بہادر ٹرمپ مخالف میڈیا کے سامنے بے بس!

بہادر ٹرمپ مخالف میڈیا کے سامنے بے بس!

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی میڈیا کا اپنی پوری انتخابی مہم کے دوران جم کر مقابلہ کرتے رہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی میڈیا نے اپناتختہ مشق سمجھ لیاتھا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ امریکا میں ایک ایسے صدارتی امیدوار تھے جو انتخابی معرکے کے روایتی دائو پیچ نہ تو جانتے تھے اور نہ ہی ان پر عمل کرنا چاہتے تھے۔وہ عوام کے لیے زبردست کشش رکھتے تھے اور دانشوروں کی رائے کو زیادہ اہمیت دینے کے قائل نہیں تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیاکو زیادہ اہمیت نہیں دی اور اس طرح میڈیاکے اعصاب پر سوار ہوگئے، اس حکمت عملی کے تحت انہوں نے کچھ خرچ نہ کرکے بھی ٹی وی اور اخبارات میں زیادہ وقت اور جگہ حاصل کی اور اس طرح اپنا مدعا عوام تک بہترانداز میں پہنچانے میں کامیاب ہوگئے۔اس کے برعکس ان کی مدمقابل امیدوار ہیلری کلنٹن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران میڈیا پر ایک بلین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اخراجات اس کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھے۔لیکن اتنا کم خرچ کرنے کے باوجود وہ ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں زیادہ دیر تک میڈیا پر نظر آتے رہے۔امریکا کی انتخابی مہم کے دوران میڈیا کوریج کی بہترین پلاننگ کرنے والا کوئی فرد بھی یہ سوچ سکتاہوگا کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدر بن جائیںگے۔یہی وجہ ہے کہ سی این این جیسے میڈیا کے اداروں نے بھی اپنی توپوں کارخ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف موڑ رکھاتھا۔میڈیا ڈونلڈ ٹرمپ کو تفریح کاذریعہ بنائے ہوئے تھا، کوئی ان کو سنجیدگی کے ساتھ صدارتی امیدوار سمجھنے کوتیار ہی نہیں تھا۔یہی وجہ تھی کہ اس وقت تک ہرایک یہی سمجھ رہاتھا کہ وہ انتخابات نہیں جیت سکتے۔لیکن انہیں مقابلے سے روکنے یا دستبردار ہونے پرمجبور کرنے کا وقت گزر چکاتھا اور ڈونلڈ ٹرمپ امریکی عوام میں ایک امیج بنانے میں کامیاب ہوچکے تھے۔ان کی مقبولیت کا آغاز ہوچکاتھا، اور عوام میں ان کی ایک شبیہہ بن چکی تھی۔عوام میں اپنی مقبولیت پیدا کرنے میں ان کی یہی کامیابی تھی جس نے انہیں انتخابی معرکے میں کامیابی سے ہمکنار کیا۔لیکن ان کی کامیابی کے بعد میڈیا نے ان کے خلاف باقاعدہ جنگ کا آغاز کردیا۔سابق صدر بارک اوباما نے میڈیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کررکھے تھے،جس کی وجہ سے میڈیا کی اکثریت ان کی حامی تھی، اس کے باوجود وہ میڈیا کی تنقید کابہت خیال رکھتے تھے اور اس کافوری نوٹس لیاکرتے تھے۔یہ بھی کہاجاتاہے کہ اپنے مخالف میڈیا کو مزہ چکھانے کے معاملے میں وہ امریکا کے ماضی کے تمام صدور سے بہت آگے تھے اور وہ اپنے مخالف میڈیا کو بخشنا جانتے ہی نہیں تھے۔ میڈیا کو سزا دینے کاان کاایک بڑ ا حربہ مخالف میڈیا کو اپنی سرگرمیوں کی کوریج کی اجازت نہ دینا، اپنی سرگرمیوں اور تقریبات میں مخالف میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کردینااور اپنے دوروں میں مخالف میڈیا کے ارکان کو شامل نہ کرناتھا۔اس کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ کاایک بڑامسئلہ یہ ہے کہ وہ بہت جذباتی واقع ہوئے ہیں۔وہ محاذ آرائی کو دعوت دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی محاذ آرائی کے ذریعے وہ مخالف میڈیا اور صحافیوں کاصفایا کرسکتے ہیں۔ان کی یہ عادت آگے چل کر ان کے لیے نقصان کاسبب بن سکتی ہیں کیونکہ وہ زچ ہوسکتے ہیں اور اس طرح اس قسم کی لڑائی انہیں تباہ کرسکتی ہے۔دوسری جانب ان کے مخالف ڈیموکریٹس حلقے معاشرے میں بہت مقبول ہیں ،معاشرے میں ان کی جڑیں بہت مضبوط ہیں ان کے خواتین کی انجمنوں اور تنظیموں سے بھی روابط بلکہ بہت اچھے تعلقات ہیں،اقلیتی اور نسلی برادریوں کے ساتھ بھی ان کے قریبی تعلقات ہیں،معذوروں کی تنظیموں کے ساتھ بھی ان کے روابط ہیں یعنی ان کے تعلقات اور روابط کی ایک طویل فہرست ہے اور وہ وقتا ً فوقتاً ان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ اس طرح یہ کہاجاسکتاہے کہ وہ اگلے 4سال تک ڈونلڈ ٹرمپ کو مظاہروں اوراحتجاجات میں ہی گھیرے رکھ سکتے ہیں۔وہ مقبول تنظیموں کو ٹرمپ کے خلاف ہتھیار کے طورپر استعمال کرتے رہیں گے۔اس کامظاہرہ صدر بننے کے بعد پہلی مرتبہ میڈیاکاسامنا کرنے پر انہیں ہوچکاہے ، کہ کس طرح میڈیانے انہیں زچ کرنے کی کوشش کی اور وہ اپنے غصے اور جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور اسی انداز میں جواب دئیے جو ان کا مخالف میڈیا چاہتاتھا۔صدر کی حیثیت سے ڈونلڈ ٹرمپ صحافیوں کے سامنے ان پر چیخ سکتے ہیں، انہیں برابھلا کہہ سکتے ہیں لیکن ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے یہاں تک کہ وہ انہیں میڈیاکوریج سے بھی نہیں روک سکتے کیونکہ ایسی صورت میں ان کی کارکردگی، ان کی مصروفیات عوام اور دنیا کی نظروں سے اوجھل رہیں گی اور ایک بڑی طاقت کا صدر ہونے کے باوجود وہ پوری دنیا میں تنہائی کاشکار ہوجائیں گے۔آخر کار انہیں مصالحت پر مجبور ہونا پڑے گا، انہیں یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا کہ مخالف اور غضبناک میڈیا کامقابلہ جارحانہ انداز میں کرنے سے بہتر ان کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کے تحت گزارہ کرنا ہے۔

اداریہ