Daily Mashriq

شکست کا کوئی آپشن نہیں

شکست کا کوئی آپشن نہیں

پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کی وجوہات میںسوائے اس کے کچھ اور دکھائی نہیں دیتا کہ دہشت گرد پاکستان میں تبدیل ہونے والی فوجی قیادت کے بعد پاکستان کے رویے کا اندازہ کرنا چاہتے تھے۔جنرل راحیل شریف کی رخصتی کے بعد فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہو گئی اور رفتہ رفتہ یوں لگا کہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں قائم ہونے والا دبائو تحلیل ہو تا جا رہا ہے ۔اس عرصے میں دہشت گردی کی چھوٹی وارداتیں ہوئیں مگر اس کے ردعمل نے دہشت گردوں کو جنرل راحیل کے بعد کے منظر نامے کو سمجھنے میں مدد نہیں دی کیونکہ ریاست نے ان واقعات پر غیر معمولی تحرک دکھانے کی کوشش نہیں کی ۔یوں لگا کہ جنرل راحیل کے غیر معمولی تحرک کے ردعمل میں غیرمعمولی جمود کا رویہ سسٹم پر غالب آرہا ہے ۔اس مخمصے سے نکلنے کی خاطرہی دہشت گردوں نے اپنی پوری صلاحیتوں کو متحرک اور نیٹ ورک کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے طول وعرض میں تباہی پھیلادی ۔یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کا کمزور ردعمل اعصابی جنگ میںدہشت گردوں کو نہ صرف حتمی فتح دیتا اور پھر عوام کا ریاست اور ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہونے میں طویل وقت لگتا دوسرا یہ کہ پاکستان کی فوجی قیادت جو آپریشنوں کو آگے بڑھارہی ہے اور اگلے مورچوں پر لڑ رہی ہے عوام میں ڈس کریڈٹ ہوجاتی ۔چند دھماکوں میں ہی لوگوں نے ''تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد'' کے اندازمیں جنرل راحیل شریف کو یاد کرنا شروع کردیا تھا۔دہشت گرد اور ان کے سرپرست اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ جنرل راحیل کے بعد ریاست ایک بار پھر طاقت کی کشمکش کی رسی پر ڈولنے لگی ہے اور اس کشمکش کا فائدہ اُٹھا کر وہ خود کو منظم کرنے میں کامیاب ہو ں گے۔وہ ریاست کی طاقت کا غلط اندازہ لگا بیٹھے ۔انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ پاکستان جس جنگ کو لڑنے پر مجبور ہے یہ کسی طور بھی 65اور71کی جنگوں سے مختلف نہیں ۔فرق صرف یہ ہے کہ اس بار روایتی اور دیرینہ دشمن مشرق کی بجائے مغرب کی سمت سے بھیس بدل کر آدھمکا ہے۔دشمن کا طریقہ واردات اور جنگ کا ڈھنگ بدل گیا ہے۔اس جنگ میں ہزاروں بے گناہ شہریوں اور ہزاروں فوجیوں کا لہو بہا ہے ۔اس جنگ کی قیمت ماضی کی تمام کھلی جنگوں سے زیادہ بھاری ہے۔پاکستان کی نئی فوجی قیادت نے فوری اور موثر ردعمل سے اعصابی جنگ میں دشمن کو بھرپور جواب دیا اور دشمن کو یہ اندازہ ہوگیا کہ پاکستان میں جاری جنگ کسی فرد کی نہیں بلکہ ریاست کی لڑائی ہے اور فوج بطور ادارہ اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کرچکی ہے ۔سیہون درگاہ پر حملے کے بعدحکومت نے افغانستان کو ملانے والے اہم راستوں کی طورخم اور چمن کی بندش کا فیصلہ کرکے فوری ردعمل کا اظہار کیا ۔اس کے بعد مرحلہ وار اقدامات اور ردعمل کا سلسلہ شروع ہوا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے دائیں بائیں جانے کی بجائے افغانستان میںا مریکی فوج کے کمانڈر جنرل نکلسن کو ٹیلی فون کرکے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے ۔کسی ذریعے سے اس بات کی تصدیق تو نہیں ہوئی کہ پاکستان نے امریکی کمانڈر اور سفارت خانے کو ان مطلوب افراد کی فہرست بھجوائی جو افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا خونین کھیل کھیل رہے ہیں ۔افغان جنرل نے یہ تسلیم کر کے کہ انہیں دوسرے ذرائع سے بھی پاکستان کی بھجوائی گئی فہرست ملی ہے امریکہ کی جانب ہی اشارہ کیا ہے ۔کوئی یہ بات تسلیم کرے یا نہ مگر حقیقت یہی ہے کہ افغانستان پر اصل اثر رسوخ امریکہ کا ہے اور افغانستان میں تمام پالیسیوں پر امریکہ کا کنٹرول ہے ۔کابل حکومت امریکہ کے فوجی سہارے پر کھڑی ہے ۔امریکی فوج کی چھتری نہ ہو تو کابل حکومت طالبان کی یلغار کے آگے خس وخاشاک کی مانند بہتی چلی جائے۔جنرل باجوہ نے افغانستان کی اصل حکمران طاقت امریکی فوج کو شکایت لگا کر بتادیا کہ ریت کی بوری سے بات کرنے کا فائدہ نہیں بلکہ ریت کی بوری کے پیچھے چھپے انسان سے بات ہی مسئلے کو حل کرسکتی ہے ۔اس طرح پاکستان نے امریکہ کو بتادیا کہ افغانستان میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کی سرپرستی میں امریکہ کا نام سرفہرست ہے۔اس کے بعد افغان نائب سفیر کو جی ایچ کیو طلب کر کے زبردست احتجاج کیا گیا اور افغانستان میں چھپے بیٹھے چھہتر افراد کی فہرست تھما دی گئی ۔تیسرا اور اہم ردعمل زبانی کی بجائے عملی تھا جس میں پاک فوج نے افغانستان کی حدود میں دہشت گرد گروپوں کے ٹھکانوں کو ہدف بنایاجس میں کئی ٹریننگ کیمپ تباہ ہو گئے اور یہ جنرل راحیل شریف کی پالیسی سے دوقدم آگے بڑھنے کی پالیسی تھی ۔جس سے افغانستان وہاں موجود امریکہ اور دہشت گردوں کو یہ پیغام ملا کہ پاکستان اپنے مطلوب لوگوں کے تعاقب میں ڈیورنڈ لائن کے اندر داخل ہو سکتا ہے ۔پاکستان کا یہ جارحانہ رویہ امریکہ ،افغان حکومت اور دہشت گردوں تینوں کے وہم وگمان میں نہیں تھا۔دہشت گردوں کے گرم تعاقب کا دبائوافغانستان پر قائم رہنا چاہئے ۔جب تک افغانستان میں قیام اور زندگی ان کے لئے دشوار نہیں ہوتی انہیں پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے باز نہیں رکھا جا سکتا۔افغانستان کے ساتھ تلخی اب ایک حقیقت ہے ۔بہت مہارت سے پاکستان کے لئے خطرات کو مشرقی سرحد سے مغربی سرحد کی طرف موڑدیا گیا ہے۔ اب اس میں مشرق اورمغرب کی تمیز روا رکھنا اس لحاظ سے مشکل ہے کہ مغرب میں بھی کھلاڑی وہی ہے جو مشرق کا آزمودہ اور دیرینہ دشمن ہے ۔دہشت گردی کی اس لہر نے ریاست کی داخلی کمزوریوں کو بھی پوری طرح عیاں کر دیا جس میں سر فہرست یہ ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے دبائو کو مستقل بنانے،ثمرات سمیٹنے اور اسے سیاسی طاقت میں بدلنے میں تساہل اور تاخیر نے ایک ایسے خلاء کو جنم دیا جسے دہشت گردوں نے پُر کرنے کی کوشش کی ۔اب یہ سبق ازبر ہوناچاہئے کہ ریاست دوبارہ اس تجربے کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔

اداریہ