انصاف اور منصفین پر پھر دہشت گرد حملہ

انصاف اور منصفین پر پھر دہشت گرد حملہ

حیات آباد پشاور میں ججوں کی وین کو نشانہ بنانے کے بعد چارسدہ میں ضلع کچہری پر دہشت گردوں کے حملہ سے ملک میں انصاف کے اداروں اور منصفین کو خصوصی طور پر نشانہ بنانے کے مذموم منصوبے کی نشاندہی ہوتی ہے ممکن ہے یہ تاثر درست نہ ہو اور دہشت گردعدلیہ کی حساسیت کے باعث ا س شعبے سے تعلق رکھنے والوں اور یہاں آنے والوں کو خاصی طور پر نشانہ بنا کر زیادہ سے زیادہ دہشت پھیلا نے کے مذموم مقصد پر کار فرما ہوں بہر حال اس سے قطع نظر تمام تر تیاری کے باوجود دہشت گردوں کی ایک مرتبہ پھر عدالتی احاطے تک بحفاظت رسائی اور حملہ شروع کرنے سے قبل ان کی شناخت و نشاندہی اور روکنے میں نا کامی اپنی جگہ سوالیہ نشان ہے۔ ہمارے تئیں متوقع ہونے کے باوجود تین خودکش حملہ آوروں کی اپنے ہدف پر حملہ کرنے میں کامیابی ہمارے اداروں اور پولیس کی ناکامی اور سیکورٹی نظام کی سراسر ناکامی ہے ۔ چارسدہ شبقدر اور ارد گرد کے علاقے اس بناء پر بھی خاص طور پر حساس واقع ہوئے ہیں کہ اس سے قبل بھی چارسدہ میں دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔مارچ 2016میں بھی چارسدہ کی تحصیل شبقدر کے سیشن کورٹ میں خودکش حملے میں 2 پولیس اہلکاروں اور خاتون سمیت17 افراد ہلاک اور خواتین و بچوں سمیت30 زخمی ہوگئے تھے، جس کی ذمہ داری کالعدم گروپ جماعت الاحرار نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔جنوری 2016میں ہی چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر بھی حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں طلبہ، اساتذہ اور عملے سمیت 21افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ آپریشن کے دوران4 حملہ آوروں کو بھی ہلاک کردیا گیا تھا۔چارسدہ میں حالیہ دھماکہ ا یک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب رواں ماہ پاکستان کے مختلف شہروں میں متعدد دھماکوں کے نتیجے میں اب تک100سے زائد افراد ہلاک اورسینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔دہشت گردی کی تازہ لہر کے دوران اب تک کی کارروائیوں سے ملک میں بے چینی اور عوام عدم اطمینان کی لہر فطری امر ہے ۔امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کے اندر تازہ دہشت گردانہ لہر میں بھارت کی ایجنسی را اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی کی مشترکہ تلویث کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، کیونکہ اس وقت بھارت ہی کی ایماء پر افغانستا ن پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کی کیفیت سے گزر رہا ہے اور بھارت کے لب ولہجے کی نقل کرتے ہوئے کابل کے حکمران بھی پاکستان پر الزامات لگا رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خود افغانستان کے اندر پاکستان سے بھاگے ہوئے دہشت گردایک بار پھر اکٹھے ہو رہے ہیں اور بھارت اور بعض دیگر غیر ملکی ایجنسیوں کی ایماء پر پاکستان میںتخریبی کارروائیاں کر رہے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان نے ان دہشت گردانہ کارروائیوں کو کھلی جنگ قرار دے دیا ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد اگر ایک جانب پاکستان میں عالمی کرکٹ کے احیاء کو سبوتاژ کرنا ہے تو دوسری جانب سی پیک کے منصوبے کو نا کامی سے دوچار کرنا ہے کیونکہ سی پیک منصوبے سے نہ صرف بھارت بلکہ کچھ عالمی طاقتوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہا ہے اور بعض تجزیہ کا ر تو اس حوالے سے خود ہمارے بعض مسلمان ممالک کے اندر تشویش کا تذکرہ بھی کر رہے ہیں ، تاہم جہاں تک ملک میں دہشت گردانہ حملوں کے اس تسلسل کا تعلق ہے اس حوالے سے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل در آمد نہ کرنے پر بھی بحث ہورہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر اس پر عمل کیا جاتا تو صورتحال اس قدر سنگین نہ ہو تی ، اس ضمن میں کالعدم تنظیموں پر مکمل پابندی اور ان کے دوسرے ناموں سے اپنی سر گرمیاں جاری کرنے کا نوٹس لیا جاتا تو صورتحال کافی تبدیل ہو چکی ہوتی ، بہر حال اب بھی موقع ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر فوری طور پر توجہ دی جائے اور جولوگ ملک کے اندر باہر سے دہشت گردی کرنے کیلئے آتے ہیں اور ان کو یہاں سہولیات اور سہولت کار مہیا کئے جا تے ہیں اس صورتحال کا نوٹس لیا جا نا چاہیے ، ایک دوسری گزارش تمام سیاسی رہنمائوں سے یہ کرنابھی ہے کہ خدارا اس قومی سانحے کو سیاسی سکورنگ کیلئے استعمال کرتے ہوئے الزامات اور جوابی الزامات کی کوششیں نہ کی جائیں بلکہ ایک متحدہ قوم ہونے کا مظاہر ہ کرتے ہوئے ملک دشمن قوتوں کے خلاف سیکورٹی ایجنسیوں کا ساتھ دیا جا ئے تاکہ اس غیر معمولی صورتحال سے باہر نکلنے میں قوم کامیاب ہو سکے ۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ سفارتی ، سیاسی اور عسکری اور عوامی اقدامات بھی اٹھانے کی ضرورت ہے قوم کو اعتماد میں لیکر اس پر واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ مختصر نہیں بلکہ طویل جنگ ہے جس میں اس وقت تک کا میابی ممکن نہیں جب تک کہ قوم کاایک ایک فرد حکومت کے شانہ بشانہ کھڑا نہیں ہوگا اس امر کی بجا طو رپر توقع ہے کہ ماضی میں ہر مشکل وقت میںاتحاد اور استقامت کا مظاہرہ کرنے والی قوم حکومت کو آئندہ بھی مایوس نہیں کرے گی ۔

اداریہ