہ دیا کریں کہ وہ پروگرام میں شرکت سے قبل جی ایچ کیو سے بریفنگ لے کر آتے ہیں؟ اصولی طور پر ہونا یہ چاہئے تھا کہ اس کی وضاحت بہت پہلے کردی جانی چاہئے تھی۔ کیونکہ دانش کے ہمالیہ پر کھڑے ان ’’مجاہدین‘‘ نے جتنا نقصان اپنی زبان سے پہنچانا تھا پہنچا لیا اس سے زیادہ نقصان کیا ہوگا کہ آج چور بدمعاش‘ ڈاکو‘ بدترین مخلوق صرف سیاستدان سمجھے جاتے ہیں۔ کیا باقی کے تمام اداروں میں دودھ کے دھلے لوگ فرائض انجام دیتے ہیں؟ آسان سا جواب یہ ہے کہ سبھی کا خمیر اسی سماج سے اٹھا ہے ایک جیسے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں سب۔ جہاں تک فیض آباد دھرنے کے حوالے سے فوج پر اٹھتی انگلیوں کا معاملہ ہے تو اس کا زیادہ تاثر انہی عسکری دانشوروں نے دیا۔ رہی سہی کسر اس وقت پوری ہوئی جب اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کے احکامات جاری ہوئے تو حکومت کے احکامات کی بجا آوری کی بجائے کہا گیا کہ آرمی چیف کہتے ہیں دونوں فریق مذاکرات کریں۔ کیا حملہ آور اور حصار میں آئے دونوں فریق ہوتے ہیں۔ کیا حکومت کے احکامات پر عمل کرنے کی بجائے دواخانہ حکیم حاذق جیسے مشورے درست ہیں۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ حکومت نے یہ کب کہا تھا کہ آئیں اور دھرنے والوں کو تہس نہس کردیں؟۔ماننا پڑے گا کہ کچھ نہ کچھ ایسا ہوا جس سے دھرنے کے پیچھے کسی قوت کے ہونے کی بات ہوئی۔ ویسے زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ جب حکومت کے دو درجن چھوٹے بڑے اور چند اینکرز دھرنوں کے پیچھے فوج کے ہاتھ کی کہانی بانس پر چڑھا رہے تھے تو کسی تاخیر کے بغیروزیر اعظم سے سیکرٹری دفاع کی معرفت اس معاملے پر بات کی جاتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد اس ملک میں سیاستدان ہے کون؟ جناب نواز شریف کو لانے والوں کے تازہ محبوب عمران خان ہیں۔ رہی بات صدارتی نظام کی تو یہ بحث بھی عسکری دانش کے مولا جٹوں اور نوری نتوں نے شروع کروائی ۔وہی اٹھتے بیٹھتے یہ تاثر دیتے ہیں کہ ’’ جی ایچ کیو کے خیال میں پارلیمانی نظام ڈیلیور کرنے میں ناکام رہا ہے‘‘ ان دانشوروں کے بس میں ہو تو یہ صاف لفظوں میں کہہ دیں ملک کا صدر ہونا ہی آرمی چیف کو چاہئے کیونکہ خلافت راشدہ‘ خلافت اموی و عباسی‘ فاطمی اور عثمانی خلافتوں کے ادوار میں خلفا ہی سپہ سالار اعظم ہوا کرتے تھے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دستور کے احترام‘ حدود کی پابندی اور جمہوریت کے تسلسل کے حوالے سے آرمی چیف کے خیالات قابل تحسین ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب شیخ رشید جیسا بندہ ٹی وی چینل پر بیٹھا کہہ رہا ہو کہ اس معاملے میں آرمی قیادت کا موقف یہ ہے اور کوئی تردید نہ کرے تو ابہام پیدا ہونا فطری بات ہے۔ کیا ہم امید کریں کہ مثبت خیالات کے بعد اب اصلاح احوال کو بھی یقینی بنایا جائے گا؟۔

متعلقہ خبریں