Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت حسن بصریؒ ایک مرتبہ حضرت رابعہ بصریہؒ کے عبادت کدہ پر تشریف لائے اور ان سے درخواست کی کہ آپ نے جس طرح تکلیفوں کے ساتھ علوم حاصل کئے ان کا تذکرہ فرمائیں۔

فرماتی ہیں کہ میں نے چند ٹوپیاں بنائی تھیں تاکہ انہیں فروخت کروں اور ان سے روزی کا سامان حاصل کروں۔ چنانچہ وہ میں نے دو درہم میں بیچ ڈالیں۔

پھر مجھے خوف ہوا کہ اگر میں دونوں درہموں کی حفاظت پر توجہ دوں گی تو میرا علم ضائع ہو جائے گا۔ چنانچہ میں نے ان درہموں سے روزی کا سامان حاصل کیا اور تحصیل علم میں مصروف ہوگئی۔ یوں میں اپنے آپ سے بے خبر ہو کر پوری توجہ سے علم حاصل کرتی رہی۔ یہاں تک کہ رب تعالیٰ نے مجھے علم میں عظیم الشان مرتبہ عطا فرمایا۔ (مخزن صفحہ نمبر250)

گجرات کا حکمران سلطاب قطب الدین بن شاہ محمد المتوفی 855ھ میں بستر مرگ پر بڑی تکلیف میں مبتلا تھا۔ اس حالت میں اس کی نظر اپنے محل کے جھروکے سے ایک ساحل پر پڑی جس پر ایک لکڑہارا سر پر لکڑیاں اٹھا کر جا رہا تھا اور بوجھ کے زیادہ ہونے کی وجہ سے مشقت میں مبتلا تھا۔ اس نے بڑی مشکل سے ندی کو عبور کیا‘ کنارے پر آخر بوجھ کو زمین پر ڈالا اور کمر سے سوکھی روٹی نکال کر پیاز سے کھانے لگا‘ اس کو بہت بھوک لگی ہوئی تھی‘ اس لئے بڑی رغبت سے کھاتا رہا۔ پھر ندی کے کنارے آیا اور خوب سیر ہو کر پانی پیا اور ایک دیوار کے سایہ میں سو گیا۔ سلطان یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا‘ اس نے کہا اے کاش! میری بادشاہت اس لکڑہارے کو دے دی جاتی اور اس کی تندرستی مجھ کو عطا کردی جاتی اور میں لکڑہارے ہی کا کام کرتا رہتا۔

(مرآۃسکندری 68بحوالہ بزم رفتہ کی سچی کہانیاں 144)

خلیفہ منصور‘ عباسی خلافت کا اہم ستون مانا جاتا ہے‘ اس کی دانشمندی نے عباسی حکومت کو ایک شاندار دور عطا کیا ہے‘ اس کی سیاسی پالیسی اسلامی جذبہ سے معمور تھی۔

ایک مرتبہ کسی موقع پر مہدی سے کہنے لگا: خدا کی نعمتیں شکر سے قائم رہتی ہیں‘ اپنا وصیت نامہ اس نے مرتب کرتے ہوئے لکھا:

بیٹا! امت محمدیہ کی حفاظت کرنا‘ اس کے بدلے میں خدا تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائیں گے۔ خونریزی سے بچنا‘ کیونکہ خدا کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے‘ حلال چیزیں استعمال کرنا‘ اس میں ثواب ہے اور دنیا میں بھی بھلائی ہے۔ خدا نے جو احکام بتلائے ہیں اس سے سر موتجاوزنہ کرنا‘ عدل کے ساتھ حکومت کرنا‘ اپنی حد سے آگے نہ بڑھنا۔

منصور جہاں ایک اولوالعزم خلیفہ تھا‘ وہیں کفایت شعاری میں بھی اپنی مثال آپ تھا۔ ایک مرتبہ محل کے پھاٹک میں داخل ہوا تو کئی قندیلیں روشن تھیں۔ پوچھا کیا ان میں سے ایک قندیل کافی نہ تھی اب آئندہ سے یہاں صرف ایک ہی قندیل روشن ہوگی۔

(کتابوں کی درسگاہ میں)

متعلقہ خبریں