Daily Mashriq

مالاکنڈ میں چھاؤنیوں کا قیام استحکام امن کا تقاضا

مالاکنڈ میں چھاؤنیوں کا قیام استحکام امن کا تقاضا

پشاور میں نئے کورکمانڈر کی تعیناتی کے بعد پاک فوج کی وہ تمام سرگرمیاں جوش وخروش سے جاری ہیں جن کا آغاز ماضی میں ہوا تھا۔ آئی جی ایف سی کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے میجر جنرل شاہین مظہر کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دئیے جانے کے بعد پشاور کا کورکمانڈر تعینات کیا گیا ہے۔ پاک فوج میں ترقیاں اور تعیناتیاں معمول کا حصہ ہیں تاہم قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کئے جانے کے بعد جہاں قبائلیوں کی توقعات سول حکومت سے ہیں وہیں وہ پاک فوج سے بڑی توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج کل کورکمانڈر قبائلیوں سے ملاقاتوں کے علاوہ ان کے مختلف جرگوں سے بھی مل رہے ہیں تاکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قربانیاں دینے والے محب وطن قبائل کا معیار زندگی بہتر بنانے کے حوالے سے ان کی تجاویز سامنے آسکیں۔ ضم شدہ قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کی اہمیت سے اسلئے بھی انکار ممکن نہیں کہ ایک طویل عرصہ دہشتگردی کیخلاف جنگ اور تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق نوے ہزار افراد کی عظیم قربانیوں کے بدلے قبائلی ہوں یا پھر خیبر پختونخوا کے عوام اب انہیں زندگی کی آسائشیں بھی ملنی چاہئیں اور خوف کی فضاء سے چھٹکارا بھی! اسی حوالے سے اگر قدرتی حسن سے مالامال مالاکنڈ ڈویژن کا ذکر کیا جائے تو سوات سے دہشتگردی کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد پندرہ لاکھ سے زیادہ تھی۔ رجسٹرڈ افراد کے علاوہ ایک بڑی تعداد ایسی بھی تھی جس نے خود کو رجسٹرڈ نہیں کروایا اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں سکونت اختیار کی۔ 2009ء میں ہونے والی یہ نقل مکانی بنیادی طور پر اس خطہ سے دہشتگردی ختم کرنے سے متعلق ان آپریشنز کے باعث تھی جو پاک فوج نے اس علاقے میں شروع کئے۔ شہریوں کی نقل مکانی کے بعد پاک فوج نے بھرپور آپریشن کیا، جیٹ طیاروں سے دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی اور انہیں جہنم واصل کیا گیا۔

سوات سمیت سارے مالاکنڈ سے نقل مکانی کرنے والے قیام امن کے بعد اپنے اپنے علاقوں میں واپس لوٹ گئے اور ایک بار پھر انہوں نے زندگی کی بہاروں کے مزے لوٹنے شروع کر دئیے۔ اس دوران سیکورٹی فورسز نے اس خدشہ کے پیش نظر کہ کہیں دوبارہ دہشتگردی کا آسیب سر نہ اُٹھا لے، مالاکنڈ بھر میں فوجی چھاؤنیاں بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس مرتبہ مالاکنڈ میں مجوزہ چھاؤنیاں کسی بھی طور بڑے شہروں میں قائم چھاؤنیوں کی طرح نہیں ہیں بلکہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ انہیں مختلف علاقوں میں بنایا جائے گا تاکہ مالاکنڈ کی طرف آنے والے کسی بھی راستے سے کوئی بھی دہشتگرد دوبارہ آنے کی جرأت نہ کر سکے اور اسی طرح کوئی بھی دہشتگرد کہیں فرار نہ ہو سکے۔ اطلاعات ہیں کہ مالاکنڈ ٹاپ کے بعد کانجو، خوازہ خیلہ اور شانگلہ میں چھاؤنیاں بنائی جائیں گی۔ ظاہر سی بات ہے کہ فوجی چھاؤنیوں کے قیام کا صرف یہی مقصد ہے کہ علاقے میں امن وامان کے قیام کیلئے پولیس کی مدد کو فوراً پہنچا جا سکے اور ان چھاؤنیوں کیلئے کوئی بڑا علاقہ مختص نہیں کیا جا رہا بلکہ چھوٹی چھوٹی چھاؤنیاں بنانے کیلئے زمین خریدی جا رہی ہے۔ ایک مقامی شہری محمد غفار کے مطابق بعض حلقے زمینوں کی خرید وفروخت کے حوالے سے قیاس آرائیاں کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج کو زمین کی خریداری کیلئے2014ء میں اس وقت کے وزیراعظم نے منظوری دی تھی جس کی توثیق موجودہ حکومت نے بھی کر دی ہے۔ اس وقت یہ تجویز تھی کہ چھوٹے کنٹونمنٹ بنائے جائیں گے جو تین سے چار انفنٹری بٹالین اور لگ بھگ تین ہزار سیکورٹی اہلکاروں کیلئے ہوں گے۔ یہ تاثر بھی درست نہیں کہ زمینوں کی خریداری کیلئے رقم ادا نہیں کی گئی بلکہ متعلقہ ادارے نے جائیداد مالکان کو ان کی رقم ادا کر دی ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی کے مطابق صوبائی کابینہ نے پاک فوج کی چھاؤنیاں بنانے کیلئے زمین خریدنے کی منظوری دی جس کے بعد چھاؤنی بنانے کا کام شروع ہو گیا ہے۔ ایک سینئر صحافی کا بھی یہ خیال ہے کہ فوجی چھاؤنی قائم ہونے سے علاقے میں قیام امن کے حوالے سے بہتری آئے گی۔ کانجو میں جو چھاؤنی بنے گی اس سے مینگورہ کو بڑی حد تک فائدہ ہوگا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا چھاؤنی بننے سے کوئی نقصان بھی ہوگا تو ان کا کہنا تھا حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں لیکن ممکن ہے کہ چند لوگ علاقے کی بہتری نہ چاہتے ہوں یا پھر ان کی اپنی ایک سوچ ہوگی لیکن مجموعی طور پر عوام خوش ہیں کہ ان کے علاقے میں کینٹ کا علاقہ بھی ہو گا۔ دہشتگردی پر قابو پانے کے بعد جہاں اب شمالی علاقے ملک بھر کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں اور سیاحوں کی بڑی تعداد یہ علاقے دیکھنے کیلئے بھی آرہی ہے ایسی صورت میں اگر سیکورٹی فورسز کی موجودگی بہتر انداز میں ہو تو انہیں بھی یہاں خوف کا احساس نہیں ہوگا بلکہ وہ بلاخوف وخطر سیر وتفریح کے مزے لوٹیں گے۔گویا پاک فوج کی جانب سے مالاکنڈ کو محفوظ بنانے کی ہر ممکن تدبیر کی جا رہی ہے جو اس امر کا تقاضا بھی کرتی ہے کہ ان کے اقدامات کو عوامی پذیرائی اور حمایت بھی حاصل ہو۔ توقع کی جا سکتی ہے کہ مالاکنڈ میں کنٹونمنٹ کے قیام سے علاقے کی معیشت میں بہتری اور عوام کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں