Daily Mashriq

سرکاری کالجوں میں وائی فائی کی مفت سہولت

سرکاری کالجوں میں وائی فائی کی مفت سہولت

طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں سہولت اور معاونت کے طور پر سرکاری کالجوں میں وائی فائی کی مفت سہولت کی فراہمی اور تعلیمی اداروں میں سمارٹ کلاسز متعارف کرانے کے اقدام کی افادیت تو مسلمہ ہے اس کی مخالفت کسی طور نہیں کی جاسکتی۔ یہ سہولت پشاور یونیورسٹی میں پہلے ہی سے موجود ہے۔ اس سہولت کے مثبت استعمال کی ہر طور حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ طلبہ سے اس امر کی بجا طور پر توقع بھی ہے کہ وہ اس سہولت کا مثبت استعمال کریں گے ۔ اگرچہ یہ سہولت اس ہر اینڈ رائیڈ موبائل پر دستیابی کے طور پر تقریباً ہر طالب علم کے بس میں ہے اس کی روک تھام کا کوئی طریقہ نہیں سوائے اس کے کہ اس کا غلط استعمال کرنے والا صارف از خود اس سے رک جائے۔ اس کے باوجود کالجوں میں اس سہولت کی فراہمی میں اس بناء پر بھی احتیاط کی ضرورت ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے بعض سائٹس اور فیس بک کا استعمال نا ممکن بھی بنا دیا جائے تب بھی طالب علم اگر اسے ضیاع وقت کے حامل امور کے لئے استعمال کرنا چاہیں تو ان کو روکنا ممکن نہ ہوگا۔ خاص طور پر کالجوں اور ہاسٹلوں میں غیر طالب علم عناصر کی اس سہولت کے باعث آمد و رفت میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ علاوہ ازیں بھی مختلف قباحتیں سامنے آسکتی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اس سہولت کی فراہمی بہر حال ہونی چاہئے۔ انتظامیہ اس امر کو اپنے طور پر تکنیکی طور پر یقینی بنائے کہ طالب علم اس کا مثبت استعمال کر رہے ہیں۔ آئی ٹی کے ماہرین اس کے استعمال پر مسلسل نظر رکھیں اور اگر کوئی طالب علم اس کا غلط استعمال کرنے کی سعی کرے تو اسے ناکام بنا دیا جائے اور ہوسکے تو اس طالب علم کا سراغ لگا کر اس کی ذہنی اور نفسیاتی تربیت اور کونسلنگ کی جائے تاکہ وہ نہ صرف کالج کے احاطے میں بلکہ کسی آزاد ماحول میں جا کر بھی وہ انٹرنیٹ پر کوئی معیوب سرگرمی نہ کرے۔ طالب علموں بالخصوص نوجوانوں اس کو اس امر کا احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ خواہ کتنی بھی راز داری سے کام انجام دیں ان کی کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی۔ اب تو ٹیکنالوجی ہی کے باعث ایسا ممکن ہے جبکہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ بڑے عارکی بات ہوگی کہ ہم انسانوںیہاں تک کہ نا سمجھ بچوں کی نظروں سے بھی بچ کر اپنے تئیں احتیاط سے کوئی فعل انجام دے رہے ہوتے ہیں مگر ہر وقت اور ہر جگہ دیکھنے والی ذات سے ذرا بھی عار محسوس نہیں کرتے۔ ہمیں اگر صرف اتنی سی بات کی سمجھ آجائے تو ہم میں سے کوئی بھی شخص کسی بھی جگہ کوئی ایسا کام کر ہی نہیں سکے گا جسے اخفاء میں رکھنے کی ضرورت ہو۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت کی مہیا کردہ اس سہولت کا مثبت استعمال یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے اور طالب علم اساتذہ اور کالجوں کی انتظامیہ بھی اس ضمن میں اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے اور اس کے مثبت استعمال سے تعلیمی سرگرمیوں میں جدت لائی جائے گی اور نت نئی معلومات اور مفید علم کے حصول میں اس سہولت کو ذمہ داری سے بروئے کار لایا جائے گا۔
پودوں کی عدم فراہمی پر احتجاج کی نوبت کیوں؟
ٹائون ٹو کے حکومتی اور حزب اختلاف کے ممبران کی جانب سے پودوں کی فراہمی میں نظر انداز کئے جانے پر وزیر جنگلات کے خلاف احتجاج کا اعلان اور پودے فروخت کرنے کا الزام بلین ٹرین سونامی کے منصوبے کے حاملین کے دعوئوں پر سوالیہ نشان ہے۔ پودوں کی ایک مرتبہ فراہمی خواہ حقیقتاً اور واقعتا ہو یا پھر اس کا دعویٰ کیا جائے بعد ازاں اس کا کوئی ثبوت سامنے لانا دشوار امر ہوتا ہے کیونکہ پودے لگانے کے بعد ان کے سوکھنے جانور کھانے اور کوئی اکھاڑ لے جانے کا کوئی ثبوت نہیں ہیں ہوتا ایسے میں پہلے ہی سے اگر محولہ صورتیں فرض کرکے سرے سے پودے مہیا ہی کئے بغیر پودوں کی فراہمی کا کھاتہ ڈال دیا جائے تو اس کے واقعی اور غیر واقعی ہونے کو ثابت کرنا مشکل ہے۔ ان امور کے پیش نظر بلین سونامی بڑے پودوں کی فروخت محض الزام ہے یا نہیں اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ اپنوں کو نوازنے اور مبینہ خورد برد کی بازگشت پہلے بھی سنی گئی تھی ایسے میں ٹائون ممبران کا احتجاج اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے جس کی نوبت نہیں آنی چاہئے تھی ۔ صوبائی حکومت کے نمائندوں کو بلین سونامی ٹری کے پودوں کی عدم موجودگی کے وفاقی وزراء کے بیانات سے تو تکلیف ہوتی ہے لیکن یہ جادواب صوبائی دارالحکومت کے ایک ٹائون میں سر چڑھ بولنے لگا ہے۔ اس کی متعلقہ حکام کے پاس کیا توجیہہ ہے؟ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ صوبے میں شجرکاری کا دعویٰ حقائق سے میل نہیں رکھتا۔ اگر منتخب بلدیاتی نمائندوں ہی کو شکایت ہے تو پھر پودے کن افراد میں تقسیم کئے گئے اور پودے کہاں کہاں اور کن ذریعوں اور واسطوں سے لگائے گئے۔ جن شعبوں میں عوام کی شمولیت اور منتخب نمائندوں کی اعانت مطلوب اور احسن ہے اگر ان شعبوں میں بھی ان کو نظر انداز کیا جائے تو عوام اور ان کے نمائندوں کی حکومت سے توقعات کیسے پوری ہوں گی اور اعتماد کا رشتہ کیسے پیداہوگا؟۔

اداریہ