Daily Mashriq

دہشتگردی کی جڑ کیخلاف آپریشن

دہشتگردی کی جڑ کیخلاف آپریشن

سلامتی کسی بھی ملک کے قومی مفاد کا بنیادی جز ہوتی ہے۔ پاکستان کی قومی سلامتی کو درپیش مسائل ہم سب پر آشنا ہیں۔ دہشتگردی کچھ عرصہ تک ضرب عضب کی ضرب کا شکار رہنے کے بعد دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔ یہ صورتحال یقیناً فوجی آپریشن میں ایک دفع پھر تیزی لائے گی لیکن ہمیں اب دور رس اقدامات کی ضرورت ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ہمیں اسکی نفسیاتی جڑوں کے ساتھ اسکی اقتصادی جڑوں کو بھی کاٹنا ہوگا۔ گزشتہ چند سالوں میں دہشتگردی کے خلاف لڑنے والے مختلف ذرائع نے یہ تصدیق کی ہے کہ رشوت، جرم اور دہشتگردی کا آپس میں چولی دامن والا ساتھ ہے۔ دہشتگردی کے خلاف اصل جنگ ہم تب ہی جیت سکتے ہیں جب اسکی مدد کرنے والے جرائم پر قابو پائیں گے۔ اسکے علاوہ ہمیں اپنی داخلی و خارجہ پالیسی سطح پر بھی کچھ مضبوط فیصلے کرنے ہوں گے جن سے اداروں کے درمیان اس جنگ کے خلاف لڑنے کی مماثلت بڑھے۔ ہمارے سیکورٹی اسٹرکچر کا جائزہ لیا جائے تو اندرونی سلامتی کا سب سے پہلا اور اہم ستون پولیس کا ادارہ ہے۔ فوج کا کام بیرونی سازشوں اور خطروں سے نمٹنا ہے۔ آپریشن ضرب عزب میں حاصل ہونے والی کامیابی زیادہ موثراور دیرپا ہوتی اگر ہمارا پولیس کا نظام جرم اور رشوت کے گھنائونے میلاپ کو کچلنے کیلئے بھی ایک ضرب عضب لگاتا۔ لیکن دہشتگردی کی اس تازہ لہر نے ثابت کیا ہے کہ ہمارے ملک کی معاشی، سیاسی اور سماجی رگوں میں جرم اور رشوت کا زہر دہشتگردی جیسے اژدھوں کو تب تک پالتا رہے گا جب تک ہم قانون اور انصاف کو اپنی منزل نہیں بناتے۔ آج کے زمانے میں عام روایتی جرائم مثلاً ڈکیتی، اغوا، چوری، اور منشیات فروشی کو دہشتگردی، فرقہ واریت اور جنونیت سے الگ کر کے نہیںسوچاجاسکتا۔رشوت،جرم اوردہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں کامیابی کیلئے ہمیں کچھ بنیادی مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ہمیں پاکستان کے انسداد دہشتگردی قوانین کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ ان کی افادیت اور ضرورت کو با معنی بنایا جا سکے۔ اس وقت پاکستان میں انسداد دہشتگردی کے کم و بیش نو مختلف قوانین موجود ہیں۔ ان میں انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997، کیمیکل وپین کنونشن ایمپلی منٹیشن آرڈیننس 2000، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010، نیکٹا ایکٹ 2013، انویسٹی گیشن فار فیئر ٹرائل ایکٹ 2013، انسداد دہشتگردی ایکٹ (پہلی اور دوسری ترمیم)، پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ 2013 اور اسی ایکٹ کی پہلی ترمیم شامل ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے 1996ء سے اب تک مختلف ممالک کے ساتھ کئے گئے انسداد دہشتگردی سے متعلق 24 معاہدوں کا بھی از سر نو جائزہ لینا چاہئے اور دیکھا جائے کہ جرم اور بد عنوانی کی روک تھام میں یہ معاہدے کس قدر کارآمد ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان معاہدوں کو ہمارے نئے ابھرتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات کے پس منظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اور اس سلسلے میں سب سے اہم کام یہ کیا جائے کہ بدعنوانی، جرائم کی روک تھام اور انسداد دہشتگردی پر کام کرنے والے مختلف اداروں کی ضرورت،کارکردگی اور آپس میں روابط کا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد انکی ازسرنو تشکیل کی جائے جو حالیہ اور آئندہ سالوں میں بھی ہماری ضرورت کے عین مطابق ہو۔ ان میں کچھ اداروں اور ان کی چیدہ چیدہ ذمہ داریاں یہ ہیں۔صوبے کے انسپکٹر جنرل کے ماتحت کام کرنے والا ادارہ پاکستان پولیس تقریباً ساڑھے چارلاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ اس میں پنجاب پولیس، سندھ پولیس، بارڈر ملٹری فورس، بلوچ لیویز، کے پی پولیس، چترال بارڈر پولیس، آزاد کشمیر پولیس، فاٹا لیویز اور خاصادار فورس شامل ہیں۔ پولیس اور اسکی ذیلی تنظیموں کی آئینی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ جرائم اور بدعنوانی کے خاتمے کیساتھ ساتھ وہ اشتعال انگیزی اور دہشتگردی کا مقابلہ کریں گی۔ لیکن بدقسمتی سی اس اور اسکے ذیلی اداروں کی سرپرستی اور نگرانی کی بجائے پولیس کو رشوت اور اقربا پروری جیسی جان لیوا سماجی نحوستوں میں دھکیل دیا گیا۔ بلکہ ریلوے، موٹروے، ایئرپورٹ سیکورٹی، میری ٹائم سیکورٹی، اسلام آباد پولیس اور سروسز انٹیلی جنس جیسی وفاقی پولیس اکائیوں نے ملک میں پولیس کا کام اور پہچان ایک عام آدمی کے لئے مشکل اور کچھ صورتوں میں تو بے سود بنادی۔ جبکہ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایک ہی پولیس وردی والا شخص ٹریفک سنبھالنے سے لیکر انتہائی خطرناک کامبیٹ آپریشن کرتے ہوئے دکھائی دے گا۔ موجودہ حالات میں تو پاکستان رینجرز اور فرنٹیئر کور بھی پولیس کیساتھ ملکر دہشتگردی کی روک تھام کیلئے کام کر رہے ہیں جبکہ انسداد دہشتگردی کے لئے بنائے جانے والے اسپیشل اسکواڈز اور ٹیمیں اسکے علاوہ ہیں۔ پاکستان کو جس قسم کی دہشتگردی اور سیکورٹی مسائل کا سامنا ہے اس میں تو ان اداروں کے درمیان بروقت معلومات کا تبادلہ اور جامع منصوبہ بندی ہونی چاہئے۔ جرم، رشوت اور دہشتگردی کے درمیان بنتا ہوا یہ گٹھ جوڑ صرف ایک آپریشن سے نہیں بلکہ جامع منصوبہ بندی سے ہی توڑا جا سکتا ہے۔ ہماری پولیس لاکھ تنقید کے باوجود فوج اور رینجرز کے ساتھ مل کر ان دہشتگردوں سے لڑ رہی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پالیسی ساز ادارے اور حکمران دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندرونی سلامتی والے اداروں کی ازسرنو تشکیل کریں اور دہشتگردی کو صرف خودکش حملوں تک نہیں بلکہ اس کی جڑ تک ختم کرنے کی ٹھان لیں۔

اداریہ