Daily Mashriq

ٹریفک کا گمبھیر مسئلہ سنجیدہ اقدامات سے ہی حل ہوگا

ٹریفک کا گمبھیر مسئلہ سنجیدہ اقدامات سے ہی حل ہوگا

ضلعی حکومت کی جانب سے شادی ہالز اور نجی سکولوں کے نقشوں کے منظوری کیلئے پارکنگ کیلئے مناسب جگہ مختص کرنے کی شرط بشرط حقیقی عملدرآمد احسن اقدام ہوگا۔ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور بالخصوص اور دیگر شہروں میں بالعموم پارکنگ کیلئے جگہ مختص نہ ہونے کے باعث لوگ سڑک کنارے گاڑیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہیں جس کے باعث پہلے سے تنگ دامنی کا شکار سڑکیں ٹریفک جام کا ایسا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں گویا سڑکیں نہ ہوں کسی پورٹ پر گاڑیاں کھڑی ہوں۔ شہری علاقوں میں جہاں جہاں نجی سکولز ہیں وہاں پر بالعموم اور جہاں دو چار چھ سکول قریب قریب ہوں وہاں پر خاص طور پر صبح اور سکول کی چھٹی کے اوقات میں ٹریفک کی صورتحال ناقابل بیان حد تک گمبھیر ہو جاتی ہے۔ اسی طرح شہر میں جابجا شادی ہالز کھلنے سے پارکنگ کا مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوگیا ہے جہاں آنے والے مہمان کی گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی ہوں۔ یہ مسئلہ نیا نہیں لیکن اس کے باوجود اس سنگین مسئلے کے حل کی طرف سنجیدگی سے توجہ کی کوئی مثال نہیں دی جاسکتی۔ اس سنگین سے سنگین تر ہوتی صورتحال کا عدالتوں سے بھی نوٹس لیا گیا اور ہدایات جاری کی گئیں لیکن اس کے باوجود جہاں بھی دیکھیں پارکنگ کیلئے مناسب جگہ کا انتظام کئے بغیر کمرشل اور رہائشی پلازے بن رہے ہیں۔ سکولوں اور شادی ہالوں کے مالکان کی ڈھٹائی کا کوئی نوٹس لینے والا نہیں۔ اس ضمن میں موجودہ ضلعی حکومت کی کاوشوں کا فی الحال تذکرہ ہی کیا جاسکتا ہے کیونکہ ماضی میں بھی اس قسم کے منصوبوں اور اقدامات کے اعلان کا کوئی خوشگوار تجربہ مشاہدے میں نہیں۔ بہرحال اس کے باوجود اسے خوش آئند امر ہی قرار دیا جائے گا کہ ضلعی حکومت اس مسئلے کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کے طور پر پشاور میں نجی سکولوں کے نقشوں کی منظوری کیلئے سکول کا45فیصد حصہ کار پارکنگ جبکہ شادی ہالز کے نقشوں کی منظوری کیلئے ہال سے دوگنا زیادہ پارکنگ موجود ہونا بھی لازمی قرار دیدیا ہے۔ اجلاس میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ نجی سکولز اور شادی ہالز کے پاس کار پارکنگ نہ ہونے کی وجہ سے رہائشی اور کمرشل علاقوں میں ٹریفک مسائل پیدا ہو رہے ہیں جن میں ورسک روڈ، جی ٹی روڈ، یونیورسٹی روڈ، دلہ ذاک روڈ، کوہاٹ روڈ، چارسدہ روڈ، سٹی سرکلر روڈ اور اندرون شہرکے علاقے شامل ہیں۔ بنا بریں چاروں ٹاؤنز سے نجی سکولز اور شادی ہالز کیلئے کارپارکنگ لازمی قراری دیدی گئی جبکہ پرائیویٹ سکولز اور شادی ہالزکے نقشے وصول کرتے وقت سکولز کے کل رقبے کا 45 فیصد اور شادی ہالز کے کل رقبے کا 200فیصد کار پارکنگ کیلئے مختص کرنے کو لازمی قرار دیدیا گیا۔ تازہ صورتحال کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو پورے صوبے میں اور بالخصوص صوبائی دارالحکومت پشاور میں سوائے سرکاری تعلیمی اداروں کے کسی اور ادارے میں اس قسم کے انتظامات نہیں جو بچوں کے کھیل کود اور پارکنگ کی ضروریات کیلئے کافی ہوں حالانکہ سرکاری تعلیمی اداروں کی ضروریات کے مقابلے میں نجی تعلیمی اداروں کی ضروریات کہیں بڑھ کر ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کا اقدام پہلے ہی ہو جانا چاہئے تھا اور اس پر ہر قیمت پر عملدرآمد کروایا جاتا تو آج شہر میں پارکنگ کی صورتحال اس قدر گمبھیر نہ ہوتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف آئندہ کیلئے اس طرح کے اقدامات کافی نہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت جو صورتحال درپیش ہے پارکنگ اور مناسب جگہ کی رعایت نہ رکھتے ہوئے جو سکول، کالجز، یونیورسٹیاں‘ شادی ہالز اور بڑے بڑے پلازے بن چکے ہیں ان سے پیدا شدہ مسائل سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ اگر آگے کو دوڑ پیچھے چھوڑ قسم کی قانون سازی کی بھی جائے تو وہ موثر اور نافع نہ ہوگی۔ قانون کے نفاذ اور عملدرآمد کے تقاضے ہمیشہ سے بڑا مسئلہ رہے ہیں خاص طور پر نجی سکولز مالکان اور شادی ہال چلانے والے بہت بااثر لوگ ہوتے ہیں جن کیخلاف آسانی سے اسلئے بھی کارروائی ممکن نہیں ہوتی رہی ہے کہ ان کی صوبائی کابینہ میں موثر نمائندگی اور اسمبلی میں ایک حلقہ ہر وقت موجود ہوتا ہے جس کے باعث قانون سازی اور کارروائی دونوں ہی حکومت کیلئے چیلنج کا باعث بنتی رہی ہیں۔ حکومت بلاامتیاز کارروائی کرکے ہی اس ضمن میں عوامی خواہشات پر پورا اتر سکی ہے ان سارے عوامل کی بناء پر محولہ قانون پر عملدرآمد بڑا چیلنج ہی رہے گا جس پر قابو پائے بغیر کوئی قانون سازی موثر اور نافع ثابت نہیں ہوسکے گی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ضلعی حکومت اس ضمن میں ڈنگ ٹپاؤ قسم کی کوششوں کی بجائے سنجیدہ اقدامات کے ذریعے اس امر کو یقینی بنائے گی کہ کو ئی بھی بااثر شخص یا افراد مقررہ مختص جگہ پارکنگ کیلئے مخصوص کئے بنا کوئی سکول یا شادی ہال قائم نہیں کرسکے گی۔ اس ضمن میں جو درکار اقدامات ہوں گے وہ یقینی بنائے جائیں گے۔ جب تک اس ضمن میں سخت سے سخت اقدامات سے گریز کا طرزعمل اختیار کیا جائے گا یہ مسئلہ لاینحل ہی رہے گا۔

متعلقہ خبریں