Daily Mashriq

بجلی کا بھاؤ بڑھانے کے مضمرات

بجلی کا بھاؤ بڑھانے کے مضمرات

ایک طرف بجلی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے بجلی کے بھائو میں ایک روپیہ 27 پیسے فی یونٹ کا اضافہ ہو جائے گا‘ کہا گیا ہے کہ 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں پر اس اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا لیکن اس اضافے سے عمومی مہنگائی میںجو اضافہ ہوگا اور زرعی اور صنعتی پیداوار کی لاگت میں جو اضافہ ہوگا‘ کمرشل صارفین کی لاگت میں جو اضافہ ہوگا کیا اس سے 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والوں سمیت کوئی محفوظ رہ سکے گا۔ ہر بار اضافہ کرتے وقت کم بجلی استعمال کرنے والوںپر اس مہربانی کا اعلان کیا جاتا ہے جو دراصل کوئی مہربانی نہیں ہے کیونکہ مہنگائی میں اضافہ ان سے وہ وصول کرلیتا ہے جس کی انہیںچھوٹ دی جاتی ہے۔ بجلی کے بھائو میں اضافہ ہوگا تو زرعی پیداوار کی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا۔ صنعتی پیداوار کی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا۔ کسانوں کیلئے ہوگا ان سے کھاد اور بیج کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا۔ ایک طرف ان کے ٹیوب ویل چلانے کی لاگت میں اضافہ ہوگا دوسری طرف ان کی فصلوں کی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا‘ صنعتی پیداوار کی لاگت میں تو اضافہ براہ راست ہوگا۔ بجلی ہوگی تو کارخانہ چلے گا۔ کارخانہ چلے گا تو ا س کی لاگت زیادہ ہوگی اور یہ لاگت مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر وصول کی جائے گی۔ پاکستان پن بجلی کے وسائل سے مالا مال ہے لیکن انہیں مناسب طریقے سے بروئے کار لانے میں ایسی مجرمانہ غفلت سے کام لیا جاتا رہا کہ اب ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی پر انحصار کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے۔ ایندھن بیرون ملک سے آتا ہے اس پر زرمبادلہ خرچ ہوتاہے۔ زرمبادلہ برآمدی تجارت سے حاصل ہوتا ہے۔ برآمدی تجارت کیلئے جو زرعی اور صنعتی پیداوار بین الاقوامی منڈی میں پیش کی جاتی ہے اس کی پیداواری لاگت میں اضافہ کی وجہ سے دیگر ملکوں کی مصنوعات اور زرعی اجناس کی نسبت مہنگی ملتی ہیں۔ زرمبادلہ میں کمی آتی ہے۔ بیرونی قرضہ ادا کرنے کیلئے مزید قرضے لئے جاتے ہیں اگر قرضے کم ملیں تو عام استعمال کی اشیاء مثلاً بجلی‘ گیس اور پٹرولیم کی مصنوعات کا بھائو بڑھا دیا جاتاہے ۔ اس کی وجہ سے ایک طرف صارفین کیلئے مہنگائی میں اضافہ ہو جاتا ہے تو دوسری طرف زرعی اور صنعتی پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور بین الاقوامی منڈی میں پاکستان کی زرعی اور صنعتی پیداوار کو مناسب بھائو نہیں ملتا اور بیرونی قرضے اتارنے کیلئے مزید قرضے لینے پڑتے ہیں۔ ایک طرف عوام کی آمدنی کی قوت خرید میں کمی آتی رہی اور عوام غریب ہوتے رہے دوسری طرف چند بااثر افراد ملک کی دولت بیرون ملک لے جاکر اس سے اپنی جائیدادوں اور اثاثوں میں اضافہ کرتے رہے۔ اس صورت حال کو سمجھنے کیلئے افلاطونی عقل کی ضرورت نہیں ہے۔

نئی حکومت کو پہاڑ جیسی معاشی مشکلات ورثے میں ملیں۔ اس کے باوجود کہا گیا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لیا جائے گا اس ادارے کے ساتھ قرضے کی بات چیت جاری ہے۔ سعودی عرب‘ چین اور متحدہ عرب امارا ت سے معاشی مشکلات دور کرنے کیلئے امدادکا بندوبست کیا جارہا ہے۔ عوام سے کہا جارہا ہے کہ جلد یہ مشکل وقت گزر جائے گا اور خوشحالی آئے گی۔ موجودہ حکمرانوں کی نیک نیتی پر کسی کو شک نہیں لیکن جو امید عوام کو دلائی جارہی ہے اس کے حقیقی ہونے کا یقین دلانے کیلئے حکومت کی پالیسیوں پر عوام کا اعتماد کیا جانا ضروری ہے تاکہ عوام کو یہ یقین آسکے کہ حکومت کے پاس ان امیدوں کو حقیقت بنانے کیلئے اہلیت بھی ہے۔ اہلیت کا اندازہ اسی طرح کیا جاسکتا ہے کہ حکومت جو بھی اقدامات کررہی ہے ‘ اس سے عوام کو باخبر رکھے ۔ پالیسیاں و اہم اغراض اور ان پر عملدرآمد کا پروگرام واضح ہو تاکہ اس پروگرام کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ عوام کو ان کے نتیجہ خیز ہونے کا یقین پختہ تر ہوتا رہے جب یہ امید پوری نہ ہوسکی کہ پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوتے ہی بیرونی ممالک سے ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس آنا شروع ہو جائے گی او ر عوام پر واضح ہوگیا کہ اس راہ میں بہت سی قانونی پیچیدگیاں حائل ہوں گی تو عوام کیلئے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں رہا کہ تبدیلی میں وقت لگے گا ۔ لیکن بتایا جانا چاہیے کہ کتنا وقت لگے گا۔ یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پن بجلی پیداکرنے کے اتنے امکانات ہیں کہ ان سے پورے پاکستان کو بلکہ بیرونی ممالک کو بھی بجلی سپلائی کی جاسکتی ہے۔ اگر یہ دعویٰ غلط ہے تو حکومت کو اس کی حقیقت سے عوام کو مطلع کرناچاہیے اور اگر اس میں کوئی حقیقت ہے تو ایسے منصوبوں پر ترجیحی بنیادوںپر کم ہوتا نظر آنا چاہیے۔ ٹھیک ہے کہ موجودہ حکومت کو مشکل معاشی صورتحال ورثے میں ملی ہے لیکن اسے بہتری کی طرف لانے کیلئے اقدامات اختیار کرتے وقت نہ حکومت کو خود گومگوکی کیفیت میں رہنا چاہیے نہ عوام کو اس کیفیت میں رکھنا چاہیے۔ واضح پالیسی اختیار کرنا چاہیے اور عوام کو اعتماد میں لیناچاہیے۔ اگر اقدامات اختیار کرتے ہوئے اسی صورتحال پر انحصار کیا گیا کہ عوام کی یادداشت بہت کمزور ہوتی ہے تو اس سے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی اور جمہوری منصوبوں کی بنیاد عوام کا اعتماد ہی ہوتاہے۔ ٹیکس لگانا اور بھائو بڑھانا آسان کام ہے لیکن اس میں احتیاط کی ضرورت ہے کہ متوقع نتائج حاصل کرنے کیلئے عوام کی سکت دیکھنا ضروری ہونا چاہیے۔ بجلی کے بھائو میں اضافے کیلئے دسمبر کا انتخاب کیا گیا ہے جب نہ پنکھے چلتے ہیں نہ فریج نہ اے سی چلائے جاتے ہیں۔ بجلی کم خرچ ہوگی تو اس پر عام صارفین کااضافے کا بوجھ بھی کم ہوگا۔ لیکن جب مارچ میںگرمی شروع ہو جائے گی تو تمام صارفین کی چیخیں نکل جائیں گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ بعض صارفین بجلی کی چوری پر آمادہ ہوں گے اور بہت سے سڑکوںپر احتجاج کیلئے نکلیںگے۔ کیا بجلی کا بھائو بڑھانے سے جس ایک سو تیس ارب روپے وصول ہونے کا تخمینہ لگایاگیا ہے وہ پورا ہو جائے گا؟

متعلقہ خبریں