Daily Mashriq

پاکستان کیلئے اہم ترین مسائل اور فکری کنفیوژن

پاکستان کیلئے اہم ترین مسائل اور فکری کنفیوژن

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عالم اسلام اس وقت سیاسی‘ مذہبی اور معاشی وعسکری مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ پاکستان‘ سعودی عرب‘ ترکی اور ایران تو یوں سمجھئے کہ منجدھار میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ بات بھی ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا ہے کہ ان ساری کمزوریوں کے باوجود مسلمانان عالم میں مشرق سے مغرب تک ایمانی جذبہ کی کمی نہیں۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ چند ماہ قبل جب ہالینڈ کے ایک بدبخت نے گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا اعلان کیا تو پاکستان میں حکومت‘ اپوزیشن‘ علماء ومشائخ اور عوام نے متحد ہوکر جو آواز اُٹھائی اس کی گونج پورے مغرب میں پھیل گئی۔ یورپ کے کئی ایک ممالک نے اس نمائش کی ممانعت اور مذمت کی اور اسے یورپ میں امن کیخلاف اقدام قرار دیا۔ عالم اسلام میں ترکی‘ ملائیشیاء اور بعض عرب ممالک نے عالمی فورمز پر پاکستان کے مؤقف کی بھرپور تائید سے ایک ایسا ماحول بنایا کہ پارٹی فار فریڈیم کے سربراہ گرٹ ولڈرز (Geert Wilders) نے مجوزہ نمائش کی منسوخی کا اعلان کیا اور یوں وقتی طور پر مسئلہ حل ہوا لیکن اصل مسئلہ کے ہمیشہ کے حل کیلئے ابھی اسلامی ملکوں بالخصوص متحد ہوکر عالم اسلام کے چیدہ ملکوں کے سربراہوں کو بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ایمانی جذبات کا اظہار تو بے دریغ کرنا بہت آسان ہے لیکن علماء کی سطح پر یہ مسئلہ جہاں سے اُبھرتا اور سلگتا ہے وہاں ضروری اور اہم اقدامات اُٹھانے کیلئے کوئی خاص منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔

پاکستان میں بہت کم علماء ایسے ہیں جنہوں نے مغربی تاریخ وتہذیب اور فلسفہ ہائے عمرانیات اور بالخصوص اکیسویں صدی میں سائنس وٹیکنالوجی کے سبب برپا انقلابات کا بالاستیعاب جائزہ لیا ہو۔ آج کے مغرب کے عوام کو مسلمانوں کے بہت سارے مسائل کی نزاکتوں کا علم اور احساس ہی نہیں۔ ان کو انسان کے بنیادی حقوق کے طور پر پڑھایا اور سکھایا گیا ہے کہ ہر انسان کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے اور مذہبی معاملات پر بحث ومباحثہ اور تنقید وا عتراض اور اختلاف کو بھی عام مسائل کی طرح سمجھا گیا ہے۔

مغرب کے عوام کی اکثریت کو چونکہ مذہبیات کے میدان میں عقائد اور اعمال وعبادات سے دور رکھا جاتا ہے اسلئے ان کو اندازہ ہی نہیں کہ گنہگار سے گنہگار مسلمان بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کیساتھ کتنی محبت وعقیدت رکھتا ہے۔اب مغرب کے عوام کو یہ بات کون بتائے گا کہ دنیا میں بالخصوص مذہبی حوالوں سے بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جس پر انسانی زندگی اور تہذیب وتمدن اور مستقبل کا انحصار ہوتا ہے۔ کوئی اگر ان بنیادوں کو کمزور یا منہدم کرنے کی کوشش کرے گا تو لوگوں کا جذباتی ہونا اور پھر کچھ بھی کر گزرنا عین فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔ لہٰذا اس حوالے سے موجودہ حکومت نے بروقت جو وقتی اقدامات کئے اس کی تحسین کیساتھ اس تجویز پر فوری عمل کرنے کی ضرورت ہے کہ او آئی سی کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کرے۔ اسلامی ملکوں کے سفارت کاروں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے ان ممالک میں جہاں اس قسم کے شرپسند عناصر موجود ہوتے ہیں‘ بیدار رہیں اور مستقل بنیادوں پر اس موضوع پر متعلقہ ملکوں میں عوام‘ دانشوروں‘ صحافیوں اور حکمران طبقات کی آگاہی کیلئے میڈیا میں بھرپور مہم چلائیں اور سیمینارز اور کانفرنسوں کا انعقاد کریں۔

ہمارے علماء موجودہ وزیراعظم سے اس محاذ پر بہت فائدہ اُٹھا سکتے ہیں کیونکہ بہرحال وہ اس حوالے سے ٹھوس بنیادوں پر کام کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں اور ساتھ ہی مغرب میں ان کی بات سنی جاتی ہے۔ لہٰذا بین الاقوامی اداروں اور لابیوں تک اپنی آواز پہنچانے کیلئے عمران خان کی حکومت سے حکمت کیساتھ بہت زیادہ کام لیا جاسکتا ہے لیکن اس کیلئے حکومت کیساتھ ملکر کام کرنا ضروری ہوگا۔ بیرونی ممالک میں پاکستان کے حوالے سے بالعموم اور ناموس رسالت اور دوقومی نظریئے کے حوالے سے جو غلط فہمیاں موجود ہیں یا بھارت اور اسرائیل سے تعلق والے سفارتکار‘ سیاستدان اور دانشور پیدا کر رہے ہیں ان کا توڑ کرنے کیلئے ہمارے علماء کی طرف سے کوئی منظم وموثر کمپین وغیرہ ابھی تک وجود میں نہیں آئی ہے جس کی شدید ضرورت ہے۔

پاکستانی حکومت کو اپنے سفارتکاروں کو ناموس رسالتؐ‘ عقیدہ ختم النبوتؐ‘ دوقومی نظریہ اور پاکستان کے جوہری پروگرام کے تحفظ کے حوالے سے خصوصی تربیت دینا ہوگی اور اس بات کا اہتمام کرنا ہوگا کہ کوئی سفارتکار وڈپلومیٹ خواہ کتنا ہی افلاطون یا سقراط بقراط کیوں نہ ہو لیکن اگر اس کا ان چار نکات پر مکمل‘ مضبوط اور غیرمتزلزل ایمان وایقان نہ ہو تو اسے کم ازکم امریکہ اور مغرب کے ممالک میں تعینات نہ کیا جائے کیونکہ پاکستان کے سیکولر اور لبرل طبقات نے دستور پاکستان (جس میں دو قومی نظریہ سرایت کئے ہوئے ہے) کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں ہے اور ہمارے دینی طبقات کو اقوام متحدہ اور مغرب کیساتھ دستخط شدہ معاہدات کی نزاکتوں کا احساس نہیں ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں طبقات اپنے اپنے طرزعمل پر نظرثانی کرتے ہوئے قوم کو کنفیوژن سے بچائیں ورنہ سیکولر اور مذہبی طبقات کے مہم جو (ہاکس) مختلف مواقع پر اس چیز سے غلط فائدہ اُٹھاتے ہوئے ملک وقوم کو مشکلات میں ڈالتے رہیں گے۔ اس کا حل یہی ہے کہ اتحاد واتفاق کیساتھ ان معاملات کو عالمی فورموں سے قانون سازی کروا کر منوا لیں۔

متعلقہ خبریں