Daily Mashriq

القدس شریف اور ہم

القدس شریف اور ہم

ایک زمانے میں بنی اسرائیل واقعی منتخب لوگ تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بعد میں آنے والے بنی اسرائیل پر اپنی بے بہا نعمتوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے فرمایا ہے کہ میںنے تم لوگوں کو اپنے زمانے کے سارے لوگوں (اقوام ) پر فضیلت دی تھی ۔ لیکن جب بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی ۔۔۔تورات میں اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے اپنی من مانی تحریف کی ۔ جس سے تورات کے احکام میں تبدیلی ہوئی ۔ یوم السبت (سینچر ) کے دن مچھلی کے شکار پر پابندی سے بچنے کیلئے حیلے حربے استعمال کئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انبیا ء کرام کو ناحق قتل کیا اور بعض پر ایسے الزامات لگائے جو کوئی بھی شریف انسان کسی عام آدمی پر بھی نہیں لگا سکتا ۔ ان اعمال بد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان سے سلسلہ نبوت بنی اسماعیل ؑ میںچلایا اور خاتم النبین ؐ پر مکمل ہو کر بند ہوا ۔ خاتم النبین ؐ کے خلاف اس کے باوجود کہ اُن کے پاس تورات اور انجیل میں کھلی نشانیاں موجود تھیں ، ہر حربہ استعمال کیا ۔ یہاں تک ہجرت مدینہ کے بعد کفار مکہ میثاق مدینہ کے باوجود غزوہ احد سے غزوہ خندق اور غزوہ بنی معطلق سے غزوہ خیبر تک یہودیوں نے آپ ؐ اور صحابہ کرام ؓ کو چین سے زندگی گزارنے اور اسلام کی دعوت و تبلیغ میں ہمیشہ روڑے اٹکائے ۔ نبی ؐ نے اس دنیا سے پردہ فرمانے سے پہلے جاں نثاروں سے فرمایا کہ ’’ان لوگوں کو جزیرہ العرب سے نکال باہرکرو‘‘۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے دور مبارک میں اس خواہش مبارک کی تکمیل فلسطین کی فتح کی صورت میں ہوئی ۔ اسلامی تاریخ میں یہ بہت بڑا دن تھا ۔ امیر المومنین نے مدینہ منورہ سے فلسطین تک خود سفر کیا تاکہ امن کے معاہدے اور فلسطین کی چابیاں وصول کرنے کے منظر میں اپنے ہاتھ مبارک سے رنگ بھر سکیں ۔ یہودیوں نے بیت المقدس کے صحن کو گندگی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا تھا مسیحوں نے محاصرے کے بعد لڑے بغیر معاہدہ صلح کیالیکن یہودی لڑے اور ہار تسلیم کی اور سرنڈرہوئے ۔ حضرت عمر فارق ؓ نے اپنے دامن مبارک سے بیت المقدس کے صحن میں جھاڑو دے کر صفائی کی اور پھر مسلمانوں نے اس شہر اور مسجد کو پورے اسلامی تقدس کے ساتھ صلاح الدین ایوبی کے دور تک یہودیوں ، مسیحوں اور مسلمانوں کے لئے کھلا رکھا ۔ لیکن یہودی دیوار گریہ کے پاس ہر سال آکر گریہ اور رونا دھونا جاری رکھتے ہوئے اس بات کی دنیا بھر میں اشاعت کرتے رہے کہ فلسطین ارض موعودہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ اس مبارک وطن کا وعدہ کیا ہے کہ یہ صرف یہویوں کا ہے ۔ یہ ارض الانبیا خلافت کے دوران سب سے زیادہ مدت تک مسلمانوں کے پاس رہی ۔ لیکن یہودی دوہزار سال سے جس کی کوشش میں رہے ، اُس کا حصول لمحہ اُس وقت آں پہنچا جب برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم میںیہودی سرمایہ داروں سے جنگ کے اخراجات کے لئے مدد مانگی تو یہودیوں نے لوہے کو گرم دیکھ کر وار کیا اور برطانیہ سے وعدہ لیا اور وہ خفیہ دستاویزات منظر عام پر آچکے ہیں جس میں برطانیہ نے اہل عرب و مسلمانوں کے دل میں خنجر گھونپنے اور اسرائیل کے لئے ملک کے قیام کا عہدکیا ہے ۔ اسرائیل کے ساتھ جنگوں ، مذاکرات اور تسلیم نہ کرنے کے سارے مراحل سے گزرتے ہوئے اب ایک نئی او رعجیب صورتحال یہ پیدا ہوئی کہ وہ کام جو گزشتہ ستر برسوں میں نہ ہو سکا ۔۔ ٹرمپ کے ایک اعلان کے ذریعے ہوگیا ۔ جب سے یروشلم کو امریکہ کی طرف سے اسرائیل کا دارالحکومت بنانے اور تسلیم کرنے کی خبر آئی ہے ، دنیا ایک نئے خطرے سے دوچار ہوئی ہے ۔ حماس نے دوبارہ انتفاضہ شروع کیا ہے ۔ ترکی نے او آئی سی کی میٹنگ بلا کر اپنا فریضہ ادا کیا سعودی عرب نے بھر پور شرکت نہ کر کے مسلم اتحاد جو پہلے ہی پارہ پارہ تھا دنیا کے سامنے اور بھی آشکارہ کردیا ۔ ایران کی اپنی سٹریٹجی اور مسائل ہیں ۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پھنسا ہوا ہے۔ مصر میں سیسی نے جو گل کھلائے ہیں اورمخلص مسلمانوں کو مروا کر اور جیلوں میں ٹھونس کر اپنے ہی ملک کو کمزور کیا ہے۔حسینہ واجد ، مودی کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے 1971ء کی جنگ سے ابھی تک نکل نہیں سکی ہے اور جماعت اسلامی کے بے گناہ و مخلص کارکنوں کو تختہ دار پر چڑھا تے ہوئے اپنے ملک کو کمزور اور آخرت کو برباد کرنے میں لگی ہے۔ سعودی عرب ٹرمپ کے ساتھ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا عسکری ود فاعی معاہد ہ (تین سو ارب ڈالر) کر کے کیسے امت مسلمہ کے کسی کام آسکتا ہے ؟ بلکہ بعض لوگ تو یہ بھی اُڑا رہے ہیں کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے اسرائیل کا خفیہ دورہ کر کے اسرائیل کی ایران کے خلاف مدد کے حصول کے لئے اسرائیل کے ساتھ بڑی ڈیل کا وعدہ بھی کیا ہے ۔ ان سطور کے ذریعے احقر نے ایک دفعہ عرض کیا تھا کہ اکیسویں صدی میں اگر عالم اسلام کو کوئی بڑا حادثہ پیش ہوا تو اُس کی ذمہ داری سعودی عرب اور ایران پر ہوگی ۔ لہٰذا ان دونوں سے رسائی رکھنے والے درد مند اپیل کریں کہ دین مبین کی خاطر اپنے مسلکی اختلافات اُس وقت تک ملتوی رکھ لو جب تک مسلمانوں کے فلسطین اور کشمیر جیسے مسائل حل نہ ہو جائیں ۔ میراوجدان اور تاریخ کا مطالعہ یہ یقین دلاتا ہے کہ اگر سعودی عرب ، ایران ،پاکستان ، ترکی اور مصر مل کر اور خلوص دل سے اسلامی ممالک کو صرف اس بات پر مجبور و متفق کرلیں کہ امریکہ سے اپنے سفیروں کو واپس بلائیں گے اور اُس وقت تک اُس کے تجارتی تعلقات معطل رکھیں گے خواہ مرکیوں نہ جائیں جب تک امریکہ اپنا فیصلہ واپس نہ لے ۔

متعلقہ خبریں