Daily Mashriq

مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

آج 22دسمبر2018ء ہے اور ہر سال کی 22دسمبر کی طرح آج کا دن سال کا سب سے چھوٹا یا مختصر ترین دن گردانا جاتا ہے۔ 22جون کے دن کو طوالت کے لحاظ سے سال کا سب سے بڑا دن مانا جاتا ہے یعنی اس کا دورانیہ سال کے باقی دنوں سے زیادہ ہوتا ہے اور پھر قدرت خداوندی سے 22جون کے بعد ایک خاص شرح سے ہر دن کا دورانیہ غیر محسوس طریقے سے کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ دن ہفتوں اور مہینوں میں ڈھلتے رہتے ہیں اور یوں ہم جب دنوں کی طوالت یا ان کے دورانیہ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ دن گھٹتے گھٹتے کتنا گھٹ گیا۔ دنوں کے بڑھنے یا گھٹنے کا ادراک ان لوگوں کو بخوبی ہوتا ہوگا جو پابند صوم وصلوٰۃ ہوتے ہیں۔ فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے والوں کو مسجد کا امام ہفتہ دس دنوں کے وقفہ سے بتاتا رہتا ہے کہ کل نماز فجر کی جماعت کتنے بجے ادا کی جائے گی۔ صبح دم سورج کے طلوع ہوتے ہی فجر کی نماز قضا ہوجاتی ہے۔ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کو نہ صرف فجر اور مغرب کی نماز کے اوقات کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے بلکہ پانچوں وقت کی نمازیں طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے درمیانی اوقات کی تابع ہوتی ہیں۔ اس طرح اللہ کے نیک اور پابند صوم وصلوٰۃ بندے ہر لحظہ دنوں کے بڑھنے یا گھٹنے کے قدرتی عمل سے باخبر رہتے ہیں۔

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

لگتا ہے کہ دانائے راز نے یہ بات اس ہی تناظر میں کہی ہے جو ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے۔ ہم عرض کرچکے ہیں کہ ہر سال کے دسمبر کی بائیسویں تاریخ کی طرح آج کا دن سال کے باقی دنوں کی نسبت مختصر ترین دن ہے۔ صرف گیارہ گھنٹے کے لگ بھگ طوالت کا حامل۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر سال دسمبر کی 22تاریخ دن کی طوالت میں اس قدر کمی کیوں آجاتی ہے۔ ہمارے اس سوال کا مختصر مگر جامع جواب تو یہی ہے کہ ایسا سب کچھ خدائے لم یزل کی قدرت سے ہوتا ہے۔ یہ ہمارا جز وایمان ہی نہیں عین ایمان ہے کہ اس وسیع وعریض کائنات کا سارا نظام مالک کن فیکون کے حکم سے چل رہا ہے۔ اس کے حکم کے بغیر درخت کے کسی پتے کو بھی مجال جنبش نہیں۔ ہم اپنے بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی اس کی قدرت سے پہچانی جاتی ہے۔ جب ایمان اور تیقن سے لبریز یہ بات زبان پر آتی ہے تو مظفر وارثی کی حمد باری تعالیٰ کے اشعار آفاقی سچ بن کر گونجنے لگتے ہیں

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے

دکھائی بھی جو نہ دے، نظر بھی جو آرہا ہے وہی خدا ہے

تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں، وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں

جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے، وہی خدا ہے

اللہ تعالیٰ کے نظام ہستی یا کارخانۂ قدرت کے مطالعے کو سائنس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سائنس کے بہت سارے شعبوں میں سے ایک شعبہ فلکیات کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ماہرین فلکیات نظام شمسی کا ذکر کرتے وقت ہمیں سمجھاتے ہیں کہ سورج کے گرد اپنے مدار پر گھومنے والے سیاروں میں سے ایک سیارہ وہ بھی ہے جس پر ہم بود وباش اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس سیارے کو ہم کرۂ ارض یا زمین کے نام سے جانتے ہیں۔ زمین سال بھر سورج کے گرد قائم اپنے مدار پر گھومتی رہتی ہے جس کے کارن نہ صرف زمین کے موسموں میں تبدیلی آتی رہتی ہے بلکہ وہاں دن اور رات کے دورانیہ بھی بدلتے رہتے ہیں۔ گرمی کے دنوں میں دن طویل ہوجاتے ہیں اور راتیں مختصر دورانیہ کی ہوجاتی ہیں۔ سردیوں کے موسم میں راتوں کی طوالت بڑھ جاتی ہے اور دن چھوٹے ہونے لگتے ہیں اور ہم بے اختیار ہوکر کہہ اُٹھتے ہیں کہ

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے

عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے

بتایا جاتا ہے کہ گرمی کے دنوں میں زمین سورج کے گرد اپنے مدار پرگردش کرتی اس مقام پر پہنچ جاتی ہے جہاں سے سورج کی شعاعیں سطح زمین پر عمودی پڑتی ہیں جو یہاں شدید گرمی کی تپش کا سبب بننے کے علاوہ گرمی کے دنوں کے دورانیہ میں طوالت کا باعث بھی بنتی ہیں اور یوں 22جون کا دن سال کا طویل ترین دن بن جاتا ہے۔ بعینہٖ دسمبر کی 22تاریخ کو زمین سورج کے گرد اپنے مدار کے اس مقام پر آپہنچتی ہے جہاں سورج کی شعاعوں کا ترچھا پن اپنی انتہا تک جا پہنچتا ہے اور یوں 22دسمبر کا یہ دن سال کا مختصر ترین دن بن کر ہمیں مطالعہ قدرت کی دعوت دینے لگتا ہے اور یوں ہم بے اختیار ہوکر سبحان اللہ وبحمدہٖ کا ورد کرنے لگتے ہیں۔ مغرب والے کارخانۂ قدرت کا یہ نظارہ کرنے اور اس سے محظوظ ہونے میں ہم مشرق والوں سے بہت سے قدم آگے ہیں۔ وہ سال کے مختصر ترین دن کا جشن منانے کی غرض سے ہزاروں کی تعداد میں ساحل سمندر پر پہنچ جاتے ہیں اور وہاں سال کے مختصر دن کے سورج کی تمازت کو جوہر نایاب جان کر اپنے وجود میں جذب کر نے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک نظارہ برطانیہ کی تاریخی یادگار ’سٹون بینج‘ پر دیکھنے کو ملتا ہے جہاں اس انقلاب شمسی کو دیکھنے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں زن ومرد جمع ہوجاتے ہیں اور آسمان کے مشرقی اُفق پر نظریں جما کر شاعر مشرق کے اس پیام پر عمل کرتے نظر آتے ہیں جس میں انہوں نے ان سے نہیں ہم سے کہا تھا کہ

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ

مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

متعلقہ خبریں