Daily Mashriq

فقیر راحموں کے خدشات اور سرائیکی صوبہ کا ایشو

فقیر راحموں کے خدشات اور سرائیکی صوبہ کا ایشو

جاڑہ (سردی) آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے اور میدان سیاست کی گرمی تیزی کیساتھ۔تواتر کیساتھ ان سطور میں پوچھے گئے ایک سوال کو مکرر عرض کرنا ہے۔ کیا چور لٹیرے اور غاصب صرف سیاستدان ہیں؟ جواب اپنے رسک پر تلاش کیجئے۔ یہاں مہنگائی نے مت مار رکھی ہے۔ بجلی کے فی یونٹ قیمت میں ایک روپے ستائیس پیسے کا اضافہ اور ملک بھر میں یکساں ٹیرف دو سو ارب روپے سے زیادہ کی کمائی ہوگی۔ سیاست کے نئے چلن کیا رنگ لاتے ہیں انتظار کیجئے۔ گلیاں سنجیاں کرانے کا پروگرام ہے، ان ویران گلیوں میں تنہا کون پھرے گا یا کس کی خواہش ہے اس بارے کچھ عرض کرنے کی ضرورت نہیں، جانے نہ جانے گل ہی نجانے باغ تو سارا جانے ہے۔ قومی اسمبلی میں اگلے روز تقسیم پنجاب پر دھواں دھار تقاریر ہوئیں۔ سرائیکی وسیب میں آبادکاروں اور مقامی آبادی کے درمیان نفرتیں بھر کر سیاست کرنے والے ق لیگ کے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے جی کے پھپھولے خوب پھوڑے اور سرائیکی صوبہ کی مخالفت میں دلائل دئیے۔ چند دن ہوئے ہیں جنم شہر یاترا کے دوران ایک اخبار نویس دوست نے دریافت کیا تھا اگر جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے نام سے دو صوبے بن جاتے ہیں تو برائی کیا ہے؟ عرض کیا دو صوبوں کی باتیں سرائیکی قومی تشخص پر حملہ ہے۔ اکثریت کو اقلیت بنا کر پیش کرنے کی پرانی سازش وسیب زادوں کو شعوری طور پر ناکام بنانے کیلئے کوششیں کرنا ہوں گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ سرائیکی وسیب کے لوگ پنجاب کی تقسیم نہیں اپنے اس قومی تشخص کی بحالی چاہتے ہیں جو وسیب کو پنجاب میں شامل کرکے ختم کیا گیا۔ ہمیں سمجھنا ہوگا یہ قومی تحریک ہے طبقاتی تحریک ہرگز نہیں۔ وسیب کے تمام طبقات کو متحد ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی۔ قومی اسمبلی میں جب جمعرات کے روز میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے حکومت سے کہا کہ صوبہ بنانے کے اقدامات کا آغاز کریں ہم ساتھ دیں گے تو ہمارے ملتانی مخدوم قبلہ شاہ محمود قریشی نے کہا انہوں نے اپنے دور میں صوبہ کیوں نہیں بنایا۔ کیا ان کی خدمت میں عرض کیا جائے کہ حضور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے پچھلی باتوں کے طعنے اچھے نہیں ورنہ کوئی طالب علم سے پوچھے گا کہ آخر عالی جناب نے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں وزارت خارجہ چھوڑنے سے قبل ایوان صدر میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس جو جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کیلئے حکمت عملی وضع کرنے کا مشاورتی اجلاس تھا میں اپنی ہی جماعت کی سیاست سے اختلاف کیوں کیا تھا؟نیا صوبہ بنانے کیلئے پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے پاس عددی اکثریت موجود نہیں لازم ہے کہ پی ٹی آئی‘ پیپلز پارٹی اور نون لیگ سے تعاون طلب کرے۔ عجیب بات ہے کہ اپوزشن لیڈر نے پہلے تو یہ کہا کہ جنوبی پنجاب کا صوبہ بنائیں ہم تعاون کریں گے پھر اگلے ہی سانس میں بولے بہاولپور صوبہ بحال کریں ہم بل لانے کو تیار ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سرائیکی وسیب کو تقسیم کرنے کے معاملے میں نون اور ق لیگ ایک پیج پر ہیں یعنی ایک بار پھر سرائیکی صوبہ کا کمبل چوری کروانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ بہرطور اس اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی مہر ارشاد میاں اور ثناء اللہ مستی خیل کی تقاریر سے سرائیکی وسیب کے عوام کے جذبات کی ترجمانی ہوئی۔ لوگ کیا چاہتے ہیں‘ مسائل کیا ہیں اور حل کیا ہوسکتا ہے دونوں ارکان نے بھرپور انداز میں وسیب زادوں کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے واضح کردیا کہ لولے لنگڑے صوبے پر لوگوں کو بہلانا یا تین ڈویژنوں والا صوبہ منظور نہیں ہوگا۔صاف سیدھی بات یہ ہے کہ گیند پی ٹی آئی کے کورٹ میں ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے تحریک انصاف میں انضمام کے وقت ہونے والے تحریری معاہدے پر حرف بہ حرف عمل کیلئے شروعات ہونی چاہئیں۔ یہ بھی بطور خاص سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سرائیکی وسیب میں اگر لوگوں کی توقعات پوری نہیں ہوتیں تو آنے والے دنوں میں معاملات کیا ہوں گے۔ یہ عرض کرنا بھی غلط نہ ہوگا کہ بعض سیاسی رہنما آبادکاروں اور مقامی آبادی کے درمیان تعصبات کو ہوا دیکر کسی کی خدمت نہیں کر رہے۔ یہ گھاٹے کا سودا ہوگا سو اگر ایسے میں وسیب زادے یہ سوال کرتے ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جن قوتوں نے 1980ء کی دہائی میں صوبہ تحریک کی مقبولیت کا راستہ روکنے کیلئے فرقہ وارانہ تعصبات کو ہوا دیکر معاملات بگاڑے تھے اب وہ مقامی آبادکار شناختوں کی سیاست سے وہی کام لینا چاہتی ہیں؟ اس سوال پر چیں بجبیں ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ زمینی حقائق اور جناب طاہر بشیر چیمہ کی سرگرمیوں اور باتوں کی روشنی میں تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک بات یہ بھی عرض کرنا لازم ہے کہ تینوں بڑی پارلیمانی جماعتیں صوبہ صوبہ کھیلنے کی بجائے عملی اقدامات کیلئے باہمی تعاون کی ضرورتوں پر توجہ دیں۔ ثانیاً یہ کہ ایک دوسرے کو طعنے دینے کی بجائے پنجاب اور قومی اسمبلی میں قانون سازی پر توجہ دی جائے۔ جو معاملات تعاون‘ قانون سازی اور رواداری سے طے ہوسکتے ہوں انہیں اسی طرح طے کر لینا سب کے مفاد میں ہے۔ کالم یہاں تک لکھ پایا تھا کہ فقیر راحموں نے بار دیگر مداخلت کرتے ہوئے کہا شاہ جی! بند گلی کی طرف جاری ہانکے کا مقصد یہی ہے کہ نیا صوبہ بنانے کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ جائے اور سخت گیر مرکزیت کا ازسرنو احیا ہو۔ آئیے فقیر راحموں کی اس بات پر غور کرتے ہیں کہ کیا واقعی مالکان کی ترجیحات بدل چکی ہیں اور آنے والے دن کچھ زیادہ سخت ہوں گے؟۔

متعلقہ خبریں