Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

نہیں صوبے میں پختون روایات دم توڑ رہی ہیں یا پھر خواہ مخواہ مخالفین کو پھنسانے کیلئے سنگین الزامات لگانے کا رواج بڑھ گیا ہے۔ یقین کرنا مشکل ہے کہ بڈھ بیر میں پانچ افراد نے ایک خاتون کے مکان پر ہلہ بول کر دروازہ توڑ دیا اور خاتون کو دھمکیاں دیں۔ وجہ تنازعہ کیا تھا اس بارے تفصیلات کا علم نہیں اگر صرف بڈھ بیر میں ہی اس نوع کا واقعہ ہوتا تو اسے صوبے کے روایتی پختون معاشرے کو الزام نہ دینے کی گنجائش تھی مگر المیہ یہ ہے کہ صوبے میں اس قسم کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ چل بسے وہ لوگ جو ہر بچی اور خاتون کے سر پر چادر ڈال کر اسے ماں بہن کا درجہ دیا کرتے تھے اب لوگ ماؤں بہنوں کے درپے ہو رہے ہیں تو پھر اس معاشرے کو بھی مزید پختون معاشرہ گرداننے کی گنجائش نہیں۔ صوبے کے دیگر اضلاع میں جہاں پختون معاشرہ نہیں رہا وہاں کا روایتی معاشرہ بھی اب نہیں رہا۔ افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے صوبے میں بھی اس کی نوبت آنی تھی۔ زیادہ نہیں آج سے چالیس پچاس سال پہلے کا معاشرہ ہوتا اور کوئی شخص اس قسم کی حرکت کی کوشش کرتا تو کمانی دار چاقو اس کے پیٹ میں گھونپ کر آنتیں اکھیڑ دیتا اور لوگ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کو دوڑتے۔ آج جب کسی معصوم پر ظلم ہو رہا ہوتا ہے تو میں آپ اور ہم سب نظریں چرا کر گزرتے ہیں۔ کیا اس طرح سے ہم چوروں کے قبیل میں نہیں بزدلوں کا سا روپ نہیں دکھاتے۔ ہماری جوانیاں اور ہماری غیرت گھاس چرنے گئی ہوتی ہے۔ روایتی پختون معاشرے سے صرف غیرت ہی رخصت نہیں ہوئی مہمان نوازی اور حجرہ کلچر بھی ناپید ہے کہیں کہیں ہے بھی تو دم توڑنے کو ہے۔ چلم کا کش لگا کر حجروں میں ہجر کے گیت گانے والے اور سریلی آواز میں مہمانوں کو محظوظ کرنے والے اب ریموٹ پکڑ کر واہیات دیکھنے لگ پڑے ہیں۔ بات ہو رہی تھی چلم کی، وہ نہیں رہا۔ نسوار کی شیشہ والی ڈبیہ بھی نہیں رہی، جس میں عشاق دانت پر نسوار کے داغ دیکھا کرتے تھے اب تو بس پلاسٹک کی تھیلی میں بند نسوار ہی بازاروں میں بکتی ہے جو ہمارے معاشرے اور شخصیت کی طرح مصنوعی ہی ہے۔ معلوم نہیں یہ سچ ہے یا جھوٹ تحقیق واقعی تحقیق ہے یا گھڑی گئی ہے بہرحال پیش خدمت ہے۔

ایک راہب رامون پین نے1493میں ہونٹ کے نیچے رکھ کر اس کا استعمال امریکہ اور کینیڈا سے شروع ہوا اس کے مداحوں میں نپولین، کنگ جارج3، ملکہ شارلٹ اور پوپ بینڈکٹ شامل تھے اس پر پہلا ٹیکس 1974میں امریکہ میں لگا کیونکہ اسے عیش وعشرت کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔

اگر کسی کو اس تحقیق یا دعوے کی سچائی اور جھوٹا ہونے کا علم ہو تو ضرور آگاہ کرے تاکہ نسوار کی تاریخ میں گھڑی ہوئی بات ریکارڈ پر نہ آئے۔ جو لوگ نسوار استعمال نہیں کرتے وہ اپنی رائے محفوظ ہی رکھیں تو بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں