Daily Mashriq

ہے طلسم روزو شب کا در کھلا

ہے طلسم روزو شب کا در کھلا

آج 22 دسمبر 2017 ء ہے اور ہر سال کی 22 دسمبر کی طرح آج کا دن سال کا سب سے چھوٹا یا مختصر ترین دن گردانا جاتا ہے۔ 22جون کے دن کو طوالت کے لحاظ سے سال کا سب سے بڑا دن مانا جاتا ہے یعنی اس کا دورانیہ سال کے باقی دنوں سے زیادہ ہوتا ہے اور پھر قدرت خداوندی سے 22جون کے بعد ایک خاص شرح سے ہر دن کا دورانیہ غیر محسوس طریقے سے کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ دن ہفتوں اور مہینوں میں ڈھلتے رہتے ہیں اور یوں ہم جب دنوں کی طوالت یا ان کے دورانیہ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ دن گھٹتے گھٹتے کتنا گھٹ گیا۔ دنوں کے بڑھنے یا گھٹنے کا ادراک ان لوگوں کو بخوبی ہوتا ہوگا جو پابند صوم و صلوٰۃ ہوتے ہیں۔ فجر کی نماز با جماعت ادا کرنے والوں کو مسجد کا امام ہفتہ دس دنوں کے وقفہ سے بتاتا رہتا ہے کہ کل نماز فجر کی جمع کتنے بجے ادا کی جائے گی۔ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کو نہ صرف فجر اور مغرب کی نماز کے اوقات کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے بلکہ پانچوں وقت کی نمازیں طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے درمیانی اوقات کی تابع ہوتی ہیں۔ اس طرح اللہ کے نیک اور پابند صوم و صلوٰۃ بندے ہر لحظہ دنوں کی طوالت کے بڑھنے یا گھٹنے کے قدرتی عمل سے با خبر رہتے ہیں۔ 

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

لگتا ہے کہ دانائے راز نے یہ بات اس ہی تناظر میں کہی ہے جو ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے۔ ہم عرض کرچکے ہیں کہ آج بائیس دسمبر ہے اور ہر سال کے دسمبر کی بائیسویں تاریخ کی طرح آج کا دن سال کے باقی دنوں کی نسبت مختصر ترین دن ہے۔ صرف گیارہ گھنٹے کے لگ بھگ طوالت کا حامل۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر سال دسمبر کی 22 تاریخ کو ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یعنی دن کی طوالت میں اس قدر کمی کیوں آجاتی ہے کہ ہم اسے سال کا مختصر ترین دن کہنے لگتے ہیں۔ ہمارے اس سوال کا مختصر مگر جامع جواب تو یہی ہے کہ ایسا سب کچھ خدائے لم یزل کی قدرت سے ہوتا ہے۔ یہ ہمارا جزو ایمان ہی نہیں عین ایمان ہے کہ اس وسیع و عریض کائنات کا سارا نظام مالک کن فیکون کے حکم سے چل رہا ہے۔ اس کے حکم کے بغیر درخت کے کسی پتے کو بھی مجال جنبش نہیں۔ ہم اپنے بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی اس کی قدرت سے پہچانی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے نظام ہستی یا کارخانہ قدرت کے مطالعے کو سائنس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سائنس کے بہت سارے شعبوں میں سے ایک شعبہ فلکیات کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ماہرین فلکیات نظام شمسی کا ذکر کرتے وقت ہمیں سمجھاتے ہیں کہ سورج کے گرد اپنے مدار پر گھومنے والے سیاروں میں سے ایک سیارہ وہ بھی ہے جس پر ہم بود و باش اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس سیارے کو ہم کرہ ارض یا زمین کے نام سے جانتے ہیں۔ زمین سال بھر سورج کے گرد قائم اپنے مدار پر گھومتی رہتی ہے جس کے کارن نہ صرف زمین کے موسموں میں تبدیلی آتی رہتی ہے بلکہ وہاں دن اور رات کے دورانیہ بھی بدلتے رہتے ہیں۔ گرمی کے دنوں میں دن طویل ہوجاتے ہیں اور راتیں مختصر دورانیہ کی ہوجاتی ہیں۔ سردیوں کے موسم میں راتوں کی طوالت بڑھ جاتی ہے اور دن چھوٹے ہونے لگتے ہیں۔ اور ہم بے اختیار ہوکر کہہ اٹھتے ہیں کہ

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے

عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے

بتایا جاتا ہے کہ گرمی کے دنوں میں زمین سورج کے گرد اپنے مدار پرگردش کرتی اس مقام پر پہنچ جاتی ہے جہاں سے سورج کی شعاعیں سطح زمین پر عمودی پڑتی ہیں جو یہاں شدید گرمی کی تپش کا سبب بننے کے علاوہ گرمی کے دنوں کے دورانیہ میں طوالت کا باعث بھی بنتی ہیں اور یوں 22 جون کا دن سال کا طویل ترین دن بن جاتا ے۔ بعینہٖ دسمبر کی 22 تاریخ کو زمین سورج کے گرد اپنے مدار کے اس مقام پر آپہنچتی ہے جہاں سورج کی شعاعوں کا ترچھا پن اپنی انتہا تک جا پہنچتا ہے اور یوں 22 دسمبر کا یہ دن سال کا مختصر ترین دن بن کر ہمیں مطالعہ قدرت کی دعوت دینے لگتا ہے۔ اور یوں ہم بے اختیار ہوکر سبحان اللہ وبحمدہٖ کا ورد کرنے لگتے ہیں۔مغرب والے کارخانہ قدرت کا یہ نظارہ کرنے اور اس سے محظوظ ہونے میں ہم مشرق والوں سے بہت سے قدم آگے ہیں۔ وہ سال کے مختصر ترین دن کا جشن منانے کی غرض سے ہزاروں کی تعداد میں ساحل سمندر پر پہنچ جاتے ہیں اور وہاں سال کے مختصر دن کے سورج کی تمازت کو جوہر نایاب جان کر اپنے وجود میں جذب کر نے کی کوشش کرتے ہیں۔ سورج کی یہ کرنیں انہیں وٹامن ڈی کا خزانہ ودیعت کرتی ہیں۔ایسا ہی ایک نظارہ برطانیہ کی تاریخی یادگار ’ سٹون بینج‘ پر دیکھنے کو ملتا ہے جہاں اس انقلاب شمسی کو دیکھنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں میں زن و مرد جمع ہوجاتے ہیں اور

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

کے مصداق آسمان کے مشرقی افق کو دیکھ کر 22دسمبر کی سحر پھوٹنے کا منظراپنے دل دماغ اور اپنی آنکھوں کے علاوہ عہد حاضر کے ڈیجیٹل کیمروں میں محفوظ کرنے لگتے ہیں۔ شاید بڑا وقت ہے ان لوگوں کے پاس شاعر مشرق کے پیغام کو سمجھنے اور اس کو بجا لانے کا ۔ اور ہم بے چاروں کے پاس تو وقت ہی نہیں بچتا ان کاموں کے لئے۔

متعلقہ خبریں