Daily Mashriq

عوامی جذبات کی درست ترجمانی

عوامی جذبات کی درست ترجمانی

وزیراعظم عمران خان کا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج کے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں پر گہرے صدمے اور تشویش کا اظہار پاکستان کے عوام کی حقیقی نمائندگی اور ان کے جذبات سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو آگاہ کرنے کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانے کے مترادف ہے۔ وزیراعظم نے بجاطور پر سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ اس ضمن میں عالمی ادارے کے سربراہ کے طور پر اپنا کردار ادا کریں۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان ہر پلیٹ فارم پر کشمیری بھائیوں کی جدوجہد آزادی کی سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا رہا ہے اور یہ ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی حصہ ہے جس کی وزیراعظم نے ترجمانی کی۔ علاوہ ازیں بھی وفاقی حکومت عوام کی امنگوں پر پورا اترنے کیلئے پوری طرح کوشاں ہے۔ وفاقی حکومت کا نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا مشن اور خاص طور پر نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کی فراہمی اور تربیتی پروگراموں کی سعی خاص طور پر سراہے جانے کا باعث امر ہے۔ وفاقی حکومت کی کوششوں سے نوجوانوں کیلئے ملائشیاء کا ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ دینے سے اتفاق‘ ملائیشیاء کی یونیورسٹیوں میں سکالرشپ دینے کے اعلان کیساتھ روزگارکی فراہمی میں پاکستان کی مدد کا وعدہ تحریک انصاف کے منشور کے اہم حصے پر عملدرآمد کا خوشگوار آغاز ہوگا۔ انہی دنوں برٹش ایئرویز کی جانب سے پاکستان کیلئے پروازوں کی بحالی اور مختلف یورپی ممالک کی جانب سے پاکستان کو سفر وسیاحت کیلئے محفوظ اور موزوں ملک قرار دینا ایک اور اطمینان کا لمحہ ہے۔ اس کا کریڈٹ لینے کی گزشتہ حکومتی عہدیدار کوشش میں ہیں لیکن جس دور حکومت میں جو سعادت حصے میں آئے اور کام ممکن بن جائے اصولی طور پر اس کا کریڈٹ بھی اسی حکومت کو جانا چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک دہائی کے بعد برطانوی فضائی کمپنی کا پاکستان کیلئے پروازیں دوبارہ شروع کرنا ان تمام فضائی کمپنیوں کیلئے بھی مثبت پیغام ہے جن کی پروازیں یا تو سرے سے آتی نہیں یا پھر پروازوں کی تعداد میں کمی کردی گئی تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک دہائی بعد یورپ کا بند دروازہ کھلنے کے بعد پاکستان کی سیاحت ومعیشت اور کاروبار حیات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ وفاقی کابینہ میں خیبر پختونخوا کو موثر نمائندگی حاصل ہے یہاں کے عوام کو وفاقی وزیر مراد سعید‘ علی محمد خان‘ شہریار آفریدی اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے بجاطور پر توقع ہے کہ وہ نہ صرف وفاق سے متعلق صوبے کے معاملات نمٹانے میں اپنا کردار ادا کریں گے بلکہ یہاں کے عوام کے حقیقی نمائندوں کے طور پر عوامی مسائل اور مشکلات کے حل میں بھی پوری مساعی کریں گے۔

بھتہ خوری کے تشویشناک واقعات

شہر کے نواحی تھانوں کی حدود میں بھتہ خوری کے واقعات میں اضافہ خطرے کی گھنٹی اور فوری توجہ طلب مسئلہ ہے۔ ہمارے کرائمز رپورٹر کے مطابق شہر کے نواح میں واقع خزانہ پولیس سٹیشن کا شمار ان پولیس سٹیشنوں میں ہوتا ہے جہاں بھتہ خوری آج بھی ایک سنگین مسئلہ ہے رواں سال خزانہ میں بھتہ خوری کے سولہ واقعات ہوئے ہیں۔ متھرا پولیس سٹیشن میں بھتہ کے آٹھ اور داؤدزئی میں چھ واقعات رپورٹ ہوئے۔ مچنی گیٹ پولیس سٹیشن میں بھی چھ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ان علاقوں میں بھتہ خوروں کا ٹارگٹ مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے قبائلی افراد ہیں اور پچاسی فیصد کیسز میں انہی کو نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ مقامی سرمایہ دار افراد یا زمیندار باقی ماندہ کیسز میں ٹارگٹ کئے جارہے ہیں۔ اس کے باوجود پولیس کو اس امر سے اتفاق نہیں کہ صورتحال گمبھیر نہیں بلکہ پولیس کا موقف ہے کہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں بھتہ خوری کے واقعات میں خاطرخواہ کمی آئی ہے تاہم پولیس اس امر کی معترض ضرور ہے کہ جہاں جہاں بھی قبائلی آباد ہیں وہاں یہ مسئلہ موجود ہے۔ بھتہ کی کالوں کیلئے غیرقانونی گیٹ ویز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ افغان سموں کا استعمال اب بھی جاری ہے جس کی وجہ سے بھتہ خوروں کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے۔ہمارے تئیں پولیس کی یہ شکایت معروضی حقائق اور حالات کی روشنی میں درست ہے۔ اس ضمن میں متعلقہ اداروں کی ناکامی یا پھر اس ضمن میں ارتکاب غفلت وتساہل بھتہ خوروں کو کھلی چھٹی دینے کے مترادف ہے۔ پولیس کو جہاں بھتہ خوری کی روک تھام اور بھتہ خوروں کو قانون کے کٹہرے میں لاکھڑا کرنے کی ضرورت ہے وہاں غیرقانونی سموں کے استعمال کا مکمل تدارک یقینی بنانے کی ذمہ داری یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ صوبے میں بڑی کوششوں کے بعد امن جس طرح بحال کیا گیا اور عوام کو تحفظ کا احساس ملا ہے جاری صورتحال میں احساس عدم تحفظ بڑھنے کا امکان ہے جس کی روک تھام کیلئے جلد سے جلد ایسے اقدامات کئے جانے چاہئیں جن سے صوبے میں تحفظ کا احساس یقینی بن جائے۔

متعلقہ خبریں